امریکی تقسیم ہو چکے ہیں۔ مختلف جائزوں میں امریکی عوام کی اکثریت نے ٹرمپ کے ایران پر حملوں کو منظور نہیں کیا ۔ایک سروے میں 56 فیصد نے اس پالیسی کو مسترد کیا ہے۔ ایک دوسرے سروے میں اس کے حق میں صرف 27 فیصد نے رائے دی ، 43فیصد نے مخالفت میں اور 29 فیصد لا تعلق ر ہے۔ میرا احساس اپنے تجربوں مشاہدوں کی روشنی میں کہہ رہا ہے کہ ایران میں’ رجیم چینج‘ہو یا نہ ہو امریکہ میں ضرور ہو سکتا ہے۔امریکہ میں میڈیا آزاد ہے۔ عدلیہ قانون اور آئین کے مطابق فیصلے کرتی ہے۔امریکی ایوان نمائندگان میں بھی اپنے ضمیر کے مطابق کھل کر تقریریں کی جاتی ہیں۔ جہاںThe war powers
resolution 1973پر ووٹنگ میں حکمران پارٹی صرف سات ووٹ سے قرارداد کو مسترد کروا سکی۔ اس جنگ کیخلاف 212 ووٹ آئے اور حق میں 219 ۔رائے عامہ روز تبدیل ہو رہی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنے اداروں کے قواعد و ضوابط سے بالادستی کو پسند نہیں کیا جا رہا، امریکی اشرافیہ سخت پریشان ہے۔ بے یقینی غالب ہے ۔ویتنام عراق کا حوالہ دیا جا رہا ہے۔ افغانستان میں رائیگاں جانے والے 20 سال کی بات ہو رہی ہے۔ ساری ریاستوں میں ایک تاثر عام ہے اور اس پر امریکی اکثریت شرمندہ بھی ہے وہ جو کہا جاتا تھا کہ امریکہ سب سے پہلے اب واضح طور پرطعنہ زنی ہو رہی ہے کہ اب اسرائیل سب سے پہلے ہے اور امریکہ اس کے بعد۔ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کو ایران پر حملے پر مجبور کیا ہے۔ امریکہ ایران میں مذاکرات مسقط میں جاری تھے تو ان حملوں کا کوئی جواز نہیں تھا۔ جب ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیںاور نہ ہی ایٹم بم بنانے کے شواہد ملے ہیں تو ان ہلاکت خیز کارروائیوں کا کیا مقصد تھا۔ امریکی صدر اسرائیلی وزیراعظم کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں اور اپنے آئین روایات اور سیاسی میراث کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔
آج اتوار ہے۔ اپنے بیٹے بیٹیوں، پوتے پوتیوں، نواسے نواسیوں، بہوؤں دامادوں کے ساتھ بیٹھنے ملکی و عالمی امور پر بات کرنے کا دن۔ اکثر خاندانوں کے پیارے امریکہ میں ہیں دبئی ،سعودی عرب، قطر ،مسقط ،بحرین، کویت میں ہیں آپس میں فون پر ای میل پر، واٹس ایپ پر بات ہوتی ہے خلیج کی صورتحال کا حوالہ ضرور دیا جاتا ہے۔ بچے بہت سے سوالات کرتے ہیں اور ان کا مدلل اور منطقی جواب چاہتے ہیں۔ پاکستان میں بھی امریکہ کے خلاف اشتعال میں اضافہ ہو رہا ہے۔
جنگی اختیارات کی قرارداد 1973 کا تقاضا ہے کہ صدر کو کسی بھی فوجی کارروائی سے کانگریس کو 48 گھنٹے کے اندر مطلع کرنا ہوتا ہے اور اگر کانگریس اس کی اجازت نہ دے تو فوج کی لام بندی کو صرف 60 یا 90 دن تک محدود کرنا ہوتا ہے۔ اس بار تو یہ قرارداد صرف سات ووٹ سے مسترد ہو گئی ہے لیکن یہ بتایا جا رہا ہے کہ ایسی قراردادیں آئندہ بھی پیش ہو سکتی ہیں۔ ایوان نمائندگان میں دو نمائندوں کینٹکی سے تھامس میسی اور کیلیفورنیاسےرو کھانا نے ایسی ہی قرارداد متعارف کروا دی ہے ۔ورجینیا سےسینیٹر ٹم کین نے سینٹ میں ایران پر کانگریس کی منظوری کے بغیر فوجی حملوںکے خلاف قرارداد بھیج دی ہے ۔
صدر ٹرمپ کے مزاج میں آئینی قانونی حدود کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ وہ مطلق العنان آمر کی طرح کارروائیوں کے قائل ہیں۔ ان کے فیورٹ حکمران بھی ایسی ریاستوں کے ہیں جہاں جمہوریت نہیں بادشاہت ہے، امارتیں ہیں، خلیج کے ایسے ممالک ہی اس وقت انتشار سے دوچار ہیں۔ مگر امریکی سوسائٹی نے آزادی تحریر و تقریر کانگریس اور سینٹ کی بالادستی طویل جدوجہد سے حاصل کی ہے۔ دانشوروں، سیاست دانوں ،ادیبوں، شاعروں حقوق انسانی کے علمبرداروں نے بہت جدوجہد اور قربانیوں سے اس منزل پر قدم رکھا ہے۔
صدر ٹرمپ کی ان من مانیوں کے باعث ہمیشہ سے امریکہ کا اتحادی یورپ بھی امریکہ سے دور ہو رہا ہے۔ اسپین نے ایران کے خلاف اپنی سرزمین کو استعمال کرنے کی امریکہ کو اجازت نہیں دی۔ دوسرے یورپی ملکوں میں بھی ایسے ہی جذبات پائے جاتے ہیں۔ کیونکہ یورپ نے طویل جنگوں سے بہت نقصانات اٹھائے ہیں۔ ایران کی مزاحمت نے عالمی رائے عامہ کو امریکہ اور اسرائیل کے خلاف شدت سے قائل کر لیا ہے۔ امریکہ میں بھی پہلے جب ایسی صورتحال پیش آئی ہے تو سابق جنرلوں کے بھی بیانات آتے رہے ہیں اب بھی آ رہے ہیں۔ اور ایک کارروائی بھی متوقع ہے کہ جو سابق امریکی صدور زندہ ہیں ان کی طرف سے بھی ایسا کوئی موقف سامنے آ سکتا ہے۔
امریکہ اسرائیل کی ان جارحانہ کارروائیوں اور ایران کی آبنائے ہرمز پر پابندی نے عالمی معیشت کو تہ و بالا کر دیا ہے۔ فوری اثرات تو سامنے آرہے ہیں لیکن ترقی یافتہ دنیا کو سالہا سال اسکے بھیانک نتائج سے دوچار ہونا ہوگا۔ خلیج کی ریاستوں میں دنیا بھر کے سرمایہ کار اس لیے سرمایہ لے کر آتے تھے کہ یہاں استحکام تھا سرمائے کی حفاظت ہوتی تھی۔ محنت کش مزدوروں کی خدمات امریکہ یورپ کی نسبت سستی مل جاتی تھیں پھر امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی کے باعث بھی یہ سمجھا جاتا تھا کہ یہاں کسی کو حملے کی جرات نہیں ہوگی مگر ایران کی حکمت عملی نے اس توقع کو خاک میں ملا دیا ہے۔
برطانیہ کے موقر ہفت روزہ دی اکنامسٹ نے سرورق کہانی دی ہے
A war without a strategy ایک جنگ کسی حکمت عملی کے بغیر۔ صدر ٹرمپ سیمابی طبیعت رکھتے ہیں ۔امریکہ کے سنجیدہ حلقوں میں ضرور ندامت ہوگی کہ ہم نے سفید فاموں کی بالادستی کیلئے کیسے ایک مضطرب اور خود پرست شخص کو سب سے بڑی طاقت کی باگ ڈور دے دی ہے۔ ایسے حکمرانوں کو کسی حکمت عملی کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی۔ ایک امریکی نوجوان خاتون بہت ہی خطرناک ڈرائیونگ کرتے ہوئے کاروں کو ٹکر مارتے فٹ پاتھوں سے ٹکراتی جا رہی تھی۔ اس کا تعاقب کرتے پولیس سارجنٹ نے تباہی بربادی کے بعد اسے جا لیا کیونکہ کار نےآگے چلنے سے انکار کر دیا تھا۔ پولیس سارجنٹ نے اپنا روایتی جملہ بولا ’میڈم آپ کا لائسنس‘ خاتون نے بڑے تحمل سے کہا’’سارجنٹ تم اتنی دور سے میرا پیچھا کرتے آ رہے ہو۔ کیا ایسی ڈرائیونگ کرنے والی خاتون کو کوئی لائسنس دے گا‘‘اکنامسٹ کی صدر ٹرمپ سے جنگ میں حکمت عملی کی توقع بھی پولیس سارجنٹ والا سوال ہی ہے۔
ابھی تو خدا کا شکر ہے کہ ساری دنیا کے حکمران صدر ٹرمپ کی طرح جنونی نہیں ہو گئے ہیں۔ یورپ اور ایشیا میں اب بھی منطق اور دلیل مانی جاتی ہے۔ اس جنونیت کے نتیجے میں میزائلوں اور ڈرونوں کی ہلاکت خیزی کے بعد مشرق و مغرب میں فکری تبدیلی آئے گی۔ خلیج اور مشرق ِوسطیٰ میں ان فوجی کارروائیوں سے متاثر ہونے والے سرمایہ کار اب یہاں سے اثاثے منتقل کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ پھر وہ سرمایہ کہاں لگائیں گے ایک دو ہفتے میں ظاہر ہو جائے گا۔ امریکی کانگریس اور سینٹ میں سات ووٹوں کا توازن جلد ہی کسی اور رخ میں جا سکتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اپنے پنجوں پرامریکہ کب تک کھڑا رہ سکتا ہے۔