(گزشتہ سے پیوستہ)
فاطمہ جنا ح میڈیکل یونیورسٹی کی خودکشی کرنے والی طالبہ فریحہ افراہیم کے حوالے سے بعض سوشل میڈیا والوں نے اپنی ریٹنگ بڑھانے کیلئے حقائق سے بہت ہٹ کر اور تحقیق کے بغیر خبریں دیں۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ ہم نے فاطمہ جنا ح میڈیکل یونیورسٹی کے ہوسٹل ڈی بلاک کی تیسری منزل پر جا کر سارا جائزہ لیا ہے جو ہمیں صورتحال نظرآئی اور جو کچھ شواہدہوسٹل اور بعض طالبات کے بیان جو ایکسٹرنل ریو یو کمیٹی کے سامنے آئے ہیں ان کے مطابق وہ طالبہ شام ساڑھے سات بجے خود ڈی بلاک کے ہوسٹل کی چھت پر گئی اور وہاں سے اس نے چھلانگ لگا دی اس کو کسی نے دھکا نہیں دیا اور وہ اپنے آپ گری جبکہ اس کا موبائل فون کمرے کے بیڈ پر پڑا تھا اور کتابیں بھی کھلی ہوئی تھیں۔ جہاں تک یہ خیال ہے کہ اس طالبہ کا کسی کے ساتھ تعلیمی مقابلہ تھا اور کوئی ایسی صورتحال بنی کہ اس کو کوئی دھکا دے ،ایسا نہیںہےکیونکہ ایف جے ایم یو سی میں تمام لائق بچیاں ہی ہوتی ہیں ظاہر ہے جو اچھی پرفارمنس دکھائے گی وہ آگے آئے گی ۔ اس طالبہ کا شمار ذہین بچیوں میں ہوتا تھا۔ فاطمہ جنا ح میڈیکل یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز کے بھی صدر ہیں اور پورے میڈیکل پروفیشن میں بہت اچھی شہرت کے مالک ہیں ،باریش ہیں اور یونیورسٹی میں بہت اسلامی ماحول ہے خود کشی کرنے والی طالبہ بھی مذہبی اور باپردہ تھی۔ اس حادثے سے کچھ دیر قبل اس کی اپنے والد سے بات ہوئی تھی جس میں اس نے والد کو بتایا تھا کہ اسے نیند نہیںآتی بہرحال اس المناک واقعے پر ہر آنکھ اشکبار ہے اور سوشل میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ والدین کے دکھ میں مزید اضافہ نہ کرے۔ اس سارے معاملے کی سول لائنز تھانے کے ایس ایچ او ندیم کمبوہ نے بڑی مہارت کے ساتھ تفتیش کی ہے۔اور ابھی مزید تفتیش اور موبائل فون کی رپورٹ آنی ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں کونسلنگ کا کوئی نظام نہیں خصوصاََ اسکولوں میں تو بالکل کونسلنگ نہیں ہوتی۔آج بھی دیہات کے اسکولوں میں اساتذہ کا روایتی انداز ہے ۔اسٹوڈنٹس کے ساتھ کونسلنگ سے بہت سارے مسائل حل ہو جاتے ہیں جن اسٹوڈنٹس کے اندر کوئی ایسی سوچ جنم لے رہی ہوتی ہے اس کو بھی ختم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ابھی پچھلے ہفتے قصور کی ایک طالبہ نے اپنے ساتھی طالب علم کی طرف سے نازیبا ویڈیو بنانے اور بلیک میل کرنے پر فون پر لائیو اس کے سامنے خودکشی کر لی ایسے شخص کو کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہیے ۔ یہ بڑا ہی افسوسناک واقعہ تھا اس طالبہ کی خودکشی کرتے ہوئےلائیو ویڈیو سوشل میڈیاپر ہے۔ اس وقت ہمارے تعلیمی اداروں میں کونسلنگ کا کوئی باقاعدہ نظام نہیں۔ پنجاب یونیورسٹی میں 30 ہزار سے زائداسٹوڈنٹس ہیں وہاں پر اگر ایک یا دو افراد کونسلنگ کیلئے ہیں تو بالکل صحیح نہیں ، اس وقت لاہور کالج میں 20 ہزار طالبات کی کونسلنگ کیلئے صرف دو اساتذہ ہیں۔ اصل میں ہمارے حکمرانوں اور وزیر تعلیم کو اپنے کاموں سے فرصت نہیں وہ صرف سیاسی بیان بازی کیلئےتعلیم کے بارے میں دو چار بیانات دے دیتے ہیں ۔ستم ظریفی یہ ہے کہ پنجاب میں ایک زمانےمیں ہائر ایجوکیشن کمیشن کیلئے کالجوں اور یونیورسٹیوں کے معاملات کو دیکھنے کیلئے علیحدہ وزیر ہوتا تھا۔ اسکول اور کالج کیلئے علیحدہ علیحدہ وزیر ہوتے تھے۔جب آپ کے سیکرٹری اسکولزاور سیکرٹری ہائر ایجوکیشن علیحدہ علیحدہ ہیںتو پھر وزیر ایک کیوں ؟وزیراعلیٰ کو چاہئےہائر ایجوکیشن کیلئے علیحدہ وزیر مقرر کریں۔ اب دونوں شعبے موجودہ وزیر تعلیم کے پاس ہیں وہ بھلا کس طرح اسکولوں اور کالجوں کے مسائل اور معاملات پر بھر پورتوجہ دے سکتے ہیں ۔ پھر ہمارے ہاں زیادہ تر وقت تو لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریبات میں ضائع ہو جاتا ہے ۔کبھی کسی وزیر تعلیم نے کسی کالج یونیورسٹی میں جا کر کھلی کچہری لگائی ہے اوراسٹوڈنٹس کے مسائل سنے ہیں؟ کیا ہماری بیوروکریسی اور وزیر تعلیم کو پنجاب کے انتہائی پسماندہ اور دور دراز علاقوں اور دیہات کے کالجوں اوراسکولوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہے پنجاب کے کئی تعلیمی ادارے ایسے ہیں جہاں کبھی کوئی سیکرٹری تعلیم اور وزیر تعلیم نہیں گیا۔ ارے بابا کونسلنگ کیلئے ا سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں کمیٹیاں بنائی جانی چاہئیں۔ اسٹوڈنٹس کے نفسیاتی مسائل، گھریلو مسائل ،کلاس فیلوز اور اساتذہ کے رویوں، سوسائٹی کے دباؤ اور مستقبل کی غیر یقینی صورتحال پر ان سے بات چیت کریں۔ ان سے ان کی گھریلو زندگی کے بارے میں بات کریں، جس زمانے میں ہم گورنمنٹ کالج لاہور میں زیر تعلیم تھے تو ہر جمعہ کوٹیٹوریل میٹنگ ہوا کرتی تھی پانچ سے سات لڑکوں کا ایک گروپ ہوتا تھا اور قریباًہر طالب علم اپنے کسی ایک استاد، جنکی ڈیوٹی ہوتی تھی ، سے بات چیت کیا کرتا تھا۔طلبہ ان کو اپنی تخلیقات بھی سنا یاکرتے تھے سیاسی معاشرتی حتیٰ کہ گھریلو معاملات اور مستقبل کے بارے میں بھی رہنمائی لی جاتی تھی۔ آج کے استاد اور شاگرد کے درمیان بہت زیادہ فاصلے آ چکے ہیں۔آج کسی بھی یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے ملنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا آپ کو دفتر لارڈصاحب کے دروازے کو کراس کرنا ۔آج کسی وائس چانسلر ، وزیر تعلیم اور چانسلر کے پاس وقت نہیں کہ وہ یونیورسٹیوں کے اسٹوڈنٹس کے مسائل سنے کھلی کچہری لگائے۔ یونیورسٹی کے چانسلر، گورنر ،پرو چانسلر ،صوبائی وزیر تعلیم، وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر پھرڈین، ڈائریکٹر اور چیئرمین اور مختلف کمیٹیوں کے سربراہ ہوتے ہیں جو یونیورسٹیوں کے معاملات کو چلاتےہیں ۔آج اساتذہ کے پاس وقت ہے اور نہ ہی ان میں وہ گہرائی ہے کہ وہ ا سٹوڈنٹس کے تعلیمی ،نفسیاتی، مالی اور گھریلو مسائل کو سنیںاور انکی رہنمائی کر سکیں۔ ہمیں یاد ہے کہ کوئی 25 برس قبل یو ای ٹی کے ایک شعبے کی طالبہ خودکشی کرنے لگی تو اس کو بروقت پکڑ لیا گیااور یونیورسٹی والوں نے اسےگھر بھیج دیا۔ اس طرح کچھ عرصہ قبل لاہور کالج یونیورسٹی کے ہوسٹل کی طالبہ بھی خودکشی کرنے لگی تھی اس کی ساتھی طالبہ نے بروقت اپنی ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کو بتا کر اسے بچا لیا تھا وہ دوسرے شہر سے آئی تھی اور اپنےآپ کو ایڈجسٹ نہیں کر پا رہی تھی ۔بعض ا سٹوڈنٹس جو دیہات اور چھوٹے شہروں سے آتے ہیں وہ لاہور آ کر خود کو ایڈجسٹ نہیں کر پاتے۔( جاری ہے)