(گزشتہ سے پیوستہ)
قائداعظم کی قیادت کی اصل قوت یہی تھی کہ اس میں مقصد کی وضاحت، آئینی راستے پر غیر متزلزل یقین اور فولادی استقامت تینوں بیک وقت موجود تھے۔ انہوں نے مسلسل مذاکرات کیے، مختلف مسلم طبقات کو ایک سیاسی بیانیے میں یکجا کیا، اور پاکستان کے مطالبے کو غیر معمولی نظم و ضبط اور قانونی صراحت کے ساتھ دنیا کے سامنے رکھا۔ آزادی کی تحریک کے آخری برسوں میں وہ شدید علیل تھے یہ راز ان کے معالج اور چند قریبی ساتھیوں تک محدود رکھا گیا۔ بعدازاں لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے فریڈم ایٹ مڈنائٹ کے مصنفین سے اعتراف کیا کہ اگر برطانوی قیادت کو قائداعظم کی بیماری کا پہلے علم ہو جاتا تو شاید اقتدار کی منتقلی انکی وفات تک مؤخر کر دی جاتی، اور تاریخ کا دھارا کچھ اور ہوتا۔
یاد رہےکہ ریاست کا قیام خواب کا اختتام نہیں ہوتا اصل امتحان اسکے بعد شروع ہوتا ہے، جب ہر نسل کو اس خواب کے وعدوں کو نئی معنویت اور نئے عمل سے پورا کرنا ہوتا ہے۔آج جب ہم یومِ پاکستان منا رہے ہیں تو ہمیں خود سے ایک سچا سوال پوچھنا چاہیے: کیا ہم نے اس خواب کی تکمیل کی سمت میں وہ سفر طے کیا ہے جس کا آغاز 1940 میں ہوا تھا؟ گزشتہ کئی دہائیوں میں پاکستان نے بے شمار چیلنجز کا سامنا کیالیکن اپنی جگہ قائم ہے کہ وہ خواب جس نے پاکستان کو جنم دیا، آج بھی زندہ ہے۔ہماری قومی استقامت خود اس بات کا ثبوت ہے کہ لاہور میں اٹھنے والی آواز محض ایک وقتی نعرہ نہیں تھی، بلکہ ایک زندہ قومی شعور تھی۔ آج پاکستان اپنی تاریخ کے ایک اور اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ دنیا کی جغرافیائی سیاست، معیشت اور ٹیکنالوجی تیزی سے بدل رہی ہے۔ جو قومیں خود کو ان تبدیلیوں سے ہم آہنگ کر لیتی ہیں، وہ آگے بڑھتی ہیں اور جو فرسودہ سانچوں میں قید رہتی ہیں، وہ پیچھے رہ جاتی ہیں۔پاکستان کیلئے آگے بڑھنے کا راستہ اسی روح کو دوبارہ زندہ کرنے میں ہے جس نے اسے وجود بخشا تھا: امکان پر یقین، اجتماعی جدوجہد پر اعتماداور قومی ترقی کا واضح وژن۔ یہی روح اُڑان پاکستان کے قومی ترقیاتی ایجنڈے میں کارفرما ہے، جس کا مقصد ہماری معیشت کو تیز رفتار تبدیلی کی راہ پر ڈالنا اور پاکستان کو 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر معیشت اور 2047 تک، اپنی صد سالہ تکمیل کے موقع پر، تین ٹریلین ڈالر معیشت بنانے کی منزل کی طرف لے جانا ہے۔ آج ہمارے پاس وہ سب کچھ ہے جو بانیانِ پاکستان کے پاس نہیں تھا،سب سے بڑھ کر ہمارے عوام خصوصاً نوجوان نسل کی بے پناہ صلاحیت اور توانائی۔ بدقسمتی سے پاکستان کے مستقبل پر گفتگو میں اکثر ناامیدی، بدگمانی اور طنز غالب آ جاتے ہیں۔ حالانکہ کوئی قوم اس وقت تک آگے نہیں بڑھ سکتی جب تک وہ اپنے بارے میں امید اور یقین کھو دے۔جس نسل نے پاکستان بنایا، اس نے اپنی اجتماعی قوت پر یقین رکھا۔ آج ہمیں بھی وہی روح دوبارہ زندہ کرنی ہوگی۔ ہمیں اُن آوازوں سے فاصلہ رکھنا ہوگا جو بددلی، نفرت اور تقسیم کو ہوا دیتی ہیں۔ قوموں کی توانائی تعمیر پر صرف ہونی چاہیے، تخریب پر نہیں۔پاکستان کی اصل طاقت اس کے تنوع میں ہےاس کے علاقے، اس کی زبانیں، اس کی ثقافتیں، اسکی برادریاں۔ جب یہ تنوع ایک مشترک قومی مقصد کے تحت جڑ جائے تو یہی طاقت ترقی کا سب سے بڑا محرک بن جاتا ہے۔ اُڑان پاکستان اسی صلاحیت کو بیدار کرنے کا نام ہے: نوجوانوں کو بااختیار بنانا، معیشت کی بنیادیں مضبوط کرنا، اور پاکستان کو اکیسویں صدی کی ایک باوقار، مسابقتی اور جدت پسند معیشت میں بدلنا۔درحقیقت یہ ایجنڈا اسی خواب کا جدید اظہار ہے جس نے تحریکِ پاکستان کو جنم دیا تھا۔ قائداعظم نے کامیابی کا راستہ تین الفاظ میں سمو دیا تھا: اتحاد، ایمان، تنظیم۔
یہ تینوں اصول آج بھی اسی قدر معنی خیز ہیں۔ اتحاد انفرادی صلاحیتوں کو اجتماعی قوت میں بدل دیتا ہے۔ جب ایک قوم مشترک مقصد کے گرد متحد ہو جاتی ہے تو اس کے ہر فرد کی کاوش کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ یقیں افراد کا سرمایہ تعمیر ملت ہےیہی قوت ہے جو کرتی ہے مردانِ خدا پیدااور تنظیم اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ خواب صرف تقریروں کا حصہ نہ رہیں بلکہ پالیسی، عمل اور نتائج میں ڈھلیں۔ تنظیم کے بغیر بلند ترین وژن بھی ادھورا رہ جاتا ہے۔فرد قائم ربطِ ملّت سے ہے تنہا کچھ نہیںموج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیںاگر پاکستان نے اپنے ترقیاتی اہداف حاصل کرنے ہیں تو ان اصولوں کو محض قومی نعرہ نہیں، قومی طرزِ عمل بنانا ہوگا۔مستقبل کے حوالے سے ایک اور حقیقت کو بھی سمجھنا ضروری ہے: ترقی کے ماڈل درآمد نہیں کیے جا سکتے۔ کئی دہائیوں سے پاکستان سمیت بہت سے ترقی پذیر ممالک نے مغرب کے بیسویں صدی کے سیاسی اور معاشی سانچوں کو نقل کر کے آگے بڑھنے کی کوشش کی۔ ان ماڈلز سے کچھ رہنمائی ضرور ملی، مگر وہ نہ ہمارے مقامی حالات کا مکمل جواب دے سکے اور نہ اکیسویں صدی کے پیچیدہ تقاضوں کا۔دلچسپ امر یہ ہے کہ مغرب کے اپنے سیاسی اور معاشی نظریات بھی آج خود مغربی معاشروں میں تنقید کی زد میں ہیں۔ دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے، جسے ٹیکنالوجی کی برق رفتاری، آبادی کے بدلتے رجحانات، ماحولیاتی خطرات اور بدلتی جغرافیائی سیاست تشکیل دے رہی ہے۔پاکستان کو اس لیے اپنی ترقی اور حکمرانی کا اپنا ماڈل تشکیل دینا ہوگا—ایسا ماڈل جو ہمارے قومی مزاج، سماجی حرکیات اور معاشی حقائق کے مطابق ہو۔ ایسا ماڈل جس میں جدت بھی ہو اور شمولیت بھی، معاشی نمو بھی ہو اور سماجی انصاف بھی۔ 1940 میں پاکستان کا تصور ایک خواب تھا؛ 1947 میں وہ حقیقت بن گیا۔ آج ہمیں پھر اسی جرأت، اسی تخیل اور اسی عزم کی ضرورت ہے۔پاکستان کا مستقبل صرف بیرونی قوتیں طے نہیں کریں گی۔ اسے ہم خود اپنے فیصلوں، اپنے طرزِ عمل اور اپنی قومی ترجیحات سے تشکیل دیں گے—اپنے اتحاد سے، اپنی صلاحیتوں پر اپنے یقین سے، اور ترقی کے راستے پر اپنی تنظیم اور نظم سے۔ اگر ہم اپنی تاریخ کے سبق کو سمجھ لیں اور تحریکِ پاکستان کی روح کو اپنے اندر دوبارہ زندہ کر لیں تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آنے والی دہائیاں قومی احیا کا نیا باب بن سکتی ہیں۔1940 میں لاہور سے اٹھنے والا خواب آج بھی زندہ ہے۔ وہ ہمارے نوجوانوں کی آنکھوں میں ہے۔ وہ ہمارے عوام کی استقامت میں ہے۔ اور وہ ہمارے اس عزم میں ہے کہ ہم ایک ایسا پاکستان تعمیر کریں جو انصاف، مواقع اور انسانی وقار کا حقیقی علمبردار ہو۔اس یومِ پاکستان پر آئیے ہم عہدِ نو کریں کہ اس خواب کو ایک ایسے مستقبل میں ڈھالیں گے جو علامہ اقبال کے تصور اور قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت کے شایانِ شان ہو۔ کیونکہ قومیں بھی آخرکار وہی بنتی ہیں جس پر وہ خود یقین رکھتی ہیں۔