ایپسٹین فائلز نے ایک بار پھر ہم جیسے سادہ لوح حضرات کو یاد دہانی کرائی ہے کہ جو نظر آتا ہے وہ ہے نہیں، فیصلہ ساز بھی کٹھ پتلیاں ہیں، یہ توہم کا کارخانہ ہے، جھوٹ اور آدھا سچ حکم ران ہیں، یاں وہی ہے جو اعتبار کیا، جنگ اور امن کے فیصلے کرنے والے اپنے فیصلوں کے اسباب و اغراض بتاتے کچھ ہیں، ہوتے کچھ ہیں۔ اور سچ تو یہ ہے کہ ہاتھیوں کے فیصلوں کی حقانیت ان کے وزن سے طے ہوتی ہے، باقی سب زیبِ داستاں سمجھا جائے۔ایران اور "انکل‘‘کے تو مذاکرات ہو رہے تھے، پیر کو بھی ایک راؤنڈ تھا، مگر یوم السبت (ہفتہ) کو حملہ ہو گیا۔ یعنی مذاکرات ایک سموک سکرین تھے، یعنی جو نظر آتا ہے وہ ہے نہیں۔ ایران پر حملہ اس لیے کیا گیا کہ اس کا نیوکلیئر پروگرام روکنا مقصود تھا؟ ایران تو 2015 میں چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ معاہدے کے بعد اپنے پروگرام سے قریباً دست بردار ہو چکا تھا اور کڑی عالمی نگرانی قبول کر چکا تھا، اور پچھلے سال جون میں انکل نے اعلان کیا تھا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام صفحہء ہستی سے مٹا دیا گیا ہے۔ یعنی ایران پر حملے کا جو سبب بتایا گیا وہ تھا ہی نہیں۔ ایرانی عوام کو ملاؤں کے پنجے سے آزاد کروانا مقصود تھا، بالخصوص ایرانی خواتین کو؟ آزادی کی اس مہم کا آغاز سات سے بارہ سال تک کی 150 معصوم بچیوں کو قتل کر کے کیا گیا۔ لیبیا، شام، عراق، یمن، فلسطین اور افغانستان کے عوام بالخصوص خواتین آزادی کی لذت سے پہلے ہی ہم کنار کروائے جا چکے ہیں۔ جنگوں کے اسباب و اغراض بتائے جاتے ہیں کچھ، ہوتے ہیں کچھ۔جب آفتاب ڈھل رہا ہوتا ہے تو آسمان کا رنگ سُرخ ہو جاتا ہے، سائے لمبے ہو جاتے ہیں۔ اپنی چودھراہٹ بچانے کیلئے، چودھری دیوانگی کی آخری حد تک جاتا ہے۔ دنیا میں بھی یہی ہو رہا ہے، دنیا بدل رہی ہے، چودھری وقت کی حرکت روکنا چاہتا ہے، پچھلی صدی میں موجودہ عالمی سیاسی و معاشی نظام بڑی احتیاط سے وضع کیا گیا تھا، جسکا مقصد ایک یونی پولر ورلڈ تخلیق کرنا تھا، ایک ایسی دنیا جسے "ڈالر‘‘کے ستون پر کھڑا کیا گیا تھا، بینکنگ کا نظام، تجارت کا نظام، قرضوں کا نظام، زرِ مبادلہ کے ذخائر، سب کچھ اس نظام میں باندھ لیا گیا۔ بے پناہ بری و بحری فوجی طاقت کے علاوہ امریکہ کی پیداواری صلاحیت، سیاسی استحکام، عدالتی ساکھ اور آزادانہ معاشی منظر اس نظام کے اہم اجزاتھے۔ اس نظام کو برقرار رکھنے کیلئے ائی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے ادارے قرضے بھی دیتے ہیں (ڈالرز میں)، اسی نظام کے تحفظ کیلئے ملکوں پر معاشی پابندیاں لگائی جاتی ہیں، اور اسی نظام کو مستحکم کرنےکیلئے جنگیں آغاز کی جاتی ہیں۔ جو ملک کسی اور کرنسی میں تجارت کرنے کی کوشش کرتا ہے اُس کے گرد سرخ دائرہ لگا دیا جاتا ہے، اسے عالمی معاشی نظام سے باہر کر دیا جاتا ہے، کروڑوں لوگوں کا معاشی گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔ اور اگر پھر بھی وہ "راہِ راست‘‘پر نہ آئے تو اُس ملک کے شہروں پر ہزاروں ٹن جلتا ہوا لوہا برسا دیا جاتا ہے۔
یہ ہے ایران کا گناہ، یہ ہے تہران پر بم باری کی بنیادی وجہ!ایران چین کو یوان میں تیل بیچتا ہے، اب چین پر تو حملہ نہیں ہو سکتا۔ روس بھارت اور چین کو مختلف کرنسیوں میں تیل بیچتا ہے، ان ملکوں پر بھی براہِ راست فوج کشی نہیں ہو سکتی، ان ملکوں کا علاج معاشی پابندیوں اور ٹیرف سے کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایران نسبتاً آسان ہدف تھا، سو اُس پر بم برسا دیے گئے۔ حالانکہ تیل برآمد کرنے والے خطے کا عدم استحکام اربوں ڈالر کے نقصان کا باعث بن سکتا ہے، مگر چودھری کے سٹیک بہت بڑے ہیں، یہ ڈالر کی بزرگی کا سوال ہے۔ پچھلی صدی کے وسط میں جس طرح امریکی ڈالر نے برطانوی پاؤنڈ کی جگہ لی تھی، ابھی کوئی کرنسی اُس پوزیشن میں نہیں ہے، لیکن موجودہ نظام میں چین اور روس شکنیں ڈال رہے ہیں، اسی طرح کئی علاقائی اتحاد ڈالر کے شکنجے سے نکلنے کیلئےکسمسا رہے ہیں۔ جس روز چین اپنے بزنس پارٹنر کو عملی طور پر تحفظ فراہم کرنے کی حیثیت میں آ جائے گا، موجودہ عالمی معاشی نظام لپٹ جائیگا۔ فی الحال مزید جنگوں کا اندیشہ ہے، یہ ڈالر کی حُرمت کا معاملہ ہے۔ چراغ کی لو پھڑپھڑائے گی۔ مکمل غلامی اختیار نہ کرنے والے حکم ران اپنے گھروں سے اغواء بھی ہو سکتے ہیں، اپنے گھروں میں قتل بھی ہو سکتے ہیں۔ دوسری طرف نتن یاہو کی جنگ کے مقاصد زیادہ واضع ہیں۔ خطے میں اس کے تزویراتی اہداف عیاں ہیں۔ مگر سب سے بڑھ کر یہ اس کے ’’ایمان‘‘کا مسئلہ ہے۔ وہ اپنی مذہبی کُتب سے نقشے نکال کر اس خطے میں عظیم تر اسرائیل کا خواب دیکھ رہا ہے۔ اب تو یہ کھلی کھلی عداوتیں غنیمت لگتی ہیں۔ایران کے سیاسی نظام کو "ملائیت‘‘کہا جاتا ہے۔ یہ بے شک آمرانہ نظام ہے۔ اس ریاست میں انسانی حقوق کا تصور دھندلا ہے، سیاسی مخالفین کے ساتھ ظالمانہ سلوک روا رکھا جاتا ہے، ایک جملے میں، ہم اس نظام کے مداح نہیں ہیں۔ لیکن ایک اصول سیدھا ہے، جب استعمار کسی ریاست اور قوم پر حملہ آور ہو گا تو ہم اس ریاست، اسکی حکومت اور اسکے عوام کی غیر مشروط حمایت کریں گے۔ اور یہ سبق ہم نے سیدھا سیدھا اقبال لاہوری سے سیکھا ہے، فرماتے ہیں "میرے سودائے ملوکیت کو ٹھکراتے ہو تم۔۔۔تم نے کیا توڑے نہیں کم زور قوموں کے زجاج۔۔۔یہ عجائب شعبدے کس کی ملوکیت کے ہیں، راج دھانی ہے مگر باقی نہ راجہ ہے نہ راج…تم نے لوٹے بے نوا صحرا نشینوں کے خیام، تم نے لوٹی کشتِ دہقاں تم نے لوٹے تخت و تاج۔‘‘