• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تاریخ میں کبھی کبھی ایسے لمحے آتے ہیں جب وقت ٹھہر سا جاتا ہے اور کسی بھی قوم کے سامنے ایک بنیادی سوال رکھ دیتا ہے: کیا تم اپنے حال سے بہتر اور مختلف مستقبل کا خواب دیکھنے کی ہمت رکھتے ہو؟ برصغیر کے مسلمانوں کیلئے ایسا ہی ایک فیصلہ کن لمحہ 23 مارچ 1940 کو آیا، جب لاہور کے منٹو پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سبز پرچم تلے ہزاروں افراد قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں جمع ہوئے۔اس اجتماع سے محض ایک سیاسی قرارداد سامنے نہیں آئی تھی، بلکہ یہ ایک پوری قوم کے تہذیبی شعور، سیاسی اعتماد اور تاریخی ارادے کا اعلان تھا۔ یہ وہ گھڑی تھی جب ایک منتشر، کمزور اور کئی حوالوں سے دیوار سے لگائی گئی آبادی نے پہلی بار اجتماعی قوت کے ساتھ یہ کہا کہ وہ عزت، تحفظ اور حقِ خود ارادیت کے ساتھ جینا چاہتی ہے۔اس زمانے میں یہ خیال بہت سوں کو ناقابلِ عمل بلکہ ناممکن محسوس ہوتا تھا۔ حتیٰ کہ کئی ہمدرد مبصرین بھی اسے ایک سیاسی خواب سے زیادہ اہمیت دینے پر تیار نہ تھے۔ ناقدین نے قائداعظم کو غیر حقیقت پسند کہا، اور بعض نے تو یہ تک کہا کہ برصغیر کے مسلمانوں کیلئے الگ وطن کا مطالبہ کسی دیوانگی سے کم نہیں۔ انکے نزدیک یہ خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا تھا۔تاہم تاریخ کا ایک مستقل سبق یہ بھی ہے کہ جو چیز ایک دور میں ناممکن دکھائی دیتی ہے، وہی اگلے دور میں ناگزیر حقیقت بن جاتی ہے،اگر اسکے پیچھے مقصد کی وضاحت، قیادت کی ثابت قدمی اور قوم کی اجتماعی قوت موجود ہو۔1940کی قراردادِ لاہور نے لاکھوں انسانوں کی تقدیر کا رخ بدل دیا۔ صرف سات برس کے اندر پاکستان خواب سے حقیقت بن گیا۔ مگر یہ خواب کسی ایک دن میں نہیں جاگا تھا۔ اس کے پیچھے برسوں کی فکری، تہذیبی اور سیاسی تیاری موجود تھی۔ اس تصور کی سب سے مضبوط فکری بنیاد علامہ محمد اقبال نے فراہم کی وہ شاعر، مفکر اور صاحبِ بصیرت رہنما جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کیلئے ایک ایسی سیاسی فضا کا تصور پیش کیا جہاں وہ اپنی تہذیب، اپنی اقدار اور اپنی تاریخی شناخت کے مطابق اپنی اجتماعی زندگی کی تشکیل کر سکیں۔اقبال اس حقیقت کو گہرائی سے سمجھتے تھے کہ برصغیر کے مسلمان محض ایک مذہبی اقلیت نہیں، بلکہ ایک جداگانہ تہذیبی وجود ہیں، جنہیں صدیوں کی مشترکہ تاریخ، علمی روایتوں اور ثقافتی ارتقا نے ایک منفرد شناخت بخشی ہے۔ اپنے مشہور خطبۂ الہٰ آباد 1930میں اقبال نے یہ تصور پیش کیا کہ برصغیر کے مسلمان اکثریتی علاقوں کو ایک ایسی سیاسی وحدت میں مجتمع کیا جائے جہاں مسلمان اپنے سماجی، تہذیبی اور تعلیمی اداروں کو آزادانہ طور پر فروغ دے سکیں۔تاہم وژن اپنی جگہ، اسے حقیقت میں ڈھالنےکیلئے ایک ایسی قیادت درکار تھی جو فلسفے کو آئینی جدوجہد میں بدل سکے۔ اس وقت محمد علی جناح برصغیر کی ہنگامہ خیز سیاست سے کنارہ کش ہو کر لندن میں وکالت کر رہے تھے۔ اقبال نے محسوس کیا کہ جناح ہی وہ واحد رہنما ہیں جن میں دیانت، قانونی بصیرت، سیاسی حکمت اور فولادی عزم اس درجے کا موجود ہے جو مسلمانوں کی قیادت کیلئے ناگزیر تھا۔ مسلسل اصرار کے ذریعے انہوں نے جناح کو واپس ہندوستان آ کر مسلم لیگ کی قیادت سنبھالنے پر آمادہ کیا۔تاریخ اس فیصلے کی بے حد مقروض ہے۔ جب قائداعظم واپس آئے تو وہ صرف سیاسی تجربہ ہی ساتھ نہیں لائے، بلکہ آئینی جدوجہد کا ایک منظم، سنجیدہ اور اصولی اسلوب بھی ساتھ لائے۔ ان کی قیادت نے مسلم لیگ کو ایک محدود سیاسی جماعت سے نکال کر ایک ہمہ گیر قومی تحریک میں بدل دیا۔پاکستان کا مطالبہ اس اصول پر مبنی تھا کہ مسلمان اپنی جداگانہ تہذیب، شناخت، تاریخی روایتوں اور تصورِ حیات کی بنا پر ایک الگ قوم ہیں۔ لیکن اس تصور کے اندر ایک اور نہایت اہم نکتہ بھی پوشیدہ تھا، جسے بعض اوقات نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ تحریکِ پاکستان صرف اکثریت کے اقتدار کا مطالبہ نہیں تھی، بلکہ اس عدم تحفظ کا اظہار بھی تھی جو ایک ایسی سیاسی ساخت میں جنم لیتا ہے جہاں مستقل عددی اکثریت، اقلیت کے مفادات اور شناخت کو آسانی سے کمزور کر سکتی ہو۔ برطانوی ہندوستان میں مسلمانوں کے بڑے حصے کو یہ خوف لاحق تھا کہ ایک ایسے جمہوری نظام میں جہاں مستقل اکثریت ایک ہی طبقے کے پاس ہو، وہاں ان کے سیاسی، معاشرتی اور تہذیبی حقوق محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔لہٰذا پاکستان کا مطالبہ ایک بنیادی اصول کی نمائندگی کرتا تھا: جب کوئی قوم کسی اکثریتی سیاسی ڈھانچے میں اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرے تو وہ اپنے مستقبل کی تشکیل کا حق مانگتی ہے۔ مگر اس مطالبے کے اندر ایک اخلاقی ذمہ داری بھی شامل تھی۔ اگر مسلمان ایک متحدہ ہندوستان میں امتیاز اور عدم تحفظ کے خوف سے پاکستان چاہتے تھے، تو پھر پاکستان پر بھی لازم تھا کہ اس کے اندر رہنے والی کسی بھی اقلیت کو کبھی امتیاز، محرومی یا خوف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اس اعتبار سے پاکستان کے خواب میں دو بڑے نصب العین ساتھ ساتھ موجودتھے:ایک، مسلمانوں کی شناخت اور خودی کا آزادانہ اظہار؛اور دوسرا، تمام اقلیتوں کیلئے عزت، تحفظ اور مساوی حقوق کی ضمانت۔قائداعظم نے 11 اگست 1947 کو دستور ساز اسمبلی سے اپنے تاریخی خطاب میں اسی اصول کو نہایت وضاحت سے بیان کیا، جب انہوں نے کہا کہ ریاست کے شہری اپنے مذہب، ذات اور عقیدے میں آزاد ہیں اور ریاست کا کام ان کے درمیان امتیاز برتنا نہیں۔ یہی وہ اخلاقی بنیاد تھی جس نے تحریکِ پاکستان کو صرف ایک سیاسی تحریک نہیں رہنے دیا، بلکہ اسے انصاف، رواداری اور اصولی ریاست کے تصور سے جوڑ دیا۔ قراردادِ لاہور سے آزادی تک کا صرف سات برس کا سفر بیسویں صدی کی حیران کن سیاسی تبدیلیوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس مختصر عرصے میں قائداعظم کو کئی بڑے محاذوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک طرف کانگریس تھی جو تقسیم کے تصور کی شدید مخالف تھی۔ دوسری جانب برطانوی حکام تھے، جو ابتدا میں مسلم لیگ کے مطالبے کو وقتی، قابلِ سمجھوتہ یا محض دباؤ کی ایک صورت سمجھتے تھے۔ خود مسلم سیاست کے بعض حلقوں میں بھی اس بات پر شکوک موجود تھے کہ آیا واقعی اتنی بڑی تبدیلی ممکن ہے۔؟ (جاری ہے)

تازہ ترین