• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

(گزشتہ سے پیوستہ)

پارسی عبادت خانے میں شام کو صندل کی لکڑی جلائی جاتی تھی جس سے پورا علاقہ مہک جاتا تھا ۔پارسی قوم نہایت تہذیب یافتہ، شائستہ اور ایماندارہوتی ہے۔پارسی لوگ کاروبار اور تعلقات میں بہت ملنسار اور وضعدار ہوتے ہیں۔ریٹی گن روڈ پر پارسیوں کا عبادت خا نہ تھاجس میں پرانے وقتوں کا کنواں تھااور وہ کام بھی کرتا تھااس عبادت خانے میں انجیر کے بہت سارے درخت تھےعبادت خانے سے ذرا پہلے غالباً ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتابوں کی بائنڈنگ کا گودام تھا۔ایک بڑی مشہور ہونڈا بلڈنگ تھی جو ایک انگریز کی تھی بلکہ وہ حویلی کی طرح تھی اور یہیں پر میاںثاقب نثارکا سسرال بھی ہمارے گھر کے قریب ہی تھا۔میاں ثاقب نثار کا ولیمہ ہمارےگھر میں ہوا تھا۔ہماری کوٹھی چونے اور دالوں کے ساتھ تعمیر کی گئی تھی۔ہماری والدہ جب گورنمنٹ اسلامیہ کالج کوپر روڈ میں قیام پاکستان سے قبل زیر تعلیم تھیں تودو پارسی پروفیسرز وہاں پڑھایا کرتی تھیں، ایک کا نام تو ہمیں یاد ہے ٹی بی سٹینا جبکہ دوسری بہن کا نام ہم بھول گئے ہیں۔ ان کی چھ سات کنال کی کوٹھی ہماری کوٹھی کے بالکل سامنے تھی دونوں بہنوں نے زندگی بھر شادی نہیں کی تھی۔وہ ہم سے بہت پیار کرتی تھیں۔ ہر شام وہ ہمیں دودھ کا گلاس اور گری کے تیل میں تلاہوا پراٹھا اورمٹھائی کھلایا کرتی تھیں انہوں نے ہمیں تاش کی مختلف کھیلیں بھی سکھائی تھیںہم تینوں شام کو اکٹھے تاش کھیلا کرتے تھے ۔ ان کے ہاں گری یعنی ناریل کا بہت استعمال ہوتا تھا۔ان کی کوٹھی کا نمبر 12 ٹیپ روڈ تھا جو ہمیں آج بھی یاد ہے ہماری کوٹھی کا نمبر 10 ٹیپ روڈ فرنٹ اور بیک پر2ریٹی گن روڈ تھا کیونکہ ہماری کوٹھی کو دو سڑکیں لگتی تھیں اور دونوں کے نام مختلف تھے۔ یہ لاہور کی ایلیٹ کلاس کا علاقہ تھا جہاں پر قیام پاکستان سے قبل انگریز بیوروکریٹس رہا کرتے تھے۔ قارئین کی دلچسپی کیلئے بتا دیں کہ آج جہاں پر گورنمنٹ سینٹرل ماڈل ا سکول نمبر2 ریٹی گن روڈ پر ہے یہاں پرریٹی گن فیملی کی تین انتہائی خوبصورت اور انتہائی وسیع کوٹھیاں تھیں خوش قسمتی سے ہم نے نہ صرف ان کوٹھیوں کو اپنے ا سکول کے زمانے میں دیکھا تھا بلکہ ان میں کئی مرتبہ گئے بھی تھے۔ ایک کوٹھی گورنمنٹ سینٹرل ٹریننگ کالج( اب یونیورسٹی آف ایجوکیشن کا لوئر مال کیمپس )کے پرنسپل، دوسری گورنمنٹ سینٹرل ٹریننگ کالج کے وائس پرنسپل اور تیسری کو ٹھی گورنمنٹ سینٹرل ماڈل اسکول لوئر مال کے ہیڈ ماسٹر کی تھی۔ سینٹرل ماڈل ا سکول لوئر مال کے ہیڈ ماسٹر جی این بٹ 10 برس تک اس کوٹھی میں رہے تھے پھر سینٹرل ماڈل ا سکول کے ایک ناسمجھ اور تاریخی چیزوں کے دشمن ہیڈ ماسٹر نے ان تینوں کوٹھیوں کو اس وقت کے گورنر پنجاب جنرل جیلانی سے اپنے تعلقات کی بنا پر گرا کر سینٹرل ماڈل اسکول نمبر2 بنا ڈالا آپ سوچیں کہ یہ کوٹھیاں کتنی وسیع تھیں کہ اس میں ایک بڑاا سکول بن گیاجس میں دو ہزار بچے زیر تعلیم ہیں۔ بات ہو رہی تھی ریٹی گن روڈ کی کہ کیا خوبصورت سڑک تھی جہاں پر کبھی بھی دھوپ نہیں آتی تھی ادھر سینٹرل ٹریننگ کالج کے وسیع گراؤنڈ کے گھنے درخت اور دوسری طرف ریٹی گن خاندان کی کوٹھیوں کے درختوں کی چھاؤں اور سینٹرل ٹریننگ کالج کے درختوں پربہت سے گدھ بیٹھے رہتے تھے پتہ نہیں کہاں سے آتے تھے۔ سر ولیم حکومت پنجاب میں سیکرٹری تھے۔

ان کی فیملی کے لوگ رہتے تھے ریٹی گن روڈ،ٹیپ روڈ اور بینک آف بنگال جسے عرف عام میں گھوڑا اسپتال بھی کہا جاتا ہے، جو یونیورسٹی آف وٹنری اینڈ اینیمل سائنسز کا مین کیمپس ہے،کے آمنے سامنے اور ان دونوں سڑکوں پر انگریزوں کی کوٹھیاں تھیں بلکہ ہماری والی کوٹھی میں کبھی انگریز پوسٹ ماسٹر جنرل کی سرکاری رہائش گاہ تھی۔ جوآج سے چند سال پہلے گرا دی گئی ان کوٹھیوں میں سول اینڈ ملٹری گزٹ کے ایڈیٹر میجر مین زک ریڈیو کے آرٹسٹ عشرت رحمانی ،معروف سول سرجن کرنل سی میزز سمتھ اور کئی دیگر انگریز بھی رہے ۔یہ بڑا وسیع علاقہ تھا یہاں پر ایک مزار بھی تھا ایک گراؤنڈ کے کارنر پر تھا کسی زمانے میں سابق چیف سیکرٹری ناصر کھوسہ کے سسر پروفیسر ڈاکٹر ایس ایم مسعود او ر ان کی ساس ڈاکٹر صفیہ شوق بھی رہتی رہیں۔ ہمارے اسکول کی نامور استانی مسز قاسمی علی ڈاکٹر ایس ایم مسعود کی والدہ تھیں۔ بینک آف بنگال کی عمارت ہی میں لاہور کا پہلا سرکاری قدیم ترین پرنٹنگ پریس نصب ہوا تھا جس کی سیڑھیاں انتہائی خوبصورت تھیں ،یہ پریس 1867 سے 1914 تک بینک آف بنگال کی عمارت میں رہا ۔1914میں انگریز سرکار کا یہ پریس موجودہ عمارت میں آگیا جسے پچھلے ماہ بڑی بے دردی کے ساتھ گرا دیا گیا اس پرنٹنگ پریس کے نیچے چار کنال رقبے پر محیط تہ خانہ (بیسمنٹ )بھی تھا جو 1947 تک قابل استعمال رہا قیام پاکستان کے بعد اس تہ خانہ کے بارے میں مشہور کر دیا گیا کہ یہاں پر جن ،بھوت اور چڑیلیں ہیں چنانچہ لوگوں نے اس تہ خانہ میں جانا چھوڑ دیا اب جب تہ خانہ کے اوپر عمارت کا ملبہ گرا تو تہ خانہ سے مورتیاں اور ورکرز کے پینے کے لیے مٹی کے پیالے اور کئی اشیاء بر آمد ہوئیں اس پرنٹنگ پریس میں زیادہ تر ہندو اور سکھ کام کرتے تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ 1947سے 2026 تک اس عمارت یعنی تہ خانے میں کسی نے جانے کی جرات نہ کی اور کسی کو یہ خیال نہ آیا کہ اس میں کیا ہے یعنی چار کنال کا یہ تہ خانہ اور اس میں کیا سامان پڑا ہے پھر ہماری حکومت کی بھی عقلمندی دیکھیں کہ جب تہ خانہ کا پتہ چل گیا ہے تو اس میں ملبہ پھینکنے کی بجائے اس کی مزید کھدائی کی جاتی ،کیا معلوم کتنی تاریخی قیمتی اور قدیم اشیاء یہاں سے بر آمد ہوتیں سمجھ نہیں آتی کہ کون ایسے فیصلے کرتا ہے اور پھر خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔ ارے بابا اس تاریخی عمارت کو گرانے کی بجائے محفوظ کرتے 91 کنال کے رقبے میں سے آپ پہلے بھی 31 کنا ل لاہور ہائی کورٹ کو دے چکے ہیں 10کنال آپ گول باغ کودے چکے ہیں ۔اس بڑی لال اینٹ کی عمارت کے اوپر پیتل میں انگریزی میں گورنمنٹ پریس 1914 ءلکھا تھا جو پلیٹ اب کالی ہو چکی تھی جس ٹھیکیدار نے یہ عمارت گرائی وہ غالباً پیتل کی پلیٹ بھی ساتھ لے گیا۔یہ بڑی خوبصورت عمارت تھی جس میں بغیر اے سی کے بھی کبھی گرمی کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ (جاری ہے)

تازہ ترین