• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ: حکومت کو کام کی جگہوں پر زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کی حد مقرر کرنی چاہیے: کلائمیٹ چینج کمیٹی

برطانیہ میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑھتی ہوئی شدید گرمی سے لوگوں کو تحفظ دینے کیلئے حکومت کو کام کی جگہوں پر زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کی حد مقرر کرنی چاہیے۔

اس بات کا اظہار حکومت کے مشاورتی ادارے کلائمیٹ چینج کمیٹی نے کیا ہے، کمیٹی نے کہا ہے کہ اسکولوں اور اسپتالوں میں ایئر کنڈیشننگ اور ٹھنڈک فراہم کرنے والی دیگر ٹیکنالوجیز کی تنصیب حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے۔

کمیٹی نے خبردار کیا کہ شدید گرمی، خشک سالی اور سیلاب برطانیہ کے ’’طرزِ زندگی‘‘ کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں، جس سے کھیلوں کے مقابلے اور موسیقی کے فیسٹیولز تک متاثر ہو سکتے ہیں۔

حکومت نے کہا کہ سیلاب سے بچاؤ کے لیے پہلے ہی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے اور وہ کمیٹی کی سفارشات پر بھی غور کرے گی۔

سی سی سی کی ایڈاپٹیشن کمیٹی کی چیئرپرسن بیرونس براؤن نے موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کیلئے حکومتوں کی کارکردگی کو انتہائی ناقص قرار دے کر اس پر تنقید کی، انہوں نے کہا کہ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے، ہمیں معلوم ہے کہ کیا کرنا چاہیے، لیکن ابھی تک کوئی ایسی حکومت نہیں دیکھی گئی جو موسمیاتی تبدیلی کے مطابق خود کو ڈھالنے اور پسندیدہ جگہوں کے تحفظ کو ترجیح دینے کے لیے تیار ہو۔

گزشتہ سال برطانیہ کی تاریخ کا سب سے گرم سال تھا، جب کہ خشک سالی اور پانی کی کم سطح نے ملک کے بیشتر حصوں کو متاثر کیا تھا، کمیٹی نے زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کو محدود کرنے کے لیے کاربن اخراج میں کمی ضروری ہے، لیکن اس کے باوجود برطانیہ پر مزید اثرات ناگزیر ہیں، دنیا کا درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 1.4 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے، یعنی اس دور سے پہلے جب انسانوں نے بڑی مقدار میں فوسل فیول جلانا شروع نہیں کیا تھا، اور عالمی کوششیں درجہ حرارت کو 2 ڈگری سے کم رکھنے میں ناکام دکھائی دیتی ہیں۔

برطانیہ و یورپ سے مزید