لیجنڈ کا لفظ بہت کثرت سے استعمال ہو رہا ہے اور بے دردی سے بھی ،پھر یہ لفظ استعمال کرنے والے ذرا نہیں ٰشرماتے جب کوئی انہیں یا ان کے اماں،باوا حتیٰ کہ ان کے بچوں کو بھی لیجنڈ کہہ دیتا ہے۔ایک وقت تھا جب انسانی ذہن چھوٹے بچے کا سا تھا اسےاس کے والدین ،ماموں چچا ہیرو دِکھتے تھے۔ ممانی،چچی اورپھوپھی کی تعریف اپنی ماں سے چھپ کر کرنی ہوتی تھی البتہ ماں نہال ہو جاتی جب کوئی کہتا کہ نانی اور ماں کے بعد میں نے یہ دانائی خالہ میں دیکھی اور اگر بابا کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھنی ہوتی تو پھوپھی کو بھی سیانوں اور ہمدردوں میں شامل کر لیتے تھے تاہم پھپھو کہہ کر۔اسی طرح ایک عمر تک استاد خاص طور صدر معلم کو بھی ہیرو خیال کیا جاتا ہے،جب تک آپ ان کو محکمہ تعلیم کے کسی کارندے کے سامنے گھگھیاتے اوربے عزتی کراتے نہیں دیکھتے۔ہم جمہوری ملک ضرور ہیں مگرہمارے ہیرو مردانِ آہن ہیں حالانکہ علامہ اقبال نے بہت دن پہلے کہہ دیا تھا
میرِ سپاہ ناسزا لشکریاں شکستہ صف
آہ وہ تیرِ نیم کش جس کا نہ ہو کوئی ہدف
ہمارے قائد بھی اپنی طرف سے یقین اور اتحاد کے ساتھ ڈسپلن یا نظم و ضبط کا سبق پڑھا گئے تھے مگر جیسے کئی سبق ہم نےبُھلا دئیے اسی طرح قائد کے درس کا یہ ورق بھی کچھ ادھر اُدھر ہو گیا۔بہر طور ایک مردِ آہن نے کہا کہ پاکستانیوں کو جمہوریت سے زیادہ’بنیادی جمہوریت‘ کی ضرورت ہے اس لئے اس نے کہا اسی ہزار بنیادی جمہوریت کے رکن منتخب کر لو چالیس ہزار ادھر اور چالیس ہزار اُدھر شناخت کے مسئلے ہوں یا راشن کارڈ حتیٰ کہ ملک کا دستور بنانا ہو یہی چالیس ہزار افراد برگزیدہ ہیں۔میں نےانٹرمیڈیٹ کے طالب علم کے طور پر ملتان کے ایم سی سی گرائونڈ میں محترمہ فاطمہ جناح،ایوب خان،بشیر اور کمال(دو دلچسپ امیدوار) کی تقاریر بھی سنیں جن کے مخاطب یہی برگزیدہ افراد تھے جن پر سرکاری علمائے کرام کے فتوے،ڈپٹی کمشنر وغیرہ کا بوجھ تو تھا ضمیر پر بھی کافی تھا وہ شاید اندر سے چاہتے تھے کہ قائد کی تصویر ان کی ہمشیرہ فاطمہ کو ووٹ دیں جن کا انتخابی نشان لالٹین تھا جب کہ جنرل ایوب خان نے گلاب کا پھول اپنے نشان کے لئے منتخب کیا میں نے خود دیکھا جب تک یہ برگزیدہ لوگ پنڈال میں داخل نہیں ہوتے ہم طالب علموں کے سامنےلالٹین کا نشان اپنی واسکٹ،کوٹ یا شیروانی پر لگائے رہتے تاہم پنڈال میں داخل ہوتے وقت دوسری جیب سے پھول والاکارڈ لگا لیتے بہت پھرتی کے ساتھ۔۔
ہم سب اس وقت امنگ بھرے لوگ تھے مگر برگزیدہ لوگوں کی یہ پھرتی اندر سے بتا رہی تھی کہ نتیجہ کیا آئے گا۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے وکی پیڈیا اور گوگل سے مایوس ہونے کے بعد دو درجن بیدار مغز وکیلوں،سیا سیات کے شعبوں کے سربراہوں اور صحافیوں سے پوچھا کہ ان انتخابات میں چیف الیکشن کمشنر کون تھے،صرف کامریڈعرفان شمسی ایڈوکیٹ ،ڈاکٹر اشتیاق چوہدری،زکریا چوہدری، شاہد راحیل اور میری بڑی بیٹی ڈاکٹر نویرہ نے کہیں سے جواب برآمد کیا ’’جی معین الدین خان تب الیکشن کمشنر تھےجوانیس سو چونسٹھ سے سڑسٹھ تک اس منصب پر رہے‘‘،کہنے کا مقصد یہ ہے کہ الیکشن کمشنروں کی لمبی فہرست میں سوائے ایک(ریٹائرڈ جسٹس فخرالدین جی ابراہیم) کے کوئی اور نام نہیں جس کا نام چار لوگ عزت واحترام سے لیں مگر وہ بھی اپنی یادداشت کھو بیٹھے اس لئے وہ دو تہائی لیجنڈ ہی بن سکے۔
کھیلوں کی دنیا میں آ جائیے اسکوائش اورہاکی میں کئی ہیرو آئے کس کس کا نام لیا جائے جہانگیر خان ،جان شیر خان،اصلاح الدین،سمیع اللہ اور شہناز۔ میں نے آکاش وانی سے دھیان چند جیسے لیجنڈ کو کہتے سنا تھا کہ ہماری کلائیوں میں وہ لچک ہے جس کا مقابلہ یورپی کھلاڑی نہیں کر سکتے اس لئے ہٹ اور پش پر یقین رکھتے ہیں ہمارے مقابلے پر ’ڈربل‘ نہیں کر سکتے اب اس عمر میں جب کہ میری آنکھوں میں موتیا آ گیا ہے میں دلی میں پاکستانی ہاکی کے ایک کھلاڑی شہناز کو دیکھنے آیا ہوں ۔سنا ہے کہ ڈاج اور ڈربل کرنے کیلئے بال کو دائیں بائیں نہیں سیدھا لے جاتا ہوں۔ایسے ہی گلوکاروں اور موسیقی کاروں میں آ جائیں تو بھگت سنگھ اور فیض کے ساتھی خورشید انور کو لے لیں جن کی جادو بھری دُھنوں اور گانوں نے موسیقی پر بھارت کی بالادستی کو ہمیشہ چیلنج کیا،فلم انتظار،جھومر،زہرِ عشق، چنگاری،ہم راز،ہیر رانجھا اور کیسے کیسےان کے گانے! یہی نہیں جب ملکہ ترنم نے اعلان کیا کہ جو پروڈیوسر انہیں اپنی فلم میں نہیں لائے گا وہ اس کے لئے گیت بھی نہیں گائیں گی تب وہ ناہید نیازی کو لے آئے اور پپیہے کی آواز کو بھی اور جب نیرہ نور کی آواز سنی تو کہا نیرہ میں تو عشروں سے تمہارا انتظار کر رہا تھا۔ سائنس دانوں کی طرف نگاہ ڈالیں تو ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی جیسا تو وہی ایک تھا جس نے جرمنی سے پی ایچ ڈی کیا پاکستان میں آکر نیم کے درخت پرکام کیا اور ہمدرد کے لئے کئی دوائیاں پیٹنٹ کرائیں یہی نہیں جرمن شاعر رائنر ماریا رلکے کی شاعری کا ترجمہ کیا اور آئن اسٹائن کی طرح وائلن بجا لیتے تھے اور تصویریں بنا لیتے تھے۔ ابھی تو میں کرسیوں کے پیچھے ہلکان ہونے والے وائس چانسلروں،کمال ِ فن ایوارڈ یا تمغہ امتیاز کی خاطر غیور اور باضمیر لیکھکوں کی قطار کی طرف نہیں جاتا کہ اس مرتبہ میرے پیارے اصغر ندیم سید کو تمغہ امتیاز مل رہا ہے تاہم میں اپنے خطے کے بظاہر ایک ان پڑھ ’کوڑے خان‘ کاذکر ضرور کروں گا جسے پتہ تھا کہ ملتان ہو یا مظفر گڑھ کوڑ تُمّے تو بہت ہیں مگرغریب بچوں کی تعلیم کے لئے کئی سو ایکڑ زمین وقف کرنے والا تو ایک ہی تھا اور اس ٹرسٹ کو راہ راست پر رکھنے کے لئے سپریم کورٹ میں بار بار دستک دینے والا مظفر مگسی تو ایک ہے اب اس کے ساتھ ڈاکٹر شعیب عتیق خان اور غلام فرید الدین ایڈووکیٹ بھی ہیں۔