• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر شدید کشیدگی اور اضطراب کی کیفیت سے دوچار ہے۔ ایران پر اسرائیل اور امریکی حملے سے خطہ ایک ایسے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے جسکے مضمرات نہ صرف علاقائی سیاست بلکہ عالمی امن و استحکام پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ موجودہ صورتحال کو محض ایک روایتی جنگی تصادم سمجھنا حقیقت سے چشم پوشی کے مترادف ہوگا، کیونکہ یہ دراصل طاقت کے غیر متوازن استعمال کی ایک مثال ہے جہاں ایک طرف دنیا کی بڑی عسکری قوتیں ہیں اور دوسری طرف ایک ایسا ملک ہے جو اپنی بقا اور وقار کیلئے جدوجہد کر رہا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی عسکری برتری کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ جدید فضائی قوت، ڈرون ٹیکنالوجی اور مہلک ہتھیاروں کے استعمال نے جنگ کے میدان میں واضح عدم توازن پیدا کر دیا ہے۔ ایران کے اہم شہروں پر ہونیوالے حملوں نے شہری زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ رہائشی بستیوں کی تباہی، بنیادی ڈھانچے کی بربادی اور عام شہریوں کی ہلاکتیں اس المیے کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔ متعدد رہائشی علاقے ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں جبکہ بے شمار افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور زخمیوں کی ایک بڑی تعداد طبی امداد کی منتظر ہے۔امریکہ اگلے چند دنوں میں ایک بڑا حملہ کرنے جا رہا ہے جس سے بڑے نقصان کا احتمال ہے۔ ایرانی عوام اور قیادت کی جانب سے دکھایا جانیوالا حوصلہ اور استقامت یقیناً قابلِ تحسین ہے۔ ایران مشکل حالات میں بھی ثابت قدمی کی روایت رکھتا ہے۔ تاہم موجودہ جنگ کے تناظر میں حقیقت پسندی کا تقاضا ہے کہ اس صورتحال کا تجزیہ محض جذباتی نعروں کے بجائے زمینی حقائق کی روشنی میں کیا جائے۔ ایران کی فضائیہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ 60 سال پرانے چند لڑاکا طیارے کوئی کرشمہ دکھانے سے قاصر ہیں۔نیوی بھی غیر موثر اور کمزور ہے گزشتہ ایک ہفتے سے سمندر کے بجائے بندرگاہوں پر لنگر انداز ہے۔ایران کے پاس میزائلوں اور دفاعی نظام کا ایک قابل ذکر ذخیرہ ضرور موجود ہے اور اسکی جانب سے جوابی کارروائیاں بھی کی جا رہی ہیں، مگر بعض حلقوں کی طرف سے ان کارروائیوں کو غیر معمولی کامیابیوں کے طور پر پیش کرنا حقیقت کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔اگرچہ چند میزائل اسرائیلی علاقوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور بعض کارروائیوں نے امریکی مفادات کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے، تاہم مجموعی عسکری توازن اب بھی امریکہ اور اسکے اتحادیوں کے حق میں دکھائی دیتا ہے۔ دوسری طرف امریکی فضائیہ اور اسرائیلی دفاعی نظام مسلسل حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جنکے نتیجے میں ایرانی دفاعی تنصیبات، میزائل لانچنگ مقامات اور پاسدارانِ انقلاب کے بعض مراکز کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ یوں ایک طرف یہ جنگ طاقت کے مظاہرے کی صورت اختیار کر چکی ہے جبکہ دوسری طرف ایران کیلئے اپنے وجود کے تحفظ کا مسئلہ بن گیا ہے۔بین الاقوامی سطح پر اس بحران کا ردِعمل بھی خاصا معنی خیز ہے۔ روس اور چین جیسے ممالک اگرچہ ایران کیساتھ سفارتی روابط رکھتے ہیں، لیکن موجودہ کشیدگی میں انکا کردار محتاط اور محدود ہے۔ کوئی بھی ملک براہِ راست اس تصادم کو روکنے کیلئے موثر کردار ادا کرتا نظر نہیں آ رہا۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری کی خاموشی بہت سے مبصرین کیلئےسوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔

اس سے بھی زیادہ تشویش ناک امر یہ ہے کہ مسلم دنیا اس نازک مرحلے پر بھی متحد اور موثر آواز بلند کرنے میں ناکام ہے۔ اسلامی ممالک کے باہمی اختلافات اور سیاسی ترجیحات نے انہیں ایک مشترکہ موقف اختیار کرنے سے روک رکھا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف ایران کو سفارتی تنہائی کا احساس دلایا ہے ۔اطلاعاتی میدان میں بھی صورتحال مبہم ہے۔ ایران میں انٹرنیٹ کی بندش اور ذرائع ابلاغ پر عائد پابندیوں کے باعث جنگ کے اصل حالات پوری طرح سامنے نہیں آ پا رہے۔ دنیا تک پہنچنے والی خبریں محدود اور اکثر مختلف سیاسی بیانیوں سے متاثر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس جنگ کے حقیقی انسانی اور معاشی نقصانات کا مکمل اندازہ لگانا ابھی مشکل ہے۔اقتصادی لحاظ سے بھی ایران پہلے ہی مشکلات سے دوچار تھا۔ طویل عرصے سے جاری بین الاقوامی پابندیوں نے اسکی معیشت کو خاصا کمزور کر دیا تھا اور اب جنگ نے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ توانائی کے نظام میں خلل، پانی کی فراہمی میں رکاوٹیں، اسپتالوں میں ادویات کی قلت اور روزمرہ ضروریات کی کمی عام شہریوں کیلئے زندگی کو نہایت دشوار بنا رہی ہے۔صورتحال طول ہوئی تو نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔ ان حالات میں سب سے زیادہ اہمیت سفارتی حکمتِ عملی کو حاصل ہو جاتی ہے۔ عالمی برادری، خصوصاً اقوامِ متحدہ اور علاقائی تنظیموں کو چاہئے کہ وہ فوری جنگ بندی کیلئے سنجیدہ اقدامات کریں۔ اسی طرح اسلامی ممالک کو بھی چاہیے کہ وہ اختلافات سے بالا ہو کر ایک مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں تاکہ اس خطے کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ جنگیں بالآخر انسانی المیوں کو جنم دیتی ہیں۔ طاقت کے زور پر حاصل ہونے والی کامیابیاں وقتی ہو سکتی ہیں، مگر انسانی جانوں کا نقصان اور معاشرتی تباہی دیرپا اثرات چھوڑتی ہے۔ دانشمندی یہی ہے کہ تصادم کے بجائے مکالمے اور سفارت کاری کو ترجیح دی جائے تاکہ کوئی پرامن راستہ تلاش کیا جا سکے۔ایسے کٹھن اور آزمائشی لمحات میں صرف دعا ،ہمدردی اور امدادی سامان پیش کیا جا سکتا ہے۔

تازہ ترین