• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بچپن میں عید پر نئے کپڑے پہننا گویا ہم پر فرض کیا گیا تھا، ہمارے آس پاس سب بچے بھی عید کے نئے جوڑے پہنا کرتے تھے۔ ہم دوستوں میں ایک مقابلہ سا بھی ہوا کرتا تھا کہ کس نے کتنی اور ’’کہاں تک‘‘ نئی چیزیں پہنی ہوئی ہیں۔ اسلئے یہ ’’نیا پن‘‘ کپڑوں تک محدود نہیں رہتا تھا، مقابلہ جیتنے کیلئے ہم بنیان، جوتے اور جرابیں بھی نئی پہنا کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ تو ایسے سخت جان حریف سے پالا پڑا کہ ٹوپی اور رومال راؤنڈ تک مقابلہ برابر جا رہا تھا، اور بالاخر نئے نکور ازار بند نے ہمیں فتح سے ہم کنار کیا تھا۔ علم نہیں کہ اب عید پر محلوں میں بچوں کے درمیان نئی چیزوں کے یہ مقابلے منعقد ہوتے ہیں کہ نہیں، بہرحال مدت ہوئی ہم تو اس کھیل سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر چکے ہیں۔ اس دفعہ چاند رات پر بچیوں نے کہا ہم سب اکٹھے باہر جائیں گے۔ کچھ سال سے گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہنے کے خوف سے ہم اس عمل سے توبہ کر چکے ہیں۔ مگر اس بار ہمیں ایموشنل بلیک میل کیا گیا۔پیاری بیٹی باران کہنے لگی ’’بابا، ہم ایک ڈس فنکشنل فیملی بنتے جا رہے ہیں۔" انکار کی گنجائش نہیں تھی سو ہمارے اگلے تین چار گھنٹے بیوٹی پارلرز، چوڑیوں اور مہندیوں کے سٹالز کے گرد و نواح میں گزرے، اور رات دو بجے ہم ایک فنکشنل فیملی کے سربراہ کا تاج پہنے ہوئے گھر لوٹ آئے۔ ویب سائٹ پر ہمارے بلاک کی مسجد میں نمازِ عید کا وقت صبح 30۔7 لکھا تھا، ہم 15۔7 پرتکبیریں پڑھتے ہوئے پہنچے تو نمازی نماز پڑھ کر عید گاہ سے نکل رہے تھے، نماز کا وقت دراصل سات بجے تھا اور ویب سائٹ غالباً اپ ڈیٹ نہیں ہو سکی تھی۔ ہم نے فوراً جامع مسجد کا رخ کیا، وقت پر پہنچ گئے، نماز مل گئی۔ خطبے کا موضوع تھا ’’رمضان کی عبادات کا معمول سارا سال برقرار رکھنے کے طریقے‘‘۔ اسرائیل اور امریکا کا ایران پر حملہ، خطے میں ایران کے امریکی اڈوں پر حملے، پاکستان پر اس جنگ کے اثرات جیسے ’’متنازع‘‘ موضوعات سے امام صاحب نے حذر کیا۔ امام صاحب کے اس پرہیز کی وجہ ہمیں معلوم ہے۔ معاملہ کچھ یوں ہے کہ اس ہاؤسنگ اتھارٹی کی تمام مساجد میں خطبے کا موضوع اتھارٹی کےذمہ دار افسر طے کرتے ہیں تاکہ امت مزید افتراق کا شکار نہ ہو۔ بہرحال، امام صاحب نے دنیا میں جہاں جہاں مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے ان کیلئے خوب گڑگڑا کر دعائیں مانگیں۔ پٹرول پمپ کی طرف جاتے ہوئے خوف آتا ہے، مگر جانا پڑتا ہے۔ دیکھیں، آدمی خود کو حوصلہ دینے کیلئے کیسے کیسے طریقے اختیار کرتا ہے۔ ہم ہمیشہ کی طرح اب بھی گاڑی میں سُپر پٹرول ڈلواتے ہیں مگر اب ہم پٹرول پمپ پر جا کر ہائی آکٹین کی قیمت ضرور پوچھتے ہیں، اور 535 روپے لٹر ریٹ سن کر کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں، ایک موہوم سی تسلی ہو جاتی ہے، اور ہم اطمینان سے 322 روپے فی لٹر کا "سستا" پٹرول لے کر نکل لیتے ہیں۔ پٹرول کی ہوش ربا نئی قیمت سے نبٹنے کا یہ نفسیاتی حربہ دیکھیے کتنے دن چلتا ہے۔ خیر، عید کی نماز پڑھ کر گھر پہنچے تو معمول کے مطابق اخبار ڈھونڈا گیا، طویل تلاش کے بعد یاد آیا کہ آج اخبار کی چھٹی ہے، پہلے ہمیشہ عید کے روز اخبار آیا کرتا تھا اور اگلے دو دن اخبار کی چھٹی ہوا کرتی تھی، اس دفعہ مگر بہ وجوہ ایسا نہیں ہوا۔ خیر، جنگ کی تازہ خبروں کی ہوس میں سوشل میڈیا کا رخ کیا گیا۔ الیکٹرانک میڈیا کی ایجاد کے بعد سے دیکھا گیا ہے کہ کوئی صحافی یا تجزیہ کار جنگ کے دنوں میں ابھر کر سامنے آجاتے ہیں۔ جیسے ویت نام کی جنگ کے دوران سی بی ایس ایوننگ نیوز کے ایک اینکر تھے والٹر کرونکائیٹ، وہ اپنے معتدل اور قابلِ بھروسہ تجزیوں کے باعث عوام میں اتنا رسوخ رکھتے تھے کہ جب والٹر نے ویت نام کے دورے کے بعد امریکی ریاست کی ویت نام پالیسی کو ہدفِ تنقید بنایا تو امریکی صدر لنڈن جانسن نے ایک معروف جملہ کہا تھا کہ "اگر میں والٹر کو کھو چکا ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ میں امریکی عوام کو کھو چکا ہوں۔" اسی طرح پہلی خلیجی جنگ (1990-91) میں سی این این کے "بغداد بوئز" (برنارڈ شا، پیٹر آرنٹ، جان ہولی مین) اور کرسٹیان ایمان پور وغیرہ بین الاقوامی سلیبریٹی صحافی بن کر ابھرے تھے۔ پچھلے سال مئی میں پاک بھارت جنگ کے دوران ایک ہندوستانی دفاعی تجزیہ کار پراوین سوہنی کو اپنے بے باک تجزیوں سے بہت شہرت ملی تھی، اور ان کی جنگی پیش گوئیوں کی درستی نے انہیں معتبر بنا دیا تھا۔ اسی طرح حالیہ اسرائیلی اور امریکی جنگ کے دوران ایک چینی صاحب پروفیسر جیانگ کا یو ٹیوب چینل بڑی دل چسپی سے دیکھا جا رہا ہے۔ ان کا کام سیاسی اور جنگی پیش گوئیاں کرنا ہے۔ دل چسپ آدمی ہیں اور مزے کی باتیں کرتے ہیں۔ ان کی پیش گوئی ہے کہ ایران یہ جنگ جیتے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس جنگ سے سب سے زیادہ فائدہ اسرائیل کو ہوا ہے، اسرائیل چاہتا ہے کہ خلیج کی ریاستیں امریکی دفاعی اڈوں کی افادیت سے منکر ہو جائیں، امریکی اڈے بند ہو جائیں، اور اسرائیل خطے کے فیصلے کرنے میں امریکا سے بھی آزاد ہو جائے۔پروفیسر جیانگ کی اس جنگ کی نسبت سے تین پیش گوئیاں ہیں۔ ایک تو یہ اس جنگ کے نتیجے میں عالمی مالیاتی نظام زمیں بوس ہو جائے گا، مقدس کرنسیاں، بانڈ اور سٹاک مقدس نہیں رہیں گے اور عوام کو اپنے اثاثے ٹینج ایبل حالت میں محفوظ کرنے ہونگے، افراطِ زر نئے ہمالے سر کرے گی،اور صدیوں بعد دنیا میں شہروں کی مہنگی زندگی چھوڑ کر قصبوں کی طرف نقل مکانی کا رجحان نظر آئے گا۔پروفیسر صاحب جنہیں پیش گوئیاں کہہ رہے ہیں ہمیں تو وہ نوشتہ دیوار دکھائی دیتا ہے۔

تازہ ترین