بالی ووڈ اداکار رنویر سنگھ کے والد نے سنے اینڈ ٹی وی آرٹسٹ ایسوسی ایشن آف انڈیا کی صدر اداکارہ پونم ڈھلوں کا شکریہ ادا کیا، انھوں نے کہا کہ انکی فرحان اختر سے کوئی ناراضگی نہیں ہے۔
فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سائن ایمپلائز کی جانب سے رنویر سنگھ پر عائد پابندی ختم کیے جانے کے بعد سائن اینڈ ٹی وی آرٹسٹ ایسوسی ایشن آف انڈیا کی صدر پونم ڈھلوں نے انکشاف کیا کہ اداکار رنویر سنگھ کے والد نے ان کی حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔
پونم کے مطابق رنویر سنگھ کے والد نے ان سے رابطہ کرکے اظہارِ تشکر کیا اور کہا کہ وہ اس معاملے میں فرحان اختر کے خلاف کوئی منفی جذبات نہیں رکھتے۔
یاد رہے کہ حال ہی میں رنویر سنگھ پر ڈان 3 تنازع پر لگنے والی پابندی اٹھا لی گئی ہے۔ یہ فیصلہ اس شکایت کے بعد آیا جو فرحان اختر اور ایکسیل انٹرٹینمنٹ کی جانب سے رنویر کے فلم سے علیحدہ ہونے کے بعد کی گئی تھی۔
سنے اینڈ ٹی وی آرٹسٹ ایسوسی ایشن آف انڈیا کی صدر اداکارہ پونم ڈھلوں نے ایک بھارتی میڈیا ادارے کو بتایا کہ رنویر سنگھ کے والد جگجیت سنگھ بھاونانی نے ان کی حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
پونم ڈھلون نے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق رنویر کے پروڈکشن ہاؤس کے ساتھ نہایت اچھے تعلقات ہیں، کیونکہ وہ ان کے ساتھ 2019 میں گلی بوائے اور 2015 میں دل دھڑکنے دو جیسی فلموں میں کام کر چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی حمایت صرف رنویر کے لیے ہی نہیں بلکہ فرحان اختر کے لیے بھی ہے، کیونکہ وہ بھی ایک اداکار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سائن ایمپلائز کے رویے سے خوش نہیں تھیں۔ اسکی وجہ ان کی جانب سے معاملہ سنبھالنے کا طریقہ غیر اطمینان بخش تھا۔
یاد رہے کہ 2023 میں فرحان نے اعلان کیا تھا کہ ڈان 3 میں شاہ رخ خان کی جگہ رنویر اداکاری کریں گے۔ تاہم، فلم کو عملی شکل اختیار کرنے میں کافی وقت لگا۔ آدتیہ دھر کی "دھرندر" کی کامیابی اور "دھرندر: دی ریونج کی ریلیز سے قبل رنویر اور فرحان کے درمیان ڈان 3 کے حوالے سے اختلافات اور تنازع کی افواہیں گردش کرتی رہیں۔
معاملہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ایف ڈبلیو آئی سی ای نے رنویر کے خلاف عدم تعاون کی ہدایت جاری کی اور فلم سازوں سے کہا کہ وہ ان کے ساتھ کام نہ کریں۔ تاہم، مخالفت سامنے آنے کے بعد تنظیم نے یہ ہدایت واپس لے لی۔ منگل کے روز رنویر نے فلم ورکرز کی اس تنظیم کو قانونی نوٹس بھیجا تھا۔
ایف ڈبلیو آئی سی ای کے صدر بی این تیواری نے بتایا کہ قانونی نوٹس میں تنظیم کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا جس کے تحت رنویر کے خلاف عدم تعاون کی ہدایت جاری کی گئی تھی اور مطالبہ کیا گیا تھا کہ 48 گھنٹوں کے اندر یہ ہدایت واپس لی جائے۔ تاہم، تیواڑی کا کہنا تھا کہ فیڈریشن نے قانونی نوٹس موصول ہونے سے پہلے ہی اس ہدایت کو واپس لینے کا فیصلہ کر لیا تھا۔