خیبر پختونخوا میں ڈویژنل فاریسٹ آفیسر محکمہ جنگلات سوات پر 6 کروڑ 66 لاکھ روپے خرد برد کا الزام ہے۔
پشاور سے صوبائی محکمہ خزانہ کے مطابق مزید تقریباً 9 کروڑ سے زائد سرکاری فنڈز ملازم نے ذاتی بینک اکاؤنٹ میں منتقل کیے، 93 لاکھ روپے ریکور کرکے سرکاری خزانے میں جمع کر دیے گئے۔
محکمہ خزانہ خیبر پختونخوا نے محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات و جنگلی حیات کو خط تحریر کیا ہے۔
خط کے متن کے مطابق ملوث ملزمان کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج فوری کیا جائے، ملوث ملزمان کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کیلیے کارروائی کی جائے۔
صوبائی محکمہ خزانہ کے مطابق کلیئرنس سے قبل چیک میں درج رقم کو ہندسوں اور الفاظ دونوں میں تبدیل کیاجاتا، تبدیل شدہ چیکس بینک سیدو شریف سوات میں لازمی تقاضے پورے کیے بغیر کلیئر کیے گئے۔
صوبائی محکمہ خزانہ کے مطابق سات سال کے عرصے کے دوران فیڈرل ٹریژری رولز اور دیگر سنگین خلاف ورزیاں کی گئیں۔
اطلاع ملنے پر محکمہ خزانہ نے ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس و بینک حکام سے رابطہ کیا۔
صوبائی محکمہ خزانہ کے مطابق ملزم سے 93 لاکھ ریکور کرکے سرکاری خزانے میں جمع کرا دیے گئے، تحقیقات میں پیشرفت کے ساتھ مزید معلومات جاری کی جائیں گی۔