حکومتی گاڑی نہ فراٹے بھر رہی ہے اور نہ ہوا سے باتیں کر رہی ہے طاقتور انجن کے باوجود اسکی رفتار پیسنجر ٹرین جیسی ہے حالانکہ اسے تیزگام اور ایکسپریس کی رفتار سے چلنا چاہئے۔ حکومت کے سیاسی، معاشی اور سماجی چیلنجز اس قدر زیادہ ہیں کہ کچھوے کی چال، امیدوں پر اوس ڈال رہی ہے ۔ دیکھنے والے کہتے ہیں کہ حکومت کی بیٹری ڈاؤن ہے حالانکہ سیاسی لڈو پر سیڑھیاں ہی سیڑھیاں ہیں نہ کوئی ناگ ہے اور نہ سنپولیے۔ لڈو پر سیڑھیاں ہی ملتی رہیں تو کھلاڑی کو منٹوں میں 100کا ہندسہ عبور کر کے بازی جیت لینی چاہئے مگر لڈو کا سفر ہے کہ طے ہی نہیں ہو رہا؟ ایک طرف فراری کار پابہ زنجیر ہے حامی و مخالف سب کو علم ہے کہ یہ گاڑی چلتی نہیں اڑتی ہے اسے تھوڑا سا راستہ بھی ملا تو وہ رکاوٹوں کو توڑ کر سب کو مات دیدے گی مگر حکومتی گاڑی کا انجن زوردار ہے رکاوٹ کوئی نہیں راستے کھلے ہیں ڈرائیور بھی پرانا اور تجربہ کا رہے بظاہر آئیڈیل سچویشن ہے جب سب ایک صفحے پر ہوں اور گاڑی اونچے گیئر میں نہ جائے تو لوگ یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے کہ حکومتی بیٹری ڈائون ہے-
اگر حکومتی بیٹری فُل ہو، سیاست کارفرما ہو تو سیاسی ڈیرے آباد ہو جاتے ہیں ایم پی اے اور ایم این اے کے دفاتر کھچا کھچ بھرے ہوتے ہیں سیکرٹریٹ میں آنے اور جانے والوں کا تانتا بندھا رہتا ہے مگر چونکہ بیٹری ڈائون ہے اس لئے سیاسی ڈیرے ویران پڑے ہیں، ایم این اے اور ایم پی اے جن لاکھوں لوگوں کے ووٹ لے کر آئے ہیں وہ اُن کے کاموں کیلئے انتظامیہ کو فون کرتے ہیں تو شنوائی نہیں ہوتی وزیروں کی اپنے چیف ایگزیکٹو سے ملاقات کو مہینوں گزر جاتے ہیں، اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر بااختیار اور اراکین پارلیمان بے اختیار ہیں، حد تو یہ ہے کہ اب ترقیاتی اسکیموں پر شکریے کے بینر بھی ایم پی اے یا ایم این اے کے نام کے نہیں بلکہ ان بینروں میں ڈپٹی کمشنر صاحب بہادر کا نام اور تصویر لگائی جاتی ہے۔ اسی لئے ایک جل بھنے رکن اسمبلی نے غصّے میں کہا ’’ایسا لگتا ہے کہ اگلا الیکشن بھی ڈپٹی کمشنر بہادر ہی لڑیں گے۔!!‘‘
بیٹری ڈاؤن نظام کے حامی کہتے ہیں کہ اس وقت گڈ گورننس جاری و ساری ہے سفارش کا کلچر ختم کرکے میرٹ لاگو کر دیا گیا ہے۔ گڈ گورننس ہی گڈ سیاست ہوتی ہے اور اگر اس نظام کے ثمرات آئے تو ہی گڈ گورننس، گڈ نتائج لائے گی۔ جبکہ اس نظام کے نقاد کہتے ہیں گڈ گورننس تو ٹیکنوکریٹ حکومت میں بھی ہوتی ہے کیا وہ کبھی پاپولر ہوئے ہیں؟ ان کا کہنا ہے کہ عوامی اور مقبول سیاست کیلئے لوگوں کے دل جیتنا پڑتے ہیں دفاتر آباد ہوتے ہیں تو زمین سے اقتدار کے آسمان تک ایک ڈور میں سب پروئے جاتے ہیں یہی سیاسی نیٹ ورک ہوتا ہے جو آپ کو ووٹ دلاتا ہے اور مشکل میں آپ کے کام آتا ہے ۔’’گورننس کرنا بیوروکریٹس کا کام اور سیاست کرنا سیاستدانوں کا کام ہوتا ہے‘‘ ایک سابق وزیراعظم نے اس بیٹری ڈاؤن نظام کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے ایک جملے میں ساری صورتحال کو پرو دیا۔
بظاہر موجودہ حکومت ایک آئیڈیل صورتحال میں کام کر رہی ہے ملک کی دو بڑی پارٹیاں اتحادی حکومت میں شامل ہیں پیپلز پارٹی کے پاس صرف آئینی عہدے ہیں سارے اختیارات نونی حکومت کے پاس ہیں مرکز اور سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ایک جماعت نون کی حکومت ہے نون اور پیپلز پارٹی میں اختلاف ہوں تو مقتدرہ دھکا لگا کر ان اختلافات کو ختم کروا دیتی ہے ۔عمران خان جیل میں بند ہے اور اپوزیشن حکومت کیلئے کوئی بھی رکاوٹ ڈالنے کی پوزشن میں نہیں ہے ان حالات میں تو حکومت ہر مہم آسانی سے سر کر سکتی ہے جب میدان میں آپ اکیلے ہوں اور پھر بھی آپ قلعہ سَر نہ کر سکیں تو الزام آپ ہی پر آئے گا....
آئیے دیکھتے ہیں کہ اسوقت حکومتی بیٹری کیوں ڈاؤن ہے اور اسے کون سے دو بڑے مسائل کا سامنا ہے۔ پہلا مسئلہ تو یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے اب تک جو قانون سازی کی ہے اور جو مسائل طے کئے ہیں وُہ بہت زیادہ اختلافی نہیں تھے پہلے جو کام آسانی اور معمولی دھکے سے ہو جاتے رہے ہیں این ایف سی، نئے صوبے اور دیگر آئینی معاملات میں دونوں جماعتوں کے درمیان اور پھر مقتدرہ سے سوچ میں گہرے اختلافات حائل ہیں اسلئے بیٹری ڈاؤن حکومت کا گہری خلیج کے اوپر سے چھلانگ لگا کر گزرنا ناممکن ہے اس کیلئے ایک ایک سنگ میل کو عبور کرنا پڑے گا۔
دوسرا بڑا مسئلہ نونی جماعت کے اندر کا ہے گو چچا وزیراعظم شہباز شریف اور بھتیجی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف ہیں، خوشگوار تعلقات ہیں بظاہر کوئی اختلاف نہیں مگر وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کی سمتوں اور اہداف میں بہت فرق ہے۔ وفاقی حکومت سے جڑے پیپلزپارٹی کے آئینی عہدیدار ہوں یا نون کے وفاقی وزرا یا سرکاری عمال سبھی کو پنجاب کی صوبائی حکومت سے شکوے اور شکایتیں ہیں وفاق میں جب بھی کوئی غیر رسمی اجلاس ہوتا ہے اسی طرح کی آوازیں سننے میں آتی ہیں اور جب کوئی نونی دانشمند معاملہ طے کروانے کیلئے سپریم لیڈر نواز شریف کے پاس لے جانے کی بات کرتا ہے تو اسے جواب ملتا ہے کہ نواز شریف وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ دونوں کو آزادانہ کام کرنے دیتے ہیں اور دونوں کے فیصلوں میں کم ہی مداخلت کرتے ہیں۔ وفاق اور پنجاب کے عدم تعاون پر پریشان سب ہیں مگر کسی کے پاس بھی اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔
خلیجی جنگ نے بھی معاشی مسئلے کو نیا رخ دیدیا ہے مگر حکومتی بیٹری کی سب سے بڑی خرابی معاشی مینجمنٹ میں ہے باوجود مسلسل کوششوں کےغیرملکی سرمایہ کاری لانے میں مکمل ناکامی ہوئی ہے صوبۂ پنجاب میں 50فیصد صنعتیں بند ہیں پنجاب کی صنعتوں کیلئے 19000 میگا واٹ کی بجلی منظور ہے لیکن اسوقت اس میں سے صرف 2800 میگاواٹ استعمال ہو رہی ہے پنجاب میں صنعت کیلئے بجلی کا یونٹ 32روپے فی میگاواٹ ہے، صوبہ سندھ میں صنعتوں کی صورتحال کافی بہتر ہے کیونکہ سندھ حکومت نے صنعت کاروں کو سستی بجلی کی فراہمی کیلئے ہوا سے بجلی بنانیوالے یونٹس سے نوری آباد کیلئے خصوصی ٹرانسمیشن لائن بنائی اور اب وہاں صنعتوں کیلئے بجلی 15روپے فی یونٹ مہیا ہے گویا پنجاب میں سندھ کے مقابلے میں صنعتوں کیلئے بجلی دوگنا مہنگی ہے۔ ماہرین معیشت سکڑتے ہوئے بزنس، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور سودی معیشت کے اضافے کو غلط معاشی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں ایک تحقیقی ادارے کے مطابق قیام پاکستان سے لیکر 2023ء تک کے 70سال میں بینکوں میں کل جمع شدہ رقم 23ٹریلین روپے تھی لیکن سود کا ریٹ بڑھنے سے لوگوں نے بزنس بند کرکے رقم بینکوں میں جمع کرادی اور گھر بیٹھے سود کھانے لگے۔ صرف 2024ء کے سال میں ڈپازٹ 30ٹریلین روپے تک پہنچ گیا سود کا ریٹ کم ہوکر 10.5فیصد ہوگیا مگر اب بھی کاروبار کرنا نقصان اور بینک میں پیسے رکھوانا فائدہ مند ہے اسی لئے 2025ء میں مزید 7ٹریلین روپے بینکوں کے ڈپازٹ میں چلے گئے دلچسپ بات یہ ہے کہ بینکوں کا سارا ڈپازٹ حکومت سود پر ادھار لیتی ہے اور پھر بینکوں کا وہی سود عوام میں تقسیم ہو جاتا ہے کاروبار بند، معیشت ٹھپ بس زبانی کلامی سودوں پر سودی کام جاری ہے۔ جسکی وجہ سے ملکی زرعی اور معاشی نمو ہو ہی نہیں پا رہی۔ کسی ملک کی بیٹری معیشت ہوتی ہے معیشت نہ چلے تو بیٹری ڈائون ہونا لازم اور ناگزیر ہو جاتا ہے۔
اس نظام کے چیلنجز بہت بڑے ہیں اگر حکومتی بیٹری اسی طرح ڈائون رہی تو کسی نہ کسی کو اسے ری چارج کرنا پڑے گا ہر کوئی گواہی دیتا ہے کہ بیٹری ڈائون ہونے میں وزیراعظم شہباز شریف کا کوئی قصور نہیں وُہ تو بہت محنت کر رہے ہیں مگر کچھ مسائل ان سے بھی بڑے ہیں ،سوال یہ ہے کہ کیا نظام اس حکومت کی خامیوں کیلئے کاسمیٹک سرجری کرکے اسے ٹھیک کرلے گا یا پھر بیٹری ڈائون ہی رہی تو اگلے ایک دو برسوں میں کوئی بڑی سرجری درپیش ہوگی؟