(گزشتہ سے پیوستہ)
پچھلے چند ہفتوں میں لاہوراور نارووال کے معروف تعلیمی اداروں کے تین اسٹوڈنٹس نے خودکشی کر لی جبکہ ایک طالبہ جس نے خودکشی کی تھی اس کو ڈاکٹروں نے بچا لیا۔ اسی طرح ایک اور میڈیکل کالج کے ا سٹوڈنٹ کو خودکشی کی کوشش کے بعد بچا لیا گیا جبکہ تین اسٹوڈنٹس جان کی بازی ہار گئے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اسٹوڈنٹس میں خودکشی کارجحان کیوں بڑھ رہا ہے؟وہ کونسے عوامل ہیں جواسٹوڈنٹس کو اپنی زندگی ختم کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں کبھی حکومتی حلقوں نے اس پر سوچا ہے؟ اگر ہم کچھ پرانے واقعات کا جائزہ لیں تو قیام پاکستان سے قبل لاہور کالج برائے خواتین( اب یونیورسٹی) میں شکنتلا نامی ایک طالبہ نے ہوسٹل میں خودکشی کر لی تھی۔آج بھی اس کا کمرہ اولڈ گرلز ہاسٹل میں بند پڑا ہے اس کمرے کو کوئی استعمال نہیں کرنا چاہتا کوئی اس کمرے میں نہیں جاتا بلکہ لوہے کی تاریں لگا کر اس کے دروازے کو بند کر رکھا ہے جب ہم اس کمرے کو دیکھنے گئے تو اس کمرے میں کافی عجیب و غریب احساس ہوا بلکہ ایک خوف محسوس ہوا ۔اس طالبہ نے بھی کسی کے ساتھ پیار میں ناکامی کے بعد خودکشی کر لی تھی۔ ابھی صرف چاربرس قبل کوئین میری کالج /کنئیرڈ کالج کی طالبہ نے لاہور کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل کے واش روم میں جا کر اپنےآپ کو گولی مار کر زندگی ختم کر لی تھی یہ طالبہ تھرڈ ایئر کی تھی اور حاملہ تھی اور خودکشی سے قبل وہ اونچی آواز میں موبائل فون پر کسی سے لڑ رہی تھی۔ اس خود کشی کے بعد اس فائیو اسٹار ہوٹل نے ہوٹل کے بیک دروازے پر سکینر لگوائےتھے۔اسی طرح لاہور یونیورسٹی کے طالب علم نے پڑھائی کے دباؤ اور ٹیچرکے رویے سے دل برداشتہ ہو کر یونیورسٹی کی تیسری منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کرلی ۔اسی ادارے کی ایک طالبہ نے اپنی مرضی کی شادی کی اجازت والدین سے نہ ملنے پر یونیورسٹی کی دوسری منزل سے چھلانگ لگا کر خود کشی کی کوشش کی وہ تو لاہور جنرل اسپتال کے سربراہ اور معروف سرجن پروفیسر ڈاکٹر محمد فاروق افضل اور ان کی ٹیم نے اللہ تعالی کی مہربانی سے اس کو بڑی جدوجہد کے بعد بچا لیا ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پرائیویٹ یونیورسٹی کا اپنا ٹیچنگ اسپتال اور میڈیکل کالج بھی ہے وہاں پر صرف طالبہ کو ابتدائی طبی امداد ہی دی گئی باقی سارا علاج سرکاری اسپتال میں ہوا ۔کاش ہماری حکومت فضول کاموں پر پیسے ضائع کرنے کی بجائے سرکاری اسپتالوں کو مزید سہولیات دے دے اور مزید جدید جنرل اسپتال تعمیر کرے۔خیر اب اگر جہاز پر بات کریں گے اور 40 ارب روپے کے رمضان پیکیج پر بات کریں گے تو پھر وہ برا مان جائیں گے۔ کس طرح پنجاب میں افسر شاہی کو سہولیات گاڑیاں اور پٹرول دیا جا رہا ہے اور کیا شاہانہ دفاتر بنائے جا رہے ہیں اور وہ ڈاکٹرز جن کی تعلیم وتربیت ان بیوروکریٹس سے زیادہ ہے ۔جو روزانہ کئی لوگوں کی جانیں بچاتے ہیں انہیں کوئی سہولت نہیں۔ دوسری طرف ہماری وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کہتی ہیں کہ ہمیں بہترین دماغ باہر کے ممالک میں ایکسپورٹ کرنے چاہئیں محترمہ پہلے ہی ہزاروں ڈاکٹرز جو معاشرے کی کریم ہوتے ہیںیہ ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں، اس پر پھر کبھی بات کریں گے۔اب آتے ہیں اپنے اصل موضوع کی طرف لاہور کالج برائے خواتین میں آج سے تین چار سال قبل ایک طالبہ نے سوشل سائنسز کی عمارت کی چھت سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی کوشش کی تھی اللّٰہ تعالی نے اس کی زندگی لکھی تھی اور ڈاکٹروں کے علاج سے وہ بچ تو گئی تھی مگر تا حال وہ اسپتال میں زیر علاج ہے وہ اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہو سکتی اس نے بھی اپنے سپروائزرز کے رویے سے تنگ آکر خود کشی کی کوشش کی تھی۔ ہم تو پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ ا سٹوڈنٹس کی خودکشی کی صرف تین چار وجوہات ہوتی ہیں۔ پہلی وجہ اساتذہ کا رویہ ،اسائنمنٹس ، حاضریوں اور امتحانات کا دباؤ ۔ ان تمام خودکشیوں میں وہ ا سٹوڈنٹس تھے جن کا تعلق متوسط گھرانوں اور دوسرے شہروں سے تھا اور وہ ہوسٹلوں میں رہتے تھے۔ دوسری وجہ مالی وسائل کا نہ ہونا ۔آج ہر یونیورسٹی چاہے وہ سرکاری ہو یا پرائیویٹ دونوں نے اپنی فیسوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ ا سٹوڈنٹس میرٹ پر آ توجاتے ہیں مگر یہ اتنی بھاری فیسیں ادا نہیں کر سکتے پھر ان تعلیمی اداروں میں جب وہ ان اسٹوڈنٹس کو دیکھتے ہیں جو بڑے اچھے کپڑے ، مہنگے موبائل اور قیمتی گاڑیوں میں آتے ہیں تو وہ ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ بعض طالبات لڑکوں کی باتوں میں آ جاتی ہیں اور شادی بیاہ اور لو افیئرز میں پڑ جاتی ہیں اس طرح اپنی زندگی داؤ پر لگا دیتی ہیں ۔کئی سال پہلے ڈینٹل کالج کی ایک لیکچرار جس نے پی ڈی ایس کیا تھا اور گرلز ہاسٹل ڈینٹل کالج کی وارڈن بھی تھی اس نے بھی خواب آور گولیاں کھا کر خودکشی کر لی تھی۔ اسی طرح ایک ہی ہفتے میںلیڈی ولنگڈن اسپتال کی ایک ڈاکٹرنے خواب آور گولیاں کھاکر اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے بھی ایک ڈاکٹر نے خودکشی کی کوشش کی ڈاکٹروں کی کوششوں اور اللہ کی مہربانی سے دونوں کو بچا لیا گیا۔ ابھی پچھلے ہفتے فاطمہ جنا ح میڈیکل یونیورسٹی کی ایک طالبہ، جس کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے، نے ہوسٹل کی چھت سے کود کر جان دے دی اس طرح کئی سال پہلے کنئیرڈ کالج کی بھی ایک طالبہ نے ہاسٹل کی بالکونی سے چھلانگ لگا دی تھی۔گزشتہ دنوں فاطمہ جنا ح میڈیکل یونیورسٹی کی فائنل ائیر کی طالبہ نے مبینہ طور پر خود کشی کر لی تھی جو ایک افسوسناک واقعہ ہے ۔فاطمہ جنا ح میڈیکل یونیورسٹی کا تعلیمی ماحول بہت اچھا اور بہترین ہے۔ یونیورسٹی کے مطابق وہ پڑھائی میں اچھی سٹوڈنٹ تھی غالباً اس کا ایک پرچہ اچھا نہیں ہوا تھا َجسکی وجہ سے اس نے اپنی زندگی ختم کر لی۔ ایف جی ایم یو کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل اور پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر عبد الحمید او ر رجسٹرار ڈاکٹر ندیم قصوری اور دیگر اسٹاف نے رات بھر اس طالبہ کی جان بچانے کی پوری کوشش کی اور جس طرح انہوں نے اس طالبہ کے خاندان کے ساتھ ہمدردی اور سہولیات دیں وہ لائق تحسین ہے ہم نے پوری یونیورسٹی کا وزٹ کیا سارا ماحول بہت سوگوار تھا ۔(جاری ہے)