• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گھریلو ملازمین کو گھریلو کارکن کہنے اور انکے قانونی حقوق کے تحفظ کا بل گورنر سندھ کو ارسال

سندھ اسمبلی نے سندھ ڈومیسٹک ورکر ویلفیئر بل منظور کر کے گورنر سندھ کو ارسال کر دیا۔ بل کے متن کے مطابق اب ’گھریلو ملازمین‘ کو نوکر کے بجائے ’گھریلو کارکن‘ کہا جائے گا اور ان کے حقوق کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔

بل میں واضح کیا گیا ہے کہ سندھ میں بچوں سے مزدوری کروانے پر پابندی ہوگی اور گھریلو کام بھی 16 سال سے کم عمر بچوں سے نہیں لیا جا سکے گا۔ 18 سال سے کم عمر بچوں سے صرف ایسا ہلکا کام لیا جا سکے گا جو ان کی صحت یا تعلیم کو متاثر نہ کرے۔

متن میں تحریر کیا گیا کہ ہر گھریلو ملازم کو تقرری کا تحریری خط دینا لازمی ہوگا اور روزانہ صرف 8 گھنٹے کام لیا جا سکے گا۔ ہفتے میں ایک دن چھٹی دینا لازمی ہوگی جبکہ چھٹی نہ دینے کی صورت میں ساتویں دن کام کروانے پر دگنی تنخواہ دینا ہوگی۔

بل کے مطابق گھریلو ملازمین کو مذہبی تہواروں پر تنخواہ سمیت چھٹیاں ملیں گی۔ سالانہ 10 اتفاقی چھٹیاں، 8 بیماری کی چھٹیاں اور خواتین کو زچگی کے وقت 6 ہفتے کی میٹرنٹی چھٹی دی جائے گی۔

مزید برآں، مالک بیمار ملازمین کو چھٹی دینے کے پابند ہوں گے۔ گھریلو ملازم کی تنخواہ حکومت سندھ کی مقرر کردہ کم از کم اجرت سے کم نہیں ہو سکے گی۔ سال میں ایک بار میڈیکل چیک اپ لازمی ہوگا اور ویکسینیشن و حفاظتی ٹیکے آجر کے خرچ پر لگائے جائیں گے۔

بل میں یہ بھی تجویز دی گئی کہ اسپیشل اکنامک زونز کے لیے نئی ٹیکس چھوٹ نہ دی جائے اور خصوصی اقتصادی و ٹیکنالوجی زونز کی مراعات کو 2035 تک مرحلہ وار ختم کیا جائے۔

گورنر سندھ کی منظوری کے بعد یہ بل فوری طور پر نافذ العمل ہوجائے گا۔

قومی خبریں سے مزید