شاعرِ انقلاب جوش ملیح آبادی نے ایران کے حالات پر جو کہا تھا وہ آج وہاں ہو رہا ہے۔
یہی ایران ہے جو خونچکاں ہے
جہاں تھا کبھی اک جہانِ آفرین
مشرق اور مغرب کی ہزاروں سالہ آویزش میں ایران مشرق کی علامت اور یونان اور اس کے اتحادی مغرب کی علامت تھے۔ سکندر اعظم 326 ق م میں ایران پر اسلئے حملہ آور ہوا تھا کہ وُہ یونان کی ماضی کی شکستوں کا ایران سے بدلہ لینا چاہتا تھا۔ پاکستان اور افغانستان کے جس حصّے کو سکندراعظم نے فتح کیا تو وُہ رجواڑوں پر مشتمل تھا مگر سکندراعظم دریائے آمو، دریائے جہلم اور دریائے سندھ کو ایران ہی کا پچھواڑا اور دنیا کا آخری کونہ سمجھتا تھا ۔یونان کے ساتھ ایران کی جنگوں میں جہاں ایرانی سورما آگے آگے ہوتے تھے وہاں وادیٔ سندھ اور وادیٔ آمو کے جوان بھی موجود ہوتے تھے۔ گویا مشرق و مغرب کی آویزش میں چاہتے نہ چاہتے ہوئے اس خطے کے لوگ بھی شامل تھے۔
ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کی شہادت کے حوالے سے حالات پہلے سے نشاندہی کر رہے تھے مذاکرات مسلسل ناکام ہو رہے تھے نیوکلیئر ڈیل کے حوالے سے ایران کے سپریم کمانڈر جھکنے کو تیار نہیں تھے اور غالباً صدر ٹرمپ اس سے کم مذاکرات کو غیر اہم سمجھتے تھے مذاکرات کے حالیہ دور میں ابتدائی طور پر پاکستان بھی شامل تھا، شروع میں یہ بھی اشارہ دیا گیا تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات پاکستان میں ہوں گے اس حوالے سے صدر ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے مشیر و معاون وٹکوف بھی رضامندی دے چکے تھے مگر ایران نے آخری وقت پر عمان کو ان مذاکرات کیلئے ترجیح دی جونہی وٹکوف نے صدر ٹر مپ کو مذاکرات کے ناکام ہونے کی اطلاع دی اُسی لمحے ایران کی قیادت کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی شروع ہوگئی۔ یاد رہے جنگ کے پچھلے مرحلے میں پاکستان نے امریکہ ایران جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا تھا جس پر ایرانی پارلیمان اور بعد میں ایرانی قیادت نے باقاعدہ طور پر پاکستانی قیادت کا شکریہ ادا کیا تھا۔ تاہم اس بار پاکستان نے ایران کے موقف کی پھر کھل کر حمایت کی لیکن مذاکرات میں وہ کوئی کردار ادا نہ کر سکا کیونکہ ایرانی قیادت نے عمان کے ذریعے مذاکرات کئے۔
آیت اللہ خامنہ ای گزشتہ 40 سال سے ایران کے نظریاتی لیڈر اور اسٹرٹیجک قائد تھے، انہوں نے تاریخ میں پہلی بار ’’فرنٹ سے دفاع‘‘ کی حکمت عملی کو اپنایا۔ اس حکمت عملی نے امریکہ اور اسرائیل کو لبنان میں حزب اللہ، غزہ میں حماس، شام میں فاطمیون اور زینبون دستوں، عراق میں رضاکاروں اور یمن میں حوثیوں سے الجھائے رکھا نتیجتاً 40برس تک جنگ ایران سے دور دوسرے ملکوں میں سرحدوں پر لڑی جاتی رہی اور ایران خود دفاعی حصار میں محفوظ رہا۔ ایران نے شام میں بشارالاسد کی حکومت کے بچائو کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا حتیٰ کہ روس کو اپنا حلیف بنا کر اس کی بھی پوری مدد لی مگر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد واضح ہوگیا تھا کہ ایران کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے۔
ممتاز ایرانی نژاد ا سکالر ولی نصر جن کی امریکہ کے پالیسی ساز حلقوں میں رسائی ہے وہ اپنی کتاب ’’ایران کی گرینڈ اسٹرٹیجی‘‘ میں لکھتے ہیں کہ شام میں اسد حکومت کے دفاع کے معاملے پر تہران کے سابق میئر غلام حسین نے برملا اختلاف کیا تھا مگر سپریم لیڈر شام کے دفاع کو ایران کا دفاع اور غزہ و لبنان جانے کے شامی راستوںکو اپنی حکمت عملی کی کامیابی کیلئے ناگزیر سمجھتے تھے اسی لیے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کا ابتدا میں شامی حکومت کی رٹ بحال کرنے میں اہم ترین کردار رہا ،ولی نصر کےمطابق شام میں لڑنے والے فاطمیون کے دستوں میں زیادہ تر افغانستان اور پاکستان کے ہزارہ نو جوان اور زینبون میںلڑنے والے شیعہ پاکستانی رضاکار شامل تھے یہ دستے شام میں شیعہ مقدس مقابر کا تحفظ کرتے اور اسد حکومت کی طرف سے اسکی دشمن آئی ایس آئی ایس کا مقابلہ بھی کرتے۔
اس سے پہلے ولی نصر نے اپنی مشہور زمانہ کتاب The Shia Revivalمیں ایرانی اور عراقی دو شیعہ مکاتب فکر کا تفصیلی جائزہ پیش کیا تھا جسکے مطابق عراقی شیعہ مکتب فکر اہل سنت کے تصوف مکتب فکر کے قریب تر ہے جبکہ ایرانی مکتب فکر قم کے شیعہ اسکالرز کی تشریحات کے قریب تر ہے۔ اس کتاب میں ایران سے لیکر شام، عراق اور لبنان تک پھیلی ہوئی پٹی کے سعودی عرب کے شیعہ شہروں تک پھیلاؤ کی تفصیلی تحقیق شامل تھی۔ لگتا یوں ہے کہ اسرائیل کی غزہ میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ سے لڑائی ،پس پردہ جنگ دراصل ایران کی حکمت عملی کو ناکام بنانے کے گرینڈ پلان ہی کے تحت تھی امریکہ اور اسرائیل اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ غزہ میں حماس کی نظریاتی ٹریننگ اور اسلحہ کی سپلائی ایران سے براستہ شام آتی تھی لبنان میں حزب اللہ کا ایران کے سپریم کمانڈر سے روحانی اور مذہبی رابطہ بہت ہی واضح اور مضبوط تھا غزہ کی لڑائی اور پھر لبنان میں حزب اللہ کی پیجر کے ذریعے تباہی ایران کو تنہا کرنے اور اپنے اتحادیوں سے محروم کرنے کی کوشش تھی۔ ولی نصر نے ایران کی گرینڈ اسٹرٹیجی میں لکھا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کو مکمل یقین تھا کہ نیو کلیئر ڈیل کے حوالے سے امریکہ کے ایران پر دباؤ کا اصل مقصد ایٹمی ڈیل نہیں بلکہ حکومت کی تبدیلی ہے۔ لیبیا کے صدر معمر قذافی نے جب لیبیا کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے مغرب سے ڈیل کی تو علی خامنہ ای نے اسے قذافی کی بے وقوفی کہا تھا اور بعد میں یہ ثابت بھی ہو گیا کہ نیوکلیئر ڈیل کے باوجود صدرقذافی کی نہ صرف حکومت ہٹائی گئی بلکہ انہیں قتل بھی کر دیا گیا۔ ولی نصر نے لکھا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای نے ایک محفل میں جنگ احد کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ ہمارے رسول اکرمؐ اس جنگ میں اکیلے رہ گئے تھے مگر وُہ ڈٹ کر جراتمندی سے مقابلہ کرتے رہے اس موقع پر ان کا دندان مبارک بھی شہید ہو گیا تھا۔ جنگ احد کی مثال دینے کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ جتنا بھی دبائو آجائے آیت اللہ علی خامنہ ای کسی صورت نہیں جھکیں گے اور اکیلے بھی مقابلہ کریں گے انہوں نے شہید ہو کر اپنے قول کو سچ کر دکھایا۔
علامہ اقبال کے مرشد مولانا روم نے ایران کے بارے میں کہا تھا
ایران چوں باغے بود پر لالہ و سوسن
اکنوں شدہ صحرا، نہ گل دارد نہ گلشن
ایران کبھی باغ تھا جس میں لالہ و سوسن کے پھول ہوتے تھے مگر اب یہ ایک ریگستان بن چکا ہے جس میں نہ کوئی گل ہے اور نہ باغ۔
اگر تو عراق، شام، لیبیا اور غزہ پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو ہر جگہ انتشار پھیلا ہوا ہے ان ملکوں میں مضبوط حکومتوں کی بجائے افتراق اور خانہ جنگی جاری ہے ایران میں کوئی منظم اپوزیشن نہیں رضا پہلوی کا بیٹا ایران کو چلانے کے قابل نظر نہیں آتا۔ پاکستان کے پڑوسی ملک میں انتشار اور خانہ جنگی ہوگی تو اسکے اثرات پاکستان پر بھی پڑیں گے عالم اسلام میں کوئی بھی معتبر اور موقر لیڈر ایسا نہیں جو بین الاقوامی حالات کا ادراک کرتے ہوئے ملک میں ملک پھیلتی ہوئی انارکی کو روک سکے۔ پاکستانی قیادت بین الا قوامی طور پر اپنا نام اور مقام بنا چکی ہے مگر عالم اسلام کی آپس میں تقسیم انہیں کوئی ایسا کردار ادا نہیں کرنے دے رہی بلکہ بدقسمتی تو یہ ہے کہ ہمارے پڑوسی مسلمان ملک افغانستان نے خود ہمیں ہی نشانہ بنا رکھا ہے حالانکہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کی مدد کی، جانیں قربان کیں اور دنیا کو ناراض کرکے بھی انکی آزادی اور خود مختاری کی جنگ لڑی۔ اس وقت ہر کوئی اپنے مسئلوں میں الجھا ہوا ہے ایسے میں پاکستان کو افغانستان کے اندر سے آنیوالے حملہ آوروں کے تدارک پر فوکس کرنا ہو گا پاکستان فرسٹ کے اصول کو مدنظر رکھ کر افغانستان کی نام نہاد اسلامی حکومت کو وہ سبق سکھانا چاہئے کہ آئندہ کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سےدیکھنے کی جرات نہ کر سکے ۔