• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراں تا بہ کراں کھیت پھیلے ہوئے ہیں، ہوا دھیرے دھیرے چل رہی ہے، گندم کی سبز بالیاں ہلکے ہلکے لہرا رہی ہیں، وہیں کہیں درختوں کا ایک جُھنڈ ہے، آم اور جامن کے درخت، پیپل اور ٹاہلیاں، وہ اس جُھنڈ میں گھاس پر سیدھا لیٹا ہوا ادھ کھلی آنکھوں سے بے خیالی میں اوپر دیکھ رہا ہے، درختوں کی شاخوں نے ایک گہرا سبز حاشیہ سا کھینچ رکھا ہے جس کے بیچ میں نیلا آسمان نظر آ رہا ہے۔ اور آسمان میں اڑتے ہوئے پرندے، کچھ پرندے تو پر بھی نہیں مار رہے، بس ادھر سے ادھر بہتے چلے جا رہے ہیں۔ فضا میں صرف ایک آواز ہے، پرندوں کے چہچہانے کی آواز، فصلوں میں گنگناتے ہوئے پرندے، درختوں کی شاخوں پر پھدکتے ہوئے نغمہ خواں پرندے، فطرت کی اس سمفنی میں کتنے ہی "فن کار" شامل ہیں، وہ شہر کا رہنے والا ہے اس لیے چڑیا، کبوتر، فاختہ، طوطے اور کوے کے سوا کسی "فن کار" کی آواز نہیں پہچانتا۔ زندگی میں پہلی مرتبہ اسے کوے کی آواز بھی اچھی لگ رہی ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ کوا بھی "بڑے باجے" کی طرح ہوتا ہے، اکیلا شروع ہو جائے تو برا لگتا ہے، اور اگر براس بینڈ کا حصہ بن جائے تو کانوں کو بھلا لگنے لگتا ہے۔

ایک گاؤں میں گزارے گئے گزشتہ تین دن کی کہانی یہاں تک لکھ پایا تھا کہ پٹرول مہنگا ہونے کی خبر ملی ہے۔ تو آئیے فطرت کی بنائی ہوئی دنیا سے انسانوں کی بنائی ہوئی دنیا کی طرف چلتے ہیں۔ آبنائے ہرمز سے تیل کی نقل و حمل بند ہوچکی ہےاور دنیا میں تیل کی قیمتیں بڑھتی چلی جارہی ہیں۔ پاکستان میں حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 55 روپے اضافہ کر دیا ہے۔ اور پٹرول ڈیزل کی قیمت میں اضافے کا مطلب تو ہم سب سمجھتے ہیں، یعنی ہر چیز مہنگی ہوتی ہے، خصوصاً اشیائے خور ونوش، یعنی زندگی مہنگی ہو جاتی ہے۔ لگتا ہے کہ مرے ہوئے دوبارہ مارے جائیں گے۔ پچھلے پانچ برسوں میں عوام سے تعلق رکھنے والی معیشت کا کوئی اشارہ حوصلہ افزا نہیں، لگ بھگ آدھا ملک غربت کی لکیر سے نیچے گر چکا ہے، قوتِ خرید کم ہوتے ہوتے قریباً آدھی ہو چکی ہے، مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھی ہیں، درمیانے طبقے پر انکم ٹیکس بڑھا ہے، افراطِ زر نے روپیہ بے توقیر کر دیا ہے، نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 30 فی صد کو چھو رہی ہے۔ اس صورت حال سے دوچار عوام کو "مرے ہوئے" قرار دینا قطعاً مبالغہ نہیں ہے۔ اب ایک اور ریلا آغاز ہو رہا ہے، بے سکت عوام ایک اور طوفان کی زد میں ہیں، خطرہ ہے یہ موجِ بلاخیز بہت سوں کو بہا لے جائے گی۔بین الاقوامی سطح پر پٹرول کی قیمت بڑھی ہے تو اس میں حکومت کا کیا قصور ہے؟ بات تو بہ ظاہر معقول نظر آتی ہے۔ لیکن کچھ باتیں پھر بھی کھٹکتی ہیں۔ ابتدا میں ہر طرف جو تنقید ہو رہی تھی اس کا خلاصہ کچھ یوں ہے۔ ملک پر جیسے ہی کوئی معاشی مشکل آتی ہے "نظرِ کرم" ہمیشہ سب سے پہلے عوام پر پڑتی ہے، انہی سے مزید قربانی مانگی جاتی ہے، انہیں ہی پیٹ پر پتھر باندھنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ 15 مارچ کا بھی انتظار نہیں کیا جاتا۔ عوام کا ردِ عمل دیکھ کر حکومت کو بھی کچھ آرائشی اقدامات کا خیال آتا ہے۔ یہ اس ملک کی کہانی ہے جہاں اشرافیہ کو ہر سال 18 بلین ڈالر سب سڈی دی جاتی ہے، یہ اس وطن کی داستان ہے جہاں اشرافیہ اپنے شوق ایک دن کے لیے بھی معطل کرنے پر آمادہ نہیں ہے، یہ اس سرزمین کا قصہ ہے جہاں آج بھی اربوں روپوں کی تشہیری مہمات زور و شور سے جاری ہیں۔ عوام کی کوئی مدد نہیں ہو سکتی، اس لیے کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ ہے، بجلی گھروں سے معاہدہ ہے، پٹرول کمپنیوں سے معاہدہ ہے، بس عوام سے کوئی معاہدہ نہیں ہے۔

ایران پر حملہ کب تک جاری رہے گا؟ آیت اللہ خامنہ ای کے فرزند کی جانشینی سے ایران کی سربلند نفسیاتی کیفیت سمجھی جا سکتی ہے۔ جنگ اگر دو چار ہفتے بھی چلی تو یہ ہمارے لیے ایک ناقابلِ بیان عذاب کا باعث ہو سکتی ہے، تیل کی قیمت کم از کم 100 سے 150 روپے مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے، زرِ مبادلہ کے ذخائر سکڑنے کا خطرہ ہے، ڈالر چڑھنے کی نوید ہے، خلیج سے ترسیلاتِ زر محدود ہونے کا ڈر ہے، ہماری برآمدات کودھچکا پہنچے گا، درآمدات بھی کم ہوں گی، اور ان سب عوامل کا عوام پر کیا اثر پڑے گا؟ ایک جملے میں، کھانا پینا مہنگا ہو گا، نقل و حمل کے کرائے بڑھیں گے، اور بجلی کی قیمت میں اضافہ ہو گا۔ اگر جنگ ہفتے عشرے میں بھی لپٹ جاتی ہے اور پٹرول کی قیمتیں کم بھی کر دی جاتی ہیں تو ضروریاتِ زندگی کی قیمتیں شاید کبھی اپنی سابق سطح پر نہ لوٹیں، ایسا اس ملک میں پہلے بھی ہو چکا ہے۔ یہ ایک خوف ناک منظر طلوع ہونے کے آثار ہیں۔ایسا مشکل وقت پڑے تو ریاست و حکومت کیا کر سکتی ہے، کیسے اپنے شہریوں کا بوجھ بانٹ سکتی ہے؟ اس کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے۔ان دیکھی آفات سے عوام کو حتی الوسع بچانے کیلئے دہائیوں کی "تیاری" کی ضرورت ہوتی ہے، عوام کی معاشی قوتِ برداشت بڑھائی جاتی ہے، ریاست کی معاشی قوتِ برداشت بڑھائی جاتی ہے، آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت زندگی گزارنے والی ریاستیں تو اپنے عوام کو مشکل وقت پر دو چار ہفتے کیلئے سب سڈی بھی نہیں دے سکتیں، اشرافیہ کے اللوں تللوں پر ڈالر لٹانے والی ریاستوں کے پاس وقت پڑنے پر نہ ڈالر ہوتے ہیں نہ پٹرول۔ آئندہ بھی اگر کوئی آفت آئے گی تو ریاست عوام کا دکھ نہیں بانٹ سکے گی، کیوں کہ اس کیلئےتیاری کی ضرورت ہوتی ہے، اور جب کبھی یہ ریاست تیاری کی طرف پہلا قدم اٹھائے گی تو ہم سب کو نظرآ جائے گا۔

تازہ ترین