• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان عسکری تصادم کے اثرات چند ممالک کی سرحدوں تک محدود نہیں رہے بلکہ اس نے عالمی سیاست اور معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بڑی جنگیں صرف میدان جنگ میں نہیں لڑی جاتیں بلکہ ان کے اثرات سفارتی ایوانوں، عالمی منڈیوں کے اتار چڑھائو، توانائی کی ترسیل کے راستوں، بین الاقوامی اتحادیوں کی صف بندیوں، خلیج فارس کی تنگ آبی گزرگاہوں خصوصاً آبنائے ہرمز جہاں سے دنیا کا 20 فیصد تیل اور 30 فیصد گیس گزرتی ہے، عالمی معیشت کیلئے چیلنج بن چکے ہیں۔ خطے میں کشیدگی نے تیل کی عالمی قیمتوں، مالیاتی منڈیوں، عالمی تجارت اور سپلائی چین کو بری طرح متاثر کرنا شروع کردیا ہے۔ موجودہ بحران اسلامی دنیا کیلئے ایک امتحان بن چکا ہے جس میں سیاسی بصیرت، اجتماعی اتحاد، دور اندیش حکمت عملی اور برداشت ضروری ہے۔ عالمی سیاست اس وقت ایک ایسے مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں طاقت کے محور تبدیل ہورہے ہیں۔ وہ عالمی نظام جسے کئی دہائیوں سے مغربی بالادستی حاصل تھی، کو اب نئے جغرافیائی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے۔ چین، روس اور دیگر ابھرتی طاقتیں نئے عالمی توازن تشکیل دے رہی ہیں۔ پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے اسلام آباد میں اجلاس کی صدارت نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے قابل اعتماد ثالث کے طور پر کی، اسکی مثال ہے۔ یوکرین جنگ اور ایشیا میں عسکری اتحاد اس بات کی علامت ہے کہ دنیا ایک ملٹی پولر نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار میں آنے کے بعد یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ عالمی سطح پر امن قائم کریں گے مگر انہوں نے ایک سالہ دور میں کئی نئے جنگی محاذ کھول دیئے۔

مشرق وسطیٰ میں حالیہ جنگی صورتحال عالمی طاقتوں کے درمیان اثر و رسوخ کی علامت بن چکا ہے۔ اس کشیدگی نے عالمی معیشت، توانائی کے راستے، اتحادیوں اور عالمی سیاست کی نئی ترجیحات متعین کی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں رجیم چینج لاکر اپنی مرضی کی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں جس کیلئے انہوں نے مذہبی کارڈ بھی استعمال کیا لیکن ناکام رہے اور اب یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ اس جنگ میں عالمی معیشت، توانائی کے راستے، سپلائی چین اور اتحادی نئے سرے سے متعین ہونگے جسکے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک ہی نہیں رہیں گے بلکہ یورپ، ایشیا اور افریقہ تک پھیل سکتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں ہونے والے واقعات نے عالمی عسکری توازن کے بارے میں ایک نئی بحث شروع کردی ہے۔ مئی 2025ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونیوالی محدود مگر اہم جھڑپوں نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ دفاعی میدان میں جدید ٹیکنالوجی کا اہم کردار ہے جسکی مثال مشرق وسطیٰ میں ایران امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور جدید ہتھیاروں کے استعمال سے ملتا ہے۔ عسکری ماہرین کے مطابق جدید جنگ اب زمینی جنگ نہیں بلکہ سائبر ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سسٹم جامنگ، سائبر ڈیفنس سسٹم اور سائبر آپریشنز جنگ جیتنے کیلئے نہایت ضروری ہیں جس کے تانے بانے چینی ٹیکنالوجی سے ملتے ہیں جس سے یہ سبق ملتا ہے کہ آنے والی جنگوں کا اب اصل میدان زمین یا سمندر سے زیادہ ڈیجیٹل اور سائبر فضا ہوگی۔ ایک وقت ٹینک، توپ اور بارودی سرنگیں جنگوں کا فیصلہ کرتی تھیں مگر اب الگورتھم ڈیٹا نیٹ ورک، مصنوعی ذہانت اور ڈرون جنگ کا فیصلہ کریں گے۔ جنگ شطرنج کا ایک ایسا کھیل بن چکا ہے جس میں ہر چال کے جواب میں ایک نئی پیچیدہ چال سامنے آجاتی ہے۔ عالمی طاقت کا توازن خاموشی سے تبدیل ہورہا ہے اور اب وہی ملک نئے منظر نامے میں کردار ادا کرسکیں گے جو ٹیکنالوجی، معیشت، تحقیق اور سفارتکاری میں مضبوط ہوں گے۔

چین کی جدید ٹیکنالوجی نے عالمی طاقت کے توازن کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ان حالات میں اسلامی ممالک کیلئے ضروری ہوگیا ہے کہ وہ اپنے اجتماعی مفادات کے تحفظ کیلئے اہم کردار ادا کریں۔ اسلامی دنیا کی سب سے بڑی کمزوری مسلم ممالک میں داخلی اور باہمی انتشار ہے۔ انہیں عالمی طاقت کی پراکسی بننے سے گریز کرنا ہوگا۔ پاکستان کیلئے بھی یہ صورتحال نہایت حساس ہے۔ پاکستان کو چاہئے کہ وہ خطے میں ایک ذمہ دار اور متوازن کردار ادا کرے، ہماری پہلی ترجیح خطے میں امن کیلئے سفارتی کردار ادا کرنے کی ہونی چاہئے۔ اگر مشرق وسطیٰ کی جنگ طول پکڑتی ہے اور آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل اور گیس کی سلائی متاثر ہونے سے قیمتوں میں ناقابل برداشت اضافہ ہوتا ہے تو پاکستان کو ہنگامی بنیادوں پر ملک میں تیل کے اسٹریٹجک ذخائر قائم کرنے پر توجہ دینا ہوگی۔ پاکستان کو اپنی دفاعی صلاحیت، سائبر سیکورٹی اور داخلی استحکام کو مزید مضبوط بنانا ہوگا اور جلد از جلد اقتصادی خود مختاری حاصل کرنا ہوگی تاکہ ہم ایک آزاد خارجہ پالیسی تشکیل دے سکیں۔ موجودہ بحران پوری اسلامی دنیا کیلئے ایک Wakeup کال ہے۔ ان حالات میں آنے والے وقت میں پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کو بڑے بھائیوں کا کردار ادا کرنا ہوگا۔

تازہ ترین