پاکستان میں ٹیلی کام ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے جس کا اہم جزو انٹرنیٹ ہے۔ ماضی میں لوگ 2Gاور 3G ٹیکنالوجی استعمال کرتے تھے، پھر 4G آئی جس نے انٹرنیٹ کی رفتار بہتر بنادی اور اب دنیا کے کئی ممالک میں موبائل نیٹ ورک ففتھ جنریشن 5G ٹیکنالوجی متعارف کرائی جاچکی ہے جو ہمارے ٹیلی کام سیکٹر کی گنجائش کو 3 گنا بڑھا دے گی۔ 5G کی رفتار موجودہ موبائل نیٹ ورک (4G) کے مقابلے میں 14 سے 15 گنا تیز ہے جسکی مدد سے بڑی فائلیں چند سیکنڈ میں ڈائون لوڈ کی جاسکتی ہیں اور اس سے آن لائن کام نہایت آسان اور تیز ہوجاتا ہے۔ 5Gٹیکنالوجی سے اسمارٹ سٹیز، خود کار گاڑیاں (ٹیسلا)،روبوٹس، بلاک چین اور تیز انٹرنیٹ سروس کو فروغ ملے گا۔ 10 مارچ کو پاکستان میں بھی 5G اسپکٹرم کی نیلامی کا عمل طویل انتظار کے بعد مکمل ہوا۔ اس سے پہلے پاکستان میں 2013-14 میں 4G اسپکٹرم کی نیلامی کی گئی تھی جبکہ 2022 ء سے مسلسل 5G متعارف کرانے کی کوششیں کی گئیں لیکن اس پر عملی پیشرفت نہ ہوسکی اور منصوبہ موخر کرنا پڑا لیکن اس بار 5Gاسپکٹرم نیلامی کا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہوا۔ نیلامی میں597 میگاہرٹز کے ہدف کے مقابلے میں 480 میگاہرٹز اسپکٹرم فروخت کیا گیا اور پاکستان کی تینوں بڑی ٹیلی کام کمپنیوں زونگ، جاز اور یوفون نے نیکسٹ جنریشن موبائل سروسز اور تیز رفتار انٹرنیٹ فراہمی کیلئے 5G اسپکٹرم خریدا۔ نیلامی کے عمل میں وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اطلاعات عطا تارڑ، PTA کے چیئرمین میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمن اور پارلیمنٹرینز بھی موجود تھے۔ 480 میگاہرٹز 5G اسپکٹرم کی نیلامی سے حکومت کو 507 ملین ڈالر (142 ارب روپے) حاصل ہوئے جسکے بعد 5G اسپکٹرم کی نیلامی کا دوسرا مرحلہ مکمل ہوا جس میں 2600 اور 3500 میگاہرٹز بینڈ کی پوزیشننگ کیلئے بولی کا عمل مکمل کیا گیا۔ اب تک پاکستان میں 4G ٹیکنالوجی سے صرف 274 میگاہرٹز اسپکٹرم گنجائش دستیاب تھی اور پاکستان کو دنیا میں کم ترین اسپکٹرم رکھنے والے ممالک میںشمار کیا جاتا تھا لیکن اب 5G اسپکٹرم ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے بعد پاکستان کم ترین سطح سے 2600 میگاہرٹز کی درمیانی گنجائش والے ممالک میں شامل ہوگیا ہے۔ 5G ٹیکنالوجی کا سائبر نیشنل سیکورٹی میں بھی اہم کردار ہے، گزشتہ سال معرکہ حق میں ایک بڑا حصہ سائبر وار کا تھا جو پاکستان نے جیتی۔ قارئین! پاکستان میں ٹیلی کام ٹیکنالوجی کی فرسٹ جنریشن 1G کو 1980 میں متعارف کرایا گیا جبکہ 1990ءمیں 2G، 2013 ء میں 2014ء میں 4G اور 2026 میں 5G اسپکٹرم متعارف کرائی گئی جس کا ابتدائی ٹرائل عید سے شروع کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ 5G سروس تیز رفتار رابطے، مصنوعی ذہانت(AI) اور کلائوڈ کمپیوٹنگ جیسی جدید ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے اور صحت، تعلیم، زراعت، صنعت اور ٹیلی میڈیسن کے شعبوں کو ہائی ٹیک بنانے میں مدد دے گی۔ ابتدائی مرحلے میں 5G سروس صرف بڑے شہروں کراچی، اسلام آباد، لاہور اور کوئٹہ میں متعارف کرائی جارہی ہے۔ نئی ٹیکنالوجی کی وجہ سے 5G انٹرنیٹ چارجز 4G کے مقابلے میں زیادہ ہوں گے۔ مثال کے طورپر JAZZ کا 5G پریمیم کیٹگری 100 جی بی انٹرنیٹ پیکیج تقریباً 2500 روپے ماہانہ متوقع ہے۔ اگرچہ 5G ٹیکنالوجی کے فوائد بہت زیادہ ہیں لیکن اس کے کامیاب نفاذ کیلئے فائبر آپٹک نیٹ ورک کی توسیع ضروری ہے جس کیلئے ٹیلی کام آپریٹرز کو اپنے نیٹ ورک اپ گریڈ کرنے کیلئے سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ دنیا کے 10 بڑے 5G استعمال کرنے والے ممالک میں پہلے نمبر پر چین، دوسرے پر امریکہ، تیسرے پر جاپان، چوتھے پر جنوبی کوریا، پانچویں پر بھارت، چھٹے پر جرمنی، ساتویں پر برطانیہ، آٹھویں پر فرانس، نویں پر یو اے ای اور دسویں پرسعودی عرب ہے۔ پاکستان ان ممالک کو جوائن کرنے والا نیا ملک ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ اکانومی میں دنیا میں بھارت پہلے نمبر اور پاکستان نویں نمبر پر ہے جبکہ ایران ساتویں اور بنگلہ دیش دسویں نمبر پر ہے۔ملک میں اس وقت تقریباً 30 ملین افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں اور اس طرح پاکستان کو دنیا میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والا 27 واں بڑا ملک شمار کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں مجموعی آبادی کا 10فیصد، بھارت میں 12.6 فیصد اور بنگلہ دیش میں 6.3فیصد افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔ حکومت پاکستان نے مختلف شعبوں میں ای گورنمنٹ ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا ہے جسکی مثال نادرا ہے۔ نادرانےشناختی کارڈ، پاسپورٹ اور دیگر دستاویزات کاریکارڈ نہایت موثر طریقے سے کمپیوٹرائزڈ کیا ہے۔ دنیا میں نوجوان نسل میں سوشل میڈیا تیزی سے فروغ پارہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 50 فیصد افراد موبائل فون کے ذریعے انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔ مستقبل کی ٹیکنالوجی 5G دنیا کے 100 سے زائد ممالک میں استعمال کی جارہی ہے۔ اگر مطلوبہ انفرااسٹرکچر اور مناسب چارجز دستیاب ہوں تو 5G ٹیکنالوجی ملک میں روزگار کے نئے مواقع اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافے سے پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے میں ایک اہم قدم ثابت ہوگی۔