• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سانحہ گل پلازا: ڈی جی ایس بی سی اے کو سوالنامہ جاری، مکمل ریکارڈ طلب

فائل فوٹو
فائل فوٹو

کراچی میں سانحہ گل پلازا کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کو سوالنامہ جاری کردیا۔

سانحہ گل پلازا سے متعلق جوڈیشل کمیشن کا اجلاس جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں ہوا۔

 اجلاس میں ڈپٹی کمشنر جنوبی، پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ، ڈی جی ایس بی سی اے، سی ای او واٹر کارپوریشن اور گل پلازا ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا شریک ہوئے۔

جسٹس آغا فیصل نے تنویر پاستا کی عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی، بعد ازاں تنویر پاستا اجلاس میں پیش ہوگئے۔

سی ای او واٹر کارپوریشن نے بتایا کہ تمام ہائیڈرنٹس پر ہنگامی حالت نافذ تھی اور قریبی ہائیڈرنٹ 14 کلومیٹر دور ہے۔

 ان کا کہنا ہے کہ 15 ہائیڈرنٹس سے روزانہ 6 گھنٹے فائر ٹینڈرز کو پانی فراہم کیا جاتا ہے جبکہ فائر بریگیڈ ہیڈ کوارٹر میں یومیہ 10 لاکھ گیلن پانی کا ٹینک موجود ہے۔

جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ پہلے 2 گھنٹوں میں کتنا پانی استعمال ہوا ہوگا؟ 

سی ای او کے مطابق ایک گھنٹے میں 20 ہزار گیلن پانی استعمال ہوتا ہے، اس حساب سے 2 گھنٹوں میں 40 ہزار گیلن پانی استعمال ہوا ہوگا۔

جسٹس آغا فیصل نے ریمارکس دیے کہ 24 گھنٹوں میں بھی پانی کی کمی نہیں ہونی چاہیے تھی۔

سینئر ڈائریکٹر لینڈ کے ایم سی نے بتایا کہ 1884ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کو 99 سالہ لیز دی گئی تھی۔

 جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ کیا رجسٹر میں اندراج سے ملکیت ہو جاتی ہے اور لیز کس قانون کے تحت جاری کی گئی؟  کوئی انفرادی شخص لیز جاری نہیں کرسکتا، میونسپل کمشنر کو آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا گیا۔

تنویر پاستا نے بتایا کہ 2003ء میں بیسمنٹ سے پارکنگ ختم کر کے چھت پر پارکنگ بنائی گئی، گل پلازا میں 1153 دکانیں ہیں اور دکانداروں سے 1500 روپے ماہانہ مینٹیننس وصول کی جاتی تھی، آگ لگنے کے وقت 6 چوکیدار موجود تھے جبکہ 40 رضاکاروں میں سے 5 جاں بحق ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ عمارت میں 280 کیمرے نصب تھے اور بیسمنٹ میں ریکارڈنگ کا نظام موجود تھا، تاہم دفتر کا ریکارڈ جل چکا ہے۔ 

ڈی جی ایس بی سی اے نے بتایا کہ 1979ء میں بلڈنگ پلان منظور ہوا، 1991ء میں پرانی تاریخ سے لیز میں توسیع کی گئی اور 1998ء میں نظرثانی شدہ پلان منظور ہوا، جس میں 150 غیر معیاری دکانیں تعمیر کی گئیں۔ 2003ء میں حکومتی پالیسی کے تحت اسے ریگولرائز کیا گیا۔ 

جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ ایس بی سی اے کہتا ہے جب تک شکایت نہ ہو کارروائی نہیں کرسکتے، آج ایک اور واقعہ ہوا ہے جس میں 16 لوگ جاں بحق ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ 40 سے 50 گز پر وہ عمارت بنی ہوئی تھی، 40 سے 50 گز پر ہائی رائز عمارت کی اجازت ہوسکتی ہے، اس عمارت کی بھی کسی نے شکایت نہیں کی ہوگی۔

کمیشن نے ایس بی سی اے سے 47 سوالات کے جوابات اور مکمل ریکارڈ طلب کرلیا۔

پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق ابتدائی طور پر 8 زخمیوں کو اسپتال لایا گیا جبکہ اتوار کی صبح 6 قابل شناخت لاشیں لائی گئیں، مجموعی طور پر 66 ناقابل شناخت لاشیں باقی رہیں، 20 لاشوں کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے ہوئی جبکہ دیگر باقیات سے نمونے حاصل نہ ہوسکے۔

 ان کا کہنا ہے کہ زیادہ درجۂ حرارت میں 4 سے 5 گھنٹوں میں ڈی این اے ختم ہوسکتا ہے اور اموات کی بنیادی وجہ دم گھٹنا تھا۔

ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو نے بتایا کہ آگ لگنے کے بعد فوری کارروائی کی گئی اور 20 سے 30 منٹ میں متعدد افراد کو نکالا گیا، عمارت کے 6 سے 8 دروازے کھلے تھے جبکہ مزید دروازے بھی کھولے گئے۔

 انہوں نے کہا کہ آگ کی شدت کے باعث ریسکیو اہلکار اندر داخل نہ ہو سکے۔

کمیشن نے گل پلازا انتظامیہ سے 72 سوالات کے جوابات طلب کرلیے اور اجلاس پیر تک ملتوی کردیا، میونسپل کمشنر کو نوٹس جاری کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔

قومی خبریں سے مزید