تاریخ اکثر اپنے سب سے بڑے اسباق کھنڈرات میں چھپا دیتی ہے۔جو شخص غرناطہ میں الحمرا کے صحنوں سے گزرتا ہے، قرطبہ کی عظیم مسجد کی خاموش محرابوں کے نیچے کھڑا ہوتا ہے، یا اشبیلیہ کی قدیم گلیوں میں چلتا ہے، وہ محض 800سالہ ایک مٹ چکی سلطنت کی یادگاروں کی سیر نہیں کر رہا ہوتا وہ دراصل انسانی تاریخ کی ایک نہایت تابناک تہذیب کے آثار کے درمیان چل رہا ہوتا ہے۔ اندلس کے پتھر صرف فنِ تعمیر کے حسن اور سلطانی شوکت کی داستان نہیں سناتے، وہ کچھ گہرے سوال بھی سرگوشی میں پوچھتے ہیںکہ آخر ایک تہذیب دنیا کی فکری رہنما کیسے بنی؟ اور پھر وہی تہذیب تاریخ میں اپنا مقام اور نام و نشاں کیسے کھو بیٹھی؟ان سوالات کے جواب صرف سیاسی زوال یا فوجی شکست میں نہیں ملتے۔ ان کی جڑیں اس سے کہیں زیادہ گہری ہیں: افکار میں، ذہنی رویّوں میں اور اُس فلسفۂ علم میں جس نے کبھی مسلمان ذہن کی تشکیل کی اور پھر آہستہ آہستہ اس سے اوجھل ہوگیا۔ اس سوال سے میری دلچسپی تین دہائیوں سے بھی پہلے شروع ہوئی۔ 1992ء میں مجھے وزیر اعظم پاکستان نے 1492ء میں مسلم اسپین کے سقوط کے پانچ سو برس مکمل ہونے پر منعقد ہ ایک بین الاقوامی کانفرنس کے منتظمین سے رابطے اور ہم آہنگی کی ذمہ داری سونپی۔ اس کانفرنس کی تیاری نے میرے لیے تاریخ کے ایک ایسے غیر معمولی باب کا دروازہ کھولا جو تاحیات میری فکری دلچسپی کا مرکز بن گیا۔حال ہی میں مجھے غرناطہ، اشبیلیہ اور قرطبہ جانے کا موقع ملا، جو الاندلس کے تاریخی مراکز ہیں۔ ان شہروں میں چلتے ہوئے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے پتھر، علم اور یادداشت سے لکھی ہوئی کسی تہذیبی دستاویز کو پڑھ رہا ہوں۔ اس تجربے نے ایک ایسے یقین کو مزید پختہ کیا جس نے میرے بہت سے کاموں میں رہنمائی کی ہے’تہذیبیں محض طاقت سے نہیں، علم سے اٹھتی ہیں‘۔اسی یقین نے مجھے یونیورسٹی آف نارووال کے فنِ تعمیر کی تشکیل کے وقت مسلم اسپین کے طرزِ تعمیر سے رہنمائی لینے پر آمادہ کیا۔ آٹھویں سے تیرہویں صدی تک مسلم اسپین دنیا کی فکری تاریخ کے روشن ترین ابواب میں سے ایک تھا۔ قرطبہ کی اُموی خلافت، خصوصاً عبدالرحمٰن ثالث کے عہد میں، سائنس، فلسفہ، طب، فنِ تعمیر اور ادب کا ایک غیر معمولی مرکز بن گئی۔ دسویں صدی کا قرطبہ دنیا کے ترقی یافتہ ترین شہروں میں شمار ہوتا تھا۔ اس وقت جب یورپ کا بڑا حصہ قرونِ وسطیٰ کی تاریکیوں سے پوری طرح نکل بھی نہ سکا تھا، قرطبہ میں پختہ سڑکیں، عوامی روشنیاں، ہسپتال، حمام اور عظیم کتب خانے موجود تھے۔ خلیفہ الحکم ثانی کے کتب خانے میں تقریباً پانچ لاکھ کتابیں تھیں، جو اُس دور کے یورپ کیلئے ناقابلِ تصور تعداد تھی۔یونیورسٹی آف نارووال کے جلسۂ تقسیمِ اسناد کیلئے اپنی تقریر کی تیاری کے دوران مجھے یونیورسٹی آف کیلگری کے Applied History Research Group کے ایک تحقیقی مطالعے میں ایک نہایت بصیرت افروز نکتہ ملا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ مسلم اسپین کی علمی فضا اور کامیابیوں کی جڑیں قرآن کے علم اور تفکر میں پیوست تھیں۔ قرآن سے مسلمانوں کا یقین تھا کہ چونکہ اللہ علیم ہے، اس لیے کائنات کے بارے میں علم حاصل کرنا دراصل خالق کو جاننے اور اس تک معارفت حاصل کرنے کا مضبوط راستہ ہے۔قرآن بار بار انسان کو کائنات پر غور کی دعوت دیتا ہے’’بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے بدلنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں‘‘(سورۂ آلِ عمران)۔ایک اور مقام پر فرمایا:کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہوسکتے ہیں؟(سورۂ الزمر )
اور ایک اور آیت تخلیق انسان کے علمی امتیاز کی طرف اشارہ کرتی ہے:اور اس نے آدم کو تمام چیزوں کے نام سکھا دیے۔رسول اکرم ﷺ پر نازل ہونے والا پہلا لفظ تھا: اقرأیعنی پڑھو۔یہ اس امر کا اعلان تھا کہ ایمان کا سفر شعور، آگہی اور تعلیم سے شروع ہوتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ قرآن محض اندھی اطاعت کے ذریعے ایمان کا مطالبہ نہیں کرتا۔ بلکہ وہ انسانی عقل کو بیدار کرنے کیلئے ایک نہایت طاقتور تحقیقی اسلوب اختیار کرتا ہے۔ وہ انسان کو بار بار دعوت دیتا ہے کہ وہ فطرت میں پیوست نشانیاں دیکھے۔ وہ پوچھتا ہے: کیا تم نہیں دیکھتے کہ بخارات اٹھتے ہیں، بادل بنتے ہیں، پھر وہ بارش برساتے ہیں اور مردہ زمین سرسبز چراگاہوں میں بدل جاتی ہے؟کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ بادلوں کو چلاتا ہے، پھر انہیں آپس میں ملاتا ہے، پھر انہیں تہہ در تہہ کر دیتا ہے، پھر تم دیکھتے ہو کہ ان کے درمیان سے بارش نکلتی ہے۔‘‘(سورۂ النور)
قرآن ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ کائنات اپنی اصل میں ہم آہنگی، توازن اور نظم کی ایک عظیم ربانی تشکیل ہے۔ کائنات کا ہر جز جداگانہ حیثیت کیساتھ ایک خدائی توازن کے اندر کام کر رہا ہے۔ لہٰذا انسانی ترقی اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب معاشرے اپنی سماجی، معاشی اور روحانی زندگی کو کائنات میں اس الٰہی ہم آہنگی کے مطابق ڈھالیں۔ جب معاشرے اس توازن کا احترام کرتے ہیں تو وہ پھلتے پھولتے ہیں۔ مسلم اسپین اس قرآنی اصول کی ایک روشن تاریخی مثال تھا۔
لیکن تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ یہ روح آہستہ آہستہ کمزور پڑ گئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ مسلم دنیا کے کئی حصوں میں تحقیق اور جستجو کی ثقافت کمزور ہوئی، فکری تجسس گھٹتا گیا، ہم آہنگی کی جگہ قبائلی عصبیت اور عیش و عشرت نے زور پکڑا اور جو معاشرے کبھی علم پیدا کرنے کی فیکٹری تھے وہ رفتہ رفتہ دوسروں کے پیدا کردہ علم کے صرف مقلد اور صارف بن کر رہ گئے۔ یہاں ایک نہایت جھنجھوڑنے والا سوال اٹھتا ہے: اگر قرآن نے الاندلس کے مسلم علماء کو علم کی جستجو اور قیادت پر ابھارا تو آج وہی قرآن ہمیں اسی طرح کیوں نہیں جگا رہا؟ قرآن تو نہیں بدلا۔ جو بدلی ہے، وہ اسے سمجھنے اور اپنانے کی ہماری صلاحیت ہے۔ ہم نے قرآن کو تخلیق کے اسرار کی تلاش کی دعوت کے بجائے محض ثواب اور رسومات کیلئے تلاوت تک محدود کر دیا ہے۔الاندلس کے کھنڈرات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ تہذیبیں اس وقت زوال پذیر ہوتی ہیں جب انکی فکری توانائی ماند پڑ جائے۔ مگر یہی کھنڈرات ہمیں یہ امید بھی دیتے ہیں کہ جب ایمان اور عقل دوبارہ ساتھ چلیں تو تجدید اور احیا بھی ممکن ہے۔ جیسا کہ علامہ اقبال نے نہایت زوردار انداز میں کہا:
وہ زمانے میں معزّز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
اقبال کی مراد محض قرآن پڑھنے کی رسوم کا ترک نہیں انکی مراد قرآن کی اس فکری روح سے دوری تھی جو غوروفکر، تخلیق، تحقیق اور دریافت کی دعوت دیتی ہے۔ اگر ہم مشاہدے، جستجو اور تفکر پر مبنی قرآن کی علمیات کو دوبارہ دریافت کر لیں، تو یہی روایت مسلم دنیا کی ایک نئی فکری نشاۃِ ثانیہ کا نقطۂ آغاز بن سکتی ہے۔