• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سینیٹ: پاک چین برادرانہ تعلقات کا اعادہ، قرارداد متفقہ طور پر منظور

فائل فوٹو
فائل فوٹو

پارلیمنٹ کے ایوان بالا (سینیٹ) میں پاک چین دوستی اور برادرانہ تعلقات کے اعادہ کی قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔

قرارداد نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار نے پیش کی اور کہا کہ پاکستان ون چائنا پالیسی پر پوری طرح کاربند ہے، چین بھی پاکستان کی خودمختاری کی ہمیشہ حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں امن کے لیے علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں، پاکستان، ایران امریکا اسرائیل جنگ میں اپنے چینی ہم منصب سے مستقل رابطے میں رہا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان چین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر وزیراعظم شہباز شریف 23 سے 26 مئی تک چین کا دورہ کریں گے اور صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے درمیان اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری نے وقت کی ہر آزمائش کا سامنا کیا، پاکستان چین تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر چین کی مستقل حمایت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، پاکستان اور چین اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ کےلیے مشترکہ کوششیں دونوں ممالک کے ذمہ دارانہ کردار کی عکاس ہیں، یواین، ایس سی او اور دیگر عالمی فورمز پر پاکستان اور چین کا تعاون ترقی پذیر ممالک کے مفادات کے تحفظ میں اہم رہا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ قراقرم ہائی وے سے گوادر پورٹ تک پاکستان چین دوستی کی علامتیں پورے پاکستان میں موجود ہیں، سی پیک بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا فلیگ شپ منصوبہ اور علاقائی روابط و خوشحالی کی روشن مثال ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ سی پیک نے پاکستان کی اقتصادی صورتحال میں اہم تبدیلی لانے میں کلیدی کردار ادا کیا، سی پیک 2.0 میں صنعتکاری، زراعت اور سماجی و اقتصادی ترقی پر توجہ دی جائے گی۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاک چین شراکت داری کے ثمرات پاکستان کے ہر شہری تک پہنچیں گے، پارلیمانی سفارتکاری کا کردار موجودہ عالمی حالات میں مزید اہم ہو گیا ہے، چینی وفود کے دورے دونوں ممالک کے اداروں اور عوام کے درمیان تعلقات مزید مضبوط بناتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے دورہ چین کے دوران چینی قیادت اور کاروباری اداروں سے اہم ملاقاتیں ہوں گی، دورہ چین میں پاک چین سیاسی جماعتوں کے فورم اور سی پیک مشترکہ مشاورتی نظام کے اجلاس بھی منعقد ہوں گے۔

قومی خبریں سے مزید