• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی وزارت منصوبہ بندی نے مارچ کیلئے اپنی ’’ماہانہ ڈیولپمنٹ آئوٹ لک‘‘ شائع کی ہے جسکے مطابق ایران، اسرائیل اور خلیجی ممالک کے مابین جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش سے خطے میں تیل سپلائی کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز سے یومیہ 30سے 40بحری جہاز 20 ملین بیرل سے زائد تیل اور گیس لے کر گزرتے ہیں۔ صرف 3کلومیٹر چوڑے اس بحری راستے کی بندش کا سب سے زیادہ نقصان خود ایران کو ہوگا کیونکہ آبنائے ہرمز سے گزرنیوالے 83فیصد تیل کا خریدار ایشیا ہے اور صرف 7.5 فیصد تیل اس بحری راستے سے یورپ کو ایکسپورٹ کیا جاتا ہے۔ آبنائے ہرمز بند ہونے سے تیل کی قیمتیں 20فیصد اضافے سے 110ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھیں اور قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ جنگ طویل ہونے سے تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں لیکن 7 سے 12مارچ کے دوران تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھائو دیکھا گیا جو 119.5 ڈالر بیرل سے گرکر 92 ڈالر اور پھر دوبارہ بڑھ کر 100ڈالر تک پہنچ گئیں۔ تیل اور کارگو انشورنس پریمیم میں کئی گنا اضافے کے باوجود آئل ٹینکرز خطے میں نہیں آرہے جس سے معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہونگے۔ وزارت پیٹرولیم کے مطابق 31مارچ تک ملک میں تیل کا اسٹاک موجود ہے لیکن حکومت نے 7مارچ کو فوری طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 20فیصد یعنی 55روپے فی لیٹر اضافہ کردیا۔ اس وقت 1.5 ارب لیٹر پیٹرول اور ڈیزل آئل ریفائنریز، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) کے ڈپوز اور پیٹرول پمپس کے ٹینکوں میں موجود تھا، راتوں رات پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55روپے فی لیٹر اضافے سے انہوں نے 82ارب روپے اضافی منافع کمایا۔ دنیا میں کسی ملک نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 4یا 5فیصد سے زیادہ اضافہ نہیں کیا۔ بھارت اور افغانستان نے پیٹرول کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا، بنگلہ دیش نے 4فیصد، چین اور امریکہ نے 5فیصد اضافہ کیا ہے۔ملک میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ٹرانسپورٹ کرایوں میں فوری اضافہ کردیا گیا ہے جس سے ملک میں مہنگائی یعنی افراط زر میں اضافہ ہوگا۔ خلیجی ممالک میں معاشی سست روی کے باعث ملازمتوں کے مواقع محدود ہونگے۔ خلیجی ممالک میں اس وقت 50لاکھ پاکستانی مقیم ہیں اور پاکستان کی مجموعی ترسیلات زر کا 50فیصد ان خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب اور یو اے ای سے آتا ہے۔ موجودہ کشیدگی کے باعث بے شمار پاکستانی وطن واپس آرہے ہیں جس سے ملکی ترسیلات زر میں کمی آئیگی جو ریکارڈ 40 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ چکی تھیں اور ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔ امپورٹ بل بڑھنے سے تجارتی اور کرنٹ اکائونٹ خسارے میں اضافہ ہوگا جو زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کا سبب بنے گا اور روپے کی قدر پر دبائو ڈالے گا جسکی وجہ سے روپے کی قدر میں کمی متوقع ہے۔ شپنگ فریٹ میں اضافے کے باعث ملکی ایکسپورٹس مہنگی ہونگی۔ پاکستان کی مجموعی ایکسپورٹس کا 11 فیصد مشرق وسطیٰ ایکسپورٹ ہوتا ہے جو موجودہ صورتحال میں متاثر ہوں گی۔ موجودہ غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کاری میں منفی رجحانات کا سامنا کرنا ہوگا۔ ایک تخمینے کے مطابق اگر ایران اسرائیل تنازع جاری رہا تو خطے میں بین الاقوامی سیاحوں کی آمد میں 27 فیصد کمی آسکتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق دبئی میں سینکڑوں ہوٹلوں کی بکنگ منسوخ ہوئی ہیں۔ خطے میں کشیدگی کے باعث معاشی نقصانات دیگر ممالک کو بھی برداشت کرنے ہوں گے۔ بھارت کی جی ڈی پی (4000 ارب ڈالر) پاکستان (400 ارب ڈالر) کے مقابلے میں 10 گنا ہے اور 10 ملین بھارتی خلیجی ممالک میں مقیم ہیں، اسکے معاشی نقصانات بھی ہم سے کئی گنا زیادہ ہوں گے۔ میں نے قومی اسمبلی میں ایران اسرائیل جنگ کی بحث میں حصہ لیتے ہوئے اپنی تقریر میں ایوان کو بتایا کہ ایران اسرائیل جنگ کے تانے بانے پاکستان سعودی دفاعی معاہدے سے ملتے ہیں جس کے بعد اسرائیل نے اس معاہدے کو مسلم ممالک کو ’’نیوکلیئر شیلڈ‘‘ فراہم کرنا قرار دیا جو اسرائیل کیلئے قابل قبول نہیں۔ اسرائیل پاکستان کو خطے میں ایک خطرہ سمجھتا ہے جسکے اتحادی سعودی عرب، ترکی،قطراورچین ہیںجبکہ اسرائیل نےاپنے Hexogonale الائنس میں بھارت، یو اے ای، یونان، قبرص اور صومالی لینڈ کو شامل کیا ہے۔ اب تک روس اور چین نے خود کو اس تنازع سے دور رکھا ہے لیکن اطلاعات ہیں کہ روس ایران کو امریکہ کی جاسوسی معلومات فراہم کررہا ہے جسکی بنیاد پر ایران، امریکی اڈوں پر حملے کررہاہے جبکہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘، اسرائیلی ایجنسی ’’موساد‘‘ کے ساتھ مل کر ایران میں کارروائی کررہی ہے۔ اس جنگ میں دفاعی ساز و سامان کی لاگت بھی ایک اہم عنصر بن چکی ہے۔

ایران کے ڈرون کی قیمت 30 سے 50 ہزار ڈالر ہے جس کو گرانے کیلئے امریکی ریپڈ ڈرون MQ-9 استعمال کیا جارہا ہے جسکی قیمت تقریباً 3 کروڑ ڈالر ہے۔ ایران کے پاس 20ہزار سے 50 ہزار تک مختلف اقسام کے میزائل اور ڈرون موجود ہیں اور اس حکمت عملی کے تحت ایران مسلسل میزائل اور ڈرون حملے کرکے امریکہ اور اسرائیل کے نہایت مہنگے دفاعی نظام کو اپنے سستے ڈرونز سے مصروف رکھنا چاہتا ہے۔ وزیراعظم نے خطے کی کشیدگی کے باعث قوم سے پیٹرول کی کفایت شعاری، توانائی کی بچت اور اخراجات میں کمی کے اقدامات کا اعلان کیا ہے تاکہ تیل اور گیس کی اضافی قیمتوں کے معیشت پر کم سے کم منفی اثرات پڑسکیں۔ دانشمندی کا تقاضہ ہے کہ جنگ کے بجائے سفارتکاری کو موقع دیا جائے جس کیلئے پاکستان اور ترکی بڑے بھائی کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین