اسرائیل امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو 3 ماہ گزرنے کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی فوجی کامیابیوں کو سیاسی فتح میں تبدیل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران اب بھی آبنائے ہرمز پر اثر و رسوخ رکھتا ہے جبکہ امریکا ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں سرگرم اتحادی گروہوں پر بھی مکمل کنٹرول حاصل نہیں کر سکا۔
امریکی حملوں میں ایران کے کئی فوجی اڈے، میزائل نظام اور اعلیٰ کمانڈر شہید ہوئے تاہم ایران نے جواب میں خلیجی بحری راستوں کو متاثر کیا، اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک پر حملے کیے اور عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ بھی ہوا۔
رائٹرز کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے جنگ کے آغاز میں ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے، خطے میں اس کے اثر کو کمزور کرنے اور ایرانی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے دعوے کیے تھے لیکن اب تک یہ اہداف مکمل نہیں ہو سکے۔
رپورٹ میں شامل کی گئی امریکی ماہرین کی رائے کے مطابق ایران نے شدید نقصان کے باوجود یہ تاثر دیا ہے کہ وہ امریکی دباؤ برداشت کرنے اور طویل تنازع جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ادھر ٹرمپ کو اندرونِ ملک بھی مشکلات کا سامنا ہے، بڑھتی ہوئی پیٹرول کی قیمتیں، کم ہوتی عوامی مقبولیت اور کانگریس انتخابات کے دباؤ نے ان کی سیاسی پوزیشن کو متاثر کیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر سفارتی مذاکرات ناکام ہوئے تو ٹرمپ محدود نئے حملوں کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں تاہم اس سے مشرقِ وسطیٰ میں مزید کشیدگی کا خدشہ بڑھ جائے گا۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنگ کے بعد ایران مزید سخت مؤقف اختیار کر سکتا ہے اور ممکن ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو مزید تیز کرے تاکہ مستقبل میں خود کو محفوظ بنا سکے۔