• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسرائیلی آبادکاروں پر پابندیاں ناکافی، اسرائیلی حکومت کو نشانہ بنایا جائے: انسانی حقوق کی تنظیموں کا مطالبہ

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، فرانس، نیوزی لینڈ اور ناروے نے 9 جون 2026ء کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آبادکاروں کے تشدد کی مالی معاونت اور کارروائیوں میں ملوث نیٹ ورکس پر مشترکہ پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ نے 6 اداروں اور 1 فرد پر پابندی عائد کی ہے جبکہ فرانس نے اسرائیلی وزیرِ خزانہ بیزلیل سموٹریچ، 3 آبادکار گروپ رہنماؤں اور 21 آبادکاروں کے ملک میں داخلے پر پابندی لگائی ہے۔

تاہم فلسطینی رہنماؤں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات بحران کی سنگینی کے مقابلے میں ناکافی ہیں اور اصل ذمے دار اسرائیلی حکومت کو جوابدہ نہیں ٹھہراتے۔

برطانوی چیریٹی ادارے ’کرسچن ایڈ‘ کی برطانوی سربراہ جینیفر لاربئی نے پابندیوں کو بہت کم اور بہت دیر سے اٹھایا گیا قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینیوں کو مسلسل ان کی زمینوں سے بے دخل کیا جا رہا ہے جبکہ عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

فلسطینی قومی اقدام کے سیکریٹری جنرل مصطفیٰ برغوثی نے کہا ہے کہ مغربی حکومتیں اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات پر عوامی غصے کو کم کرنے کے لیے علامتی اقدامات کر رہی ہیں، آبادکاری کی منصوبہ بندی، مالی معاونت اور توسیع خود اسرائیلی حکومت کرتی ہے اس لیے صرف چند افراد یا گروہوں پر پابندیاں مسئلے کا حل نہیں۔

واضح رہے کہ اوسلو معاہدوں کے وقت مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں تقریباً 250,000 اسرائیلی آبادکار موجود تھے جبکہ اب یہ تعداد 700,000 سے تجاوز کر چکی ہے۔

دوسری جانب تقریباً 3 ملین فلسطینی انہی علاقوں میں رہتے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل برطانیہ کے کرائسز رسپانس منیجر کرسٹیان بینیڈکٹ نے کہا ہے کہ آبادکاروں کے مالی نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا کافی نہیں بلکہ ان پالیسیوں کے معماروں کو بھی جوابدہ بنانا ضروری ہے۔

انہوں نے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو، سابق وزیرِ دفاع یوآو گیلنٹ اور دیگر اعلیٰ حکام پر پابندیوں کا مطالبہ کیا ہے، نیتن یاہو اور گیلنٹ کو جنگی جرائم کے الزامات پر بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹس کا بھی سامنا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی ایک تحقیق کے مطابق اسرائیلی حکام آبادکاروں کے حملوں میں براہِ راست ملوث رہے ہیں جبکہ اسرائیلی فورسز نے متعدد مواقع پر آبادکاروں کو تحفظ فراہم کیا۔

دوسری جانب اسرائیل نے نئی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں شرمناک اقدامات قرار دیا ہے۔

اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان اورین مارمورسٹین نے کہا ہے کہ یہ اقدامات سر زمینِ اسرائیل میں یہودیوں کی آبادکاری کے حق کے خلاف سیاسی مؤقف مسلط کرنے کی کوشش ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک ایک طرف محدود پابندیاں لگا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف اسرائیل کے ساتھ اسلحے اور تجارتی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

برطانیہ نے اگرچہ کچھ اسلحہ برآمدی لائسنس معطل کیے ہیں لیکن وہ اب بھی ایف-35 جنگی طیاروں اور دیگر فوجی ساز و سامان کے پرزے اسرائیل کو فراہم کر رہا ہے۔

جرمنی امریکا کے بعد اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے اور اسرائیل کی روایتی ہتھیاروں کی درآمدات کا تقریباً 30 فیصد جرمنی سے آتا ہے۔

اسپین اور آئر لینڈ ان چند یورپی ممالک میں شامل ہیں جنہوں نے ریاستِ فلسطین کو تسلیم کیا ہے، جنوبی افریقا کی جانب سے بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں دائر نسل کشی کے مقدمے کی حمایت کی اور اسرائیل کے لیے نئے اسلحے کے برآمدی لائسنس معطل کر دیے ہیں۔ 

دونوں ممالک یورپی یونین اور اسرائیل کے درمیان معاشی معاہدے کی معطلی کے لیے بھی سرگرم کوششیں کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید