ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ہم دشمن کے سامنے کبھی سر نہیں جھکائیں گے، بات چیت یا مذاکرات کرنے کا مطلب ہتھیار ڈالنا یا پیچھے ہٹنا نہیں۔
تہران میں ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ہونے والے نقصانات کی بحالی سے متعلق ٹاسک فورس کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس کے دوران ایرانی صدر نے کہا کہ ایرانی قوم کبھی بھی دشمنوں کے سامنے جھکے گی نہیں، مذاکرات یا بات چیت کی کوئی بھی کوشش ہرگز ہتھیار ڈالنے یا پسپائی کے مترادف نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات کا مقصد ایرانی عوام کے حقوق کی بحالی اور قومی مفادات کا بھرپور تحفظ ہے۔
مسعود پزشکیان نے متاثرہ علاقوں خصوصاً رہائشی یونٹس کی تعمیرِ نو کے عمل کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو ذہنی سکون اور نفسیاتی تحفظ فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، جبکہ تمام سرکاری ادارے عوامی خدمت کے عمل کو مکمل ہم آہنگی، رفتار اور اتحاد کے ساتھ آگے بڑھانے کے پابند ہیں۔
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ امریکی اور اسرائیلی جنگ کے باعث ہونے والی وسیع تباہی کے پیشِ نظر ملک کو اب بھی عوامی شمولیت، قومی یکجہتی اور سماجی اداروں کے تعاون کی ضرورت ہے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات سے کامیابی سے نکلنے کے لیے معاشرے کے تمام طبقات کو مل کر کام کرنا ہوگا۔