جنوبی بھارت کی نامور اداکارہ نین تارا سے متعلق توہین آمیز بیان پر فلمی تنظیم نے سیاستدان نے معافی مانگنے کا مطالبہ کردیا۔
تامل ناڈو میں تنازع اس وقت پیدا ہوا جب اے آئی اے ڈی ایم کے رکن پارلیمنٹ سی وی شنموگم نے خواتین کے تحفظ سے متعلق ایک ریلی کے دوران اداکارہ نین تارا کے بارے میں متنازع ریمارکس دیے۔
انہوں نے کہا، ’میں نین تارا کو چاہتا ہوں، کیا وزیر اعلیٰ کسی کا خواب پورا کریں گے کہ میں نین تارا سے شادی کروں؟‘ اس بیان پر حکمراں ڈی ایم کے اور فلمی حلقوں نے سخت ردعمل دیا۔
ساؤتھ انڈین فلم آرٹسٹس ایسوسی ایشن (سیا) نے شنموگم کے بیان کو ’شرمناک اور قابلِ مذمت‘ قرار دیا۔
تنظیم نے کہا کہ عوامی نمائندوں کو اپنی زبان میں وقار اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، لیکن شنموگم نے پارلیمانی آداب کو نظرانداز کرتے ہوئے نین تارا کو اپنی تقریر میں گھسیٹا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ عوام کے خواب غربت کے خاتمے، تعلیم، روزگار اور سلامتی سے متعلق ہوتے ہیں نہ کہ کسی اداکارہ سے شادی کے بارے میں۔
ایسوسی ایشن نے سوال اٹھایا کہ جب خواتین سیاست، سائنس، طب اور دیگر شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں تو فلمی صنعت کی خواتین کو نشانہ بنانا کس سیاسی شرافت کا حصہ ہے؟
فلمی تنظیم نے شنموگم سے فوری معافی مانگنے اور آئندہ خواتین کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ ریمارکس نہ دینے کی یقین دہانی کروانے کا مطالبہ کردیا۔