مراکو سے میرا اور میرے بھائی اشتیاق بیگ کا گہرا تعلق ہے۔ اشتیاق بیگ 20سال سے کراچی میں مراکو کے اعزازی قونصل جنرل ہیں اور بیگ گروپ کا گزشتہ 30 برس سے مراکو میں بزنس ہے، ہم نے اس عرصے میں مراکو کے بادشاہ محمد ششم (محمد بن حسن) کی قیادت میں مراکو کی ترقی دیکھی ہے۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر نے مجھے پاک مراکو پارلیمانی فرینڈ شپ گروپ کا کنوینر نامزد کیا جس کے 40سے زائد مختلف سیاسی جماعتوں کے MNA ممبرز ہیں۔ مراکو کی قومی اسمبلی کے اسپیکر رشید طالب العالمی کی سرکاری دعوت پر پاکستان کے ایک اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی قیادت میں 12سے 17فروری تک مراکو کا دورہ کیا۔ 8رکنی وفد میں میرے علاوہ قومی اسمبلی کے اراکین نوید قمر، اعجاز حسین جاکھرانی، اظہر خان لغاری، ملک سہیل خان، گل اصغر خان، سنجے پروانی، مراکو میں پاکستان کے سفیر عادل گیلانی اور قومی اسمبلی کے اسپیشل سیکریٹری وسیم اقبال چوہدری شامل تھے۔ مراکو شمالی افریقہ کا گیٹ وے ہے جسکی 2024ء میں جی ڈی پی 160ارب ڈالر، زرمبادلہ کے ذخائر 36ارب ڈالر اور فی کس آمدنی 4154 ڈالر تھی۔ مراکو کی آبادی 38ملین نفوس پر مشتمل ہے جس میں 99 فیصد مسلمان ہیں۔ گزشتہ 5 سال سے مراکو کی GDP گروتھ اوسطاً 2 سے 2.5 فیصد رہی۔ 2022-23ءمیں مراکو اور پاکستان کی باہمی تجارت ایک ارب ڈالرتک پہنچ گئی تھی لیکن 2024-25 میں یہ کم ہوکر 662 ملین ڈالر پر آگئی جس میں مراکو کی پاکستان ایکسپورٹ 634ملین ڈالر جبکہ پاکستان کی مراکو ایکسپورٹ صرف 29 ملین ڈالر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مراکو کو راک فاسفیٹ کے ذخائر سے مالا مال کیا ہے جو فرٹیلائزر (کھاد) بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔ پاکستان کے فوجی گروپ نے مراکو کے ساتھ کاسابلانکا میںفاسفورک ایسڈ بنانے کا ایک جوائنٹ وینچر (OCP) کیا ہے جو فاسفورک ایسڈ پاکستان ایکسپورٹ کرتا ہے۔ OCP کا سالانہ ٹرن اوور 11 ارب ڈالر ہے جبکہ پاکستان سے مراکو ایکسپورٹ میں ٹیکسٹائل، فارما سیوٹیکل، سرجیکل اور اسپورٹس گڈز اور ڈینم فیبرک قابل ذکر ہیں۔ دورے کے دوران پاکستانی وفد نے مراکو کے دارالحکومت رباط میں مراکو کے بادشاہ محمدV کے مزار پر حاضری دی جسکے بعد مراکو کی قومی اسمبلی (مجلس نواب) کے اسپیکر، چیئرمین سینیٹ (ہائوس آف قونصلرز) اور اراکین سے میٹنگز ہوئیں۔ پاکستانی وفد کے سربراہ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بتایا کہ پاکستان اور مراکو کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتے پہلے سے موجود ہیں اور دونوں ممالک بین الاقوامی سطح پر ایک دوسرے کے موقف کی حمایت کرتے ہیں۔ پاکستان نے مراکو کی آزادی کی تحریک میں بھرپور ساتھ دیا۔ 1952 ءمیں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر مراکو کے بادشاہ محمد پنجم کی طرف سے بھیجے گئے نمائندے احمد عبدالسلام بلفرج جب مراکو کی آزادی کے حق میں بولنے کیلئے کھڑے ہوئے تو فرانسیسی نمائندے نے یہ کہہ کر انہیں روک دیا کہ ’’مراکو، فرانس کی کالونی ہے لہٰذا احمد بلفرج کو اس پلیٹ فارم سے بولنے کی اجازت نہیں۔‘‘ اجلاس میں پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان نے رات گئے نیویارک میں پاکستانی سفارتخانہ کھلواکر احمد بلفرج کو پاکستانی پاسپورٹ جاری کیا جس کے بعد احمد بلفرج نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب کرکے مراکو کی آزادی کیلئے آواز بلند کی اور بالآخر 19 نومبر 1956 میں مراکو فرانس کے تسلط سے آزاد ہوا اور احمد بلفرج کو مراکو کا پہلا وزیراعظم نامزد کیا گیا۔ مراکو میں پاکستان کے سفیر عادل گیلانی نے مجھے اسی پاکستانی پاسپورٹ کی کاپی کا سووینر پیش کیا۔ پاک مراکو فرینڈشپ گروپ کے کنوینر کی حیثیت سے میں نے کہا کہ مراکو ہمارا دوسرا گھر ہے۔ پاکستان نے مراکو میں فرٹیلائزر پلانٹ میں 400 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے اور سیالکوٹ کی کمپنی فارورڈ اسپورٹس جو ورلڈ کپ کیلئے فٹ بال بنارہی ہے، مراکو میں فٹ بال بنانے کے جوائنٹ وینچر میں سرمایہ کاری کرنے جارہی ہے۔ 2030 میں فیفا ورلڈ کپ مراکو میں منعقد ہورہا ہے جو مراکو کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ گزشتہ سال 18 ملین سے زائد غیر ملکی سیاحوں نے مراکو کا دورہ کیا۔ مراکو کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ امریکہ اور یورپی یونین نے مراکو کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے (FTA) کئے ہوئے ہیں جسکے تحت مراکو کو امریکہ اور EU بغیر کسٹم ڈیوٹی ایکسپورٹ کی سہولت حاصل ہے۔ میں 2019 میں FPCCI کے سینئر نائب صدر کی حیثیت سے بزنس مینوں کا وفد لے کر مراکو گیا تھا اور دنیا کی تیز ترین ٹرین ’’البراق‘‘ جس کی رفتار 350 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے، کے ذریعے ہم تنجیر پورٹ پہنچے جس کے فری زون سے یورپین گاڑیاں رینولٹ، پیجو، سٹرون اور فیٹ مینوفیکچر ہوکر بحری جہازوں میں لوڈ ہوکر یورپ جارہی تھیں۔ تنجیر پورٹ کے صرف ایک زون سے سالانہ 15 ارب ڈالر کی ایکسپورٹ ہوتی ہے۔ پاکستان میں مراکو کے سفیر محمد کرمون اور اعزازی قونصل جنرل اشتیاق بیگ کی کاوشوں سے دونوں ممالک کے مابین باہمی تجارت ایک ارب ڈالر کے قریب پہنچ گئی ہے۔ FPCCI کی پاک مراکو بزنس کونسل Look Africa پالیسی کے تحت ہر سال پاکستانی ایکسپورٹرز کا وفد مراکو لے کر جاتی ہے اور پاکستانی چاول مراکو میں متعارف کرانے کیلئے ’’بریانی فیسٹیول‘‘ منعقد کرتی ہے۔ پاکستانی وفد کے دورہ مراکو کا مقصد پاکستان اور مراکو کے درمیان پارلیمانی روابط کو فروغ دینا اور سیاسی، سماجی اور معاشی شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا تھا۔ جدید دور میں خارجہ پالیسی صرف سفارتی حد تک محدود نہیں بلکہ پارلیمانی سفارتکاری بین الاقوامی تعلقات کے فروغ کا ایک موثر ذریعہ بن چکی ہے۔ پاکستان مراکو تعلقات کو مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کیلئے پاکستانی پارلیمانی وفد کا دورہ مراکو ایک بروقت کوشش ہے۔