• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رمضان المبارک: نئی نسل کیلئے تعمیر شخصیت کا عملی نصاب

ماہِ رمضان محض بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ شعور، ضبطِ نفس، روحانی ارتقاء اور اخلاقی تعمیر کا ایک جامع پروگرام ہے۔ دنیا بَھر کے مسلمان اِس مہینے میں طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک روزہ ہی نہیں رکھتے، عبادات میں اضافہ، صدقات و خیرات کا اہتمام اور اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھالنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔

خصوصاً نوجوانوں کے لیے رمضان ایک ایسا سنہری موقع ہے، جس میں وہ اپنی جسمانی صحت متوازن، نفسیاتی قوّت مضبوط اور روحانیت بلند کر سکتے ہیں۔

رمضان بطور مکمل تربیتی نظام:

نوجوانی، زندگی کا وہ مرحلہ ہے، جس میں انسان کی شخصیت تشکیل پاتی ہے، عادات مستحکم ہوتی ہیں اور مستقبل کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ رمضان اس تشکیلِ کردار کے عمل کو مثبت سمت فراہم کرتا ہے۔ یہ مہینہ نوجوانوں کو سِکھاتا ہے کہ خواہشات پر قابو کیسے پایا جائے، وقت کی قدر کیسے کی جائے اور ترجیحات کس طرح ترتیب دی جائیں۔ روزہ انسان کو یہ احساس دِلاتا ہے کہ وہ صرف جسم نہیں، روح کا حامل بھی ہے اور حقیقی کام یابی اُسی وقت ممکن ہے، جب جسم اور روح کے تقاضوں میں توازن قائم ہو۔ 

اگر نوجوان، رمضان کو محض ایک رسمی عبادت کی بجائے شعوری تربیتی دَور سمجھ کر گزاریں، تو یہ ان کی پوری زندگی کی سمت متعیّن کر سکتا ہے۔ سحر سے افطار تک کا نظم، عبادات کی پابندی اور روزمرّہ معمولات میں ترتیب پیدا کرنا، دراصل عملی زندگی کی تیاری ہے۔ یہی عادات تعلیمی میدان، پیشہ ورانہ زندگی اور سماجی تعلقات میں کام یابی کا ذریعہ بنتی ہیں۔

جسمانی صحت، متوازن غذا اور فعال طرزِ زندگی:

رمضان نوجوانوں کو اپنی غذائی عادات کا ازسرِنو جائزہ لینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ عام دنوں میں بے ترتیبی سے کھانا، فاسٹ فوڈ کا زیادہ استعمال اور غیر صحت بخش مشروبات کی عادت صحت پر منفی اثرات مرتّب کرتی ہے۔ رمضان اس طرزِ زندگی کو درست کرنے کا عملی موقع ہے۔ افطار کے وقت اعتدال اختیار کرنا، کھجور اور پانی سے روزہ کھولنا اور اس کے بعد متوازن غذا استعمال کرنا نہایت مفید ہے۔ 

پروٹین سے بھرپور غذائیں، دالیں، سبزیاں، سلاد، پھل اور پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس جسم کو دیرپا توانائی فراہم کرتے ہیں۔ اسی طرح سحری کو نظر انداز کرنا صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ سحری میں متوازن اور ہلکی غذا لینا دن بَھر کی توانائی کے لیے ضروری ہے۔ افطار اور سحر کے درمیان مناسب مقدار میں پانی پینا جسم کو ڈی ہائیڈریشن سے بچاتا ہے۔ 

زیادہ میٹھے مشروبات، تلی ہوئی اشیاء اور ضرورت سے زیادہ کھانا نہ صرف سُستی پیدا کرتا ہے، بلکہ معدے کے مسائل کا بھی سبب بنتا ہے۔ نوجوان اگر اس مہینے میں اعتدال سیکھ لیں، تو یہ عادت سال بَھر اُن کی صحت بہتر رکھ سکتی ہے۔ رمضان جسمانی سرگرمی تَرک کرنے کا نہیں، اسے متوازن انداز میں جاری رکھنے کا مہینہ ہے۔

افطار کے بعد ہلکی چہل قدمی، اسٹریچنگ یا معتدل ورزش جسمانی فٹنس برقرار رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ منظّم نیند کا معمول اپنانا بھی بے حد ضروری ہے۔ تراویح اور سحری کے اوقات مدّ ِنظر رکھتے ہوئے وقت کی درست تقسیم نوجوانوں کو بہتر نظم و ضبط سِکھاتی ہے۔ مناسب نیند ذہنی توجّہ، قوّتِ مدافعت اور مجموعی صحت کے ضمن میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

ضبطِ نفس، جذباتی توازن اور ڈیجیٹل اعتدال:

نوجوان جب بھوک اور پیاس کے باوجود اپنے فرائض انجام دیتے ہیں، تو اُن میں قوّتِ ارادی پیدا ہوتی ہے۔ یہی قوّتِ ارادی انہیں تعلیمی چیلنجز، پیشہ ورانہ دباؤ اور ذاتی مشکلات کا سامنا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ رمضان انسان کو فوری خواہشات کو مؤخر کرنا سِکھاتا ہے، جو کام یاب زندگی کی بنیادی شرط ہے۔ آج کے دَور میں نوجوانوں کا ایک بڑا مسئلہ ڈیجیٹل مصروفیات اور سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ استعمال ہے۔ 

رمضان اِس رجحان میں کمی کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ اگر نوجوان شعوری طور پر اسکرین ٹائم کم کریں اور اُس وقت کو مطالعے، عبادات، اہلِ خانہ کے ساتھ گفتگو اور خود احتسابی میں صَرف کریں، تو اُن کی ذہنی صحت میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ نماز، ذکر اور دُعا ذہنی دباؤ کو کم کرتے اور دل کو سکون عطا کرتے ہیں۔ رمضان کا روحانی ماحول انسان کو اضطراب اور بے چینی سے نکال کر اطمینان اور اُمید کی کیفیت میں لے آتا ہے۔

روحانی بے داری اور کردار سازی :

رمضان کو’’ قرآن کا مہینہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس مہینے میں نوجوان روزانہ تلاوت کا ہدف مقرّر کر سکتے ہیں، معانی پر غور و فکر اور دینی دروس میں شریک ہو سکتے ہیں۔ قرآن سے مضبوط تعلق انسان کو اخلاقی بصیرت عطا کرتا ہے، تو اسے درست و غلط کی تمیز بھی سِکھاتا ہے۔ پانچ وقت کی نماز کی پابندی اور تراویح میں شرکت نوجوانوں میں تسلسل اور نظم پیدا کرتی ہے۔

یہی تسلسل بعد از رمضان بھی برقرار رکھا جائے، تو شخصیت میں پختگی آئے گی۔ چوں کہ رمضان خود احتسابی کا مہینہ ہے، تو اِس میں نوجوان اپنی کم زوریوں، غلط عادات اور منفی رویّوں کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ سچّائی، دیانت، عاجزی، شُکرگزاری اور احترامِ انسانیت جیسے اوصاف کے لیے اس مہینے میں مضبوط بنیاد حاصل کر سکتے ہیں کہ جب عبادات کے ساتھ اخلاق کی اصلاح بھی ہو، تو رمضان کی رُوح حقیقی معنوں میں حاصل ہوتی ہے۔

سماجی ذمّے داری، قیادت اور خاندانی ہم آہنگی :

روزہ انسان کو بھوک اور محرومی کا احساس دِلاتا ہے، جس سے دوسروں کے دُکھ درد کا شعور بے دار ہوتا ہے۔ نوجوان صدقہ و خیرات، زکوٰۃ کی ادائی اور فلاحی سرگرمیوں میں حصّہ لے کر معاشرتی ذمّے داری کا عملی ثبوت دے سکتے ہیں۔ مساجد، فلاحی اداروں اور اجتماعی افطار پروگرامز میں رضاکارانہ خدمات انجام دینا قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ دیتا اور نوجوانوں میں اعتماد پیدا کرتا ہے۔

سحر و افطار کے لمحات خاندان کو ایک جگہ جمع کرتے ہیں۔ یہ مواقع باہمی محبّت و احترام اور اتحاد کو مضبوط بناتے ہیں۔ نوجوان گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹا کر ذمّے داری اور تعاون کا مظاہرہ کر سکتے ہیں کہ ایک مضبوط خاندانی نظام نوجوانوں کی جذباتی اور نفسیاتی مضبوطی کا بنیادی ستون ہے۔

متوازن شخصیت، روشن مستقبل کی ضمانت:

اگر نوجوان رمضان کو شعور، اِخلاص اور منصوبہ بندی کے ساتھ گزاریں، تو یہ مہینہ اُن کی زندگی میں گہری اور دیرپا تبدیلی لا سکتا ہے۔ متوازن غذا، منظّم معمولات، نفسیاتی مضبوطی، روحانی وابستگی اور سماجی شعور جیسی عادات اگر رمضان کے بعد بھی جاری رہیں، تو یہی اصل کام یابی ہے۔ 

رمضان دراصل ایک تربیتی کیمپ ہے، جو نوجوانوں کو باکردار، باحوصلہ، باعمل اور باوقار انسان بننے کی دعوت دیتا ہے اور ان ہی نوجوانوں نے مستقبل میں معاشرے کی قیادت سنبھالنی اور ایک مثبت، مہذّب اور بااخلاق معاشرہ تشکیل دینا ہے۔ (مضمون نگار، پبلک ہیلتھ اسپیشلسٹ اور چیف میڈیکل آفیسر، سروسز اسپتال کراچی، ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ سندھ ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید