قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس اینڈ ریونیو کی جانب سے قومی بجٹ کی منظوری کے موقع پر یہ بات سامنے آئی کہ پاکستان کے قرضے اور سود کی ادائیگیاں دفاعی بجٹ سے تجاوز کرگئی ہیں اور ہر سال ان کی ادائیگیوں میں اضافہ ہورہا ہے جو لمحہ فکریہ ہے۔ 2020-21ءکے بجٹ میں ہمارے دفاعی اخراجات 1289ارب روپے تھے جبکہ قرضوں اور سود کی ادائیگیاں 2964ارب روپے تھیں۔ 2021-22 ءمیں دفاعی اخراجات 1370 ارب روپے تھا جبکہ قرضوں اور سود کی ادائیگیاں 3060ارب روپے تک پہنچ گئی تھیں۔ 2022-23ء میں دفاعی اخراجات 1563ارب روپے تھے جبکہ قرضوں اور سود کی ادائیگیاں 3950 ارب روپے تک پہنچ گئے۔ 2023-24ءمیں دفاعی اخراجات 1804ارب روپے تھے جبکہ قرضوں اور سود کی ادائیگیاں 7303ارب روپے تک جاپہنچیں۔ 2024-25ء میں دفاعی اخراجات 2122 ارب روپے تھے جبکہ قرضوں اور سود کی ادائیگیاں ریکارڈ 9775ارب روپے تک پہنچ گئیں۔
رواں مالی سال 2025-26ءکے بجٹ میں اب تک دفاعی اخراجات 2550ارب روپے کے مقابلے میں قرضوں اور سود کی ادائیگیوں کا تخمینہ 8207 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ گزشتہ مالی سال 2024-25 کا مجموعی بجٹ 18900ارب روپے تھا جس میں قرضوں اور سود کی ادائیگیاں مجموعی بجٹ کا 52 فیصد تھیں یعنی وفاقی حکومت کا ہر دوسرا روپیہ قرضوں اور سود کی ادائیگیوں پر خرچ ہورہا ہے جس کی اصل وجہ اضافی قرضے، بلند شرح سود اور روپے کی قدر میں کمی ہے۔ جب بجٹ کے آدھے سے زیادہ پیسے قرضوں اور سود کی ادائیگیوںمیں چلے جائیں تو تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کیلئے بہت کم گنجائش رہ جاتی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ دفاعی بجٹ بڑھ گیا ہے بلکہ اصل مسئلہ قرضوں اور سود کے ناقابل برداشت بوجھ کا ہے۔
پاکستان میں دفاعی بجٹ پر تنقید کی جاتی ہے لیکن ہمیں بھارت جیسے دشمن ملک کا سامنا ہے جس کے مقابلے کیلئے ہمیں کم از کم دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہمارے پاس دفاع کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اور تکنیکی مہارت نہ ہوتی تو ہم بھارت سے مئی 2025ءمیں ہونیوالی جنگ میں کامیابی حاصل نہیں کرسکتے تھے۔پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور ترکی کے دفاعی اخراجات اور قرضوں اور سود کی ادائیگیوں کے جائزے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کے دفاعی اخراجات 2024-25 میں 2122 ارب روپے (9 ارب ڈالر) سالانہ تھے جس کے مقابلے میں قرضوں اور سود کی ادائیگیاں 9775 ارب روپے (35 ارب ڈالر) تھیں جو مجموعی بجٹ کا 52 فیصد بنتا ہے جبکہ بھارت کا دفاعی بجٹ 80ارب ڈالر ہے جو پاکستان کے مقابلے میں 9 گنا زائد اور خطے میں سب سے زیادہ ہے جبکہ اس کے قرضوں اور سود کی ادائیگیاں نہایت کم ہے۔ بنگلہ دیش کا دفاعی بجٹ 3.6 ارب ڈالر ہے جبکہ قرضوں اور سود کی ادائیگیاں 26 ارب ڈالر سے زائد ہے۔ اسی طرح ترکی کا دفاعی بجٹ 27 ارب ڈالر ہے جبکہ قرضوں اور سود کی ادائیگیاں مجموعی بجٹ کا 57 فیصد ہیں۔ بھارت دنیا کی ایک بڑی معیشت ہے لہٰذا بھارت پر قرضوں اور سود کی ادائیگیوں کے حوالے سے پاکستان کی طرح عالمی دباؤ نہیں۔ بنگلہ دیش کا دفاعی بجٹ پاکستان کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے لیکن قرضوں اور سود کی ادائیگیوں میں بجٹ کا بڑا حصہ چلا جاتا ہے جبکہ ترکی کا دفاعی بجٹ 27ارب ڈالر ہے جو پاکستان کے دفاعی بجٹ سے 3 گنا زائد ہے جبکہ قرضوں اور سود کی ادائیگیوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
حال ہی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق پاکستان کے قرضے اور واجبات جی ڈی پی کا 82 فیصد 94197 ارب روپے کے بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں جس میں مقامی قرضے 54471 ارب روپے جبکہ غیر ملکی قرضے اور واجبات 39726 ارب روپے شامل ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں پاکستان کے غیر ملکی قرضے 130 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں اور اس طرح ہر پاکستانی شہری پر قرضے کا بوجھ 3 لاکھ 33 ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے۔ پاکستان میں زیادہ سے زیادہ قرضے لینے کی حد کے قانون FRDL کے تحت حکومت نے جی ڈی پی کے زیادہ سے زیادہ 60فیصد قرضے لینے کی حد سے بڑھ کر 71فیصد قرضے لئے ہیں۔ رواں مالی سال 2025-26ءکے پہلے 6مہینے میں قرضوں اور سود کی ادائیگیوں کی مد میں 3563 ارب روپے خرچ ہوچکے ہیں جبکہ دفاعی اخراجات کی مد میں 1044ارب روپے اور ترقیاتی منصوبوں (PSDP) کی مد میں 238ارب روپے خرچ کئے گئے۔ اگر قرض ترقیاتی منصوبوں مثلاً ڈیمز، انفراسٹرکچر، موٹر ویز اور بڑے صنعتی منصوبوں پر استعمال کیا جائے تو آنے والے وقت میں ان سے ملک میں ترقی اور خوشحالی آئے گی لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں قرض کا بڑا حصہ بجٹ خسارہ پورا کرنے، سبسڈیز دینے اور سابقہ قرضوں کی ادائیگیوں پر خرچ ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے عوامی سہولتوں کیلئے پیسے نہیں بچتے۔ اگر ہم نے موجودہ ناقابل برداشت قرضوں میں موثر حکمت عملی کے تحت کمی نہیں کی تو آنے والی نسلیں ایسے ملک کی وارث ہوں گی جو آزاد تو ہوگا مگر معاشی طور پر قرضوں میں جکڑا ہوا۔