• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہم خوش قسمت ہیں کہ تجدیدِ رفاقت کے سحر آفرین لمحات سے آشنا ہو رہے ہیں۔ بچپن کے وہ دن ابھی یاد سے محو نہیں ہوئے جب سقوطِ ڈھاکہ پر آنکھیں آنسوؤں سے پُرنم ہوئی تھیں۔ اذیت ناک، دردناک اور شرمناک واقعات کے ساتھ بھائی بھائی سے جدا ہو گئے تھے۔برصغیر کی تاریخ محض جغرافیائی تبدیلیوں کی داستان نہیں ہے بلکہ ایک فکری ،تہذیبی اور روحانی جدوجہد کے علاوہ خون کی قربانی کا تسلسل ہے۔ قائداعظم کی قیادت میں مسلمانانِ ہند کی بے مثال قربانیوں سے آزادی حاصل کی۔ آزاد مملکت کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔ پاکستان معرض وجود میں آیا، مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان ، اگرچہ دونوں کے درمیان خلیج حائل تھی فاصلہ ہزاروں میل پر محیط تھا مگر دلوں کی یکانگت، محبت، بھائی چارہ اور ایمان کی وحدت اور کلمہ طیبہ نے فاصلے ختم کر دیئے تھے، تاہم تاریخ کے بہتے دھارے میں بعض اوقات قیادت کی کوتاہ اندیشی، سیاسی مصلحت، نسلی تعصب، معاشی ناانصافی اور دشمنوں کی سازش اور مداخلت ایسا طوفان برپا کرتی ہے جو وطن کی مضبوط بنیادوں کو متزلزل کر دیتی ہے۔ سیاسی بھونچال آتے ہیں۔ ملک بکھر جاتے ہیں۔ مشرقی پاکستان کے عوام نے لسانی شناخت، معاشی مساوات اور سیاسی اختیار کے لئے جدوجہد کی ،مگر مکالمے کی جگہ ضد، انا ،تکبر،غرور اور حماقت نے لے لی اور پھر المناک نتائج سامنےآئے۔1971ءکا سانحہ غلطیوں کا نتیجہ تھا ایک وطن دوخود مختار ریاستوں میں منقسم ہو گیا۔ یہ پھر ایک جغرافیائی تقسیم نہ تھی بلکہ ایک نفسیاتی اور تہذیبی افتراق تھا۔ پاکستان اور بنگال قوم کے سینئر افراد، لیڈر اور مغربی پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے بھی غیر سنجیدہ رویہ اختیار کیا۔ تشدد کا راستہ اختیار کیا جوکہ قوموں کی زندگی میں صرف تباہی لاتا ہے۔ مشرقی پاکستان کے عوام کی اکثریتی نمائندگی کو تسلیم نہ کرنا،وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور سیاسی عمل کی معطلی اور طاقت کا استعمال بربادی لایا ۔ عوامل نے احساس محرومی تو بڑھا دیا داخلی اور سیاسی کشمکش نے دشمن اور خارجی قوتوں کو مداخلت کا موقع دیا۔ اور پھر حادثہ ہو گیا۔ملک ٹوٹ گیا۔مگر تاریخ کا یہ سبق بھی ناقابل فراموش ہے کہ قومیں اپنی غلطیوں ،کوتاہیوں اور لغزشوں سے سبق سیکھ کر بلوغت حاصل کرتی ہیں۔ سقوطِ ڈھاکہ نے پاکستان اور بنگلہ دیش کو اپنی اپنی سمت میں نئی شناخت اور راستہ فراہم کیا، مگر تہذیبی، مذہبی، دِلی رشتے اور رابطے منقطع نہ ہوئے۔

پاکستان اور بنگلہ دیش کی تہذیبی بنیادیں یکساں اسلامی روایات میں پیوست ہیں۔ بنگالی ادب، صوفی روایات اور اسلامی جمالیات برصغیر کے مسلمانوں کی فکری تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ ڈھاکہ اور لاہور کی علمی فضا میں یکساں فکری ارتعاش محسوس ہوتا تھا۔بنگالی موسیقی کی لطافت اور پاکستانی شاعری کا سوز دراصل ایک دریاکی دو لہریں تھیں۔عصرِ حاصر میں بنگلہ دیش نے معاشی، تعلیمی اور سیاسی میدان میں نمایاں پیش رفت کی ۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری، کاروبار میں خواتین کی شرکت اور تعلیمی ترقی نے بنگلہ دیش کو ایک مضبوط اور مستحکم معیشت بنا دیا۔ سیاسی اتار چڑھاؤ، ڈکٹیٹرشپ، ظالمانہ فیصلوں، جعلی عدالتوں، سیاسی انتقام کے باوجود بنگلہ دیش کی نوجوان نسل نے شعور ،جمہوری آگہی، قومی خودمختاری اور خود اعتمادی کا عظیم مظاہرہ کیا۔

بنگلہ دیش کی یہ نئی نسل تلخیوں کی اسیر نہیں۔ بڑوں کے غلط فیصلوں کی حمائتی بھی نہیں بلکہ مستقبل کے خوبصورت خوابوں کی امین ہے۔ ڈیجیٹل عہد کے یہ نوجوان سرحدوں سے پار امکانات دوستی، رشتے، محبت اور اخوت دیکھتے ہیں اور اسی سے دونوں ملکوں میں پانچ دہائیوں سے موجود کشیدگی دشمنی ،نفرت اور مخالفت کو دفن کیا جا سکتا ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ رسمی تعلقات سے نکل کر اصل برادرانہ تعلقات بحال کئے جائیں۔ عوامی سطح پر تعلقات استوار کئے جائیں۔ دونوں ممالک اپنے مشترکہ ماضی، مذہبی ورثے،تاریخی تجربات، ثقافتی مماثلت اور اچھے دنوں کو یاد کرتے ہوئے سیاسی بصرت اور تدبیر سے کام لیتے ہوئے یک جان دو قالب بن جائیں۔مندرجہ ذیل اقدامات سے برق رفتار دوستی اور تعلقات قائم ہو سکتے ہیں۔

1۔تعلیمی و تحقیقی میدان: نوجوانوں اور طلباءو طالبات کے مابین مشترکہ ریسرچ، سکالرشپ ، علمی اورادبی کانفرنس کا انعقاد کیا جائے۔2۔اقتصادی اور تجارتی تعاون: دو طرفہ تجارت میں ،ٹیکسز میں کمی، مشترکہ سرمایہ کاری اور صنعتی منصوبے دوستی اور معاشی استحکام کو تقویت دے سکتے ہیں۔3۔ ثقافتی و ادبی روابط: ادبی میلوں، فلم فیسٹیول، صوفی میوزک مشترکہ تقریبات، فلم سازی کے ذریعے عوامی رابطہ بڑھایا جائے۔4۔نوجوان تبادلہ پروگرام:یوتھ تبادلہ پروگرام کے تحت نوجوانوں کو قریب لایا جائے۔5۔ ٹورازم اورسیاحتی منصوبے: ٹورازم اور سیاحت کے لئے ویزوں میں نرمی اور سستے پیکیج فراہم کئے جائیں۔6۔ میڈیا و ڈیجیٹل سفارتکاری: مثبت پیمانے کو فروغ دینے کیلئے مشترکہ میڈیا پروڈکشنز اور ڈیجیٹل مہمات، منصوبے شروع کئے جائیں۔ 7۔فوجی تعاون و معاہدے: دونوں ملکوں میں فوجی تعاون ،تربیت اور ساز و سامان کی فراہمی کی جائے۔8۔ویزہ میں آسانی اور آمدورفت شروع کی جائے۔ بنیادی شرائط پوری کرتے ہوئے ویزہ آن لائن کا اجراءکیا جائے۔9۔ ملازمت اور مین پاور: دونوں ممالک حسب ضرورت ایک دوسرے کو مین پاور فراہم کر سکتے ہیں۔ 10۔ڈائریکٹ فلائٹس اور سمندری سفر کے آسان طریقے سے آمد ورفت اور تجارت بڑھائی جائے۔

پاکستان اور بنگلہ دیش کے عوام کے دل آج بھی ایک دوسرے کیلئے دھڑکتے ہیں۔ سیاسی بصیرت، اقتصادی تعاون، فوجی اشتراک اور تہذیبی احترام کے ذریعے صدیوں کا فاصلہ دنوں میں طے ہو سکتا ہے۔ دونوں ممالک نہ صرف سفارتی رفاقت بلکہ حقیقی معنوں میں برادر اسلامی ریاستوں کی صورت میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔

دِل نا اُمید تو نہیں ناکام ہی تو ہے

لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

تازہ ترین