اماں سویٹر بُننے کی ماہر تھیں، خاندان کی اکثر خواتین جب نٹنگ کرتے ہوئے کسی ڈیزائن پر پھنس جاتی تھیں تو اماں سے راہ نمائی لیا کرتی تھیں۔ اماں کی مہارت کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اماں بُنائی کی زبان پڑھ لیا کرتی تھیں۔ اماں کے پاس نٹنگ کی کئی کتابیں تھیں جن میں سے ایک کا ٹائٹل آج کل ہمیں اکثر یاد آتا رہتا ہے، بالخصوص جب ہم ٹرمپ صاحب کی شکل دیکھتے ہیں۔ کتاب کے ٹائٹل پر تصویر تھی، ایک بلّی اون کے گولے سے کھیلتے ہوئے ریشوں میں سر تا پا الجھ گئی ہے اور اب ملتجی نظروں سے اہلِ دنیا کو ٹُکر ٹُکر دیکھ رہی ہے، کہ کوئی ہے جو اسے اس الجھن سے نکالے۔
ٹرمپ صاحب بھی ’’گولوں‘‘ سے کھیلتے کھیلتے ایک ایسی صورتِ حال میں الجھ گئے ہیں جسے سلجھانے کا اب انہیں کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا۔ اور سچی بات تو یہ ہے کہ کسی کو بھی نہیں نظر آ رہا، ہم جیسے کوتاہ بینوں کو تو چھوڑیے، مشرق و مغرب کے بڑے بڑے دانش ور بھی اس باب میں لب بستہ ہیں۔ یہ ٹائٹینک آئس برگ کی طرف بڑھ رہا ہے اور سب منہ کھولے حادثے کے منتظر ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ امریکا ایسی طویل جنگوں میں پھنس کر سال ہا سال عزت بچا کر نکلنے کا راستہ ڈھونڈتا رہتا ہے، نہ فیس سیونگ ملتی ہے نہ جنگ بند ہوتی ہے، اور آخرِ کار خجالت کا راستہ ہی چننا پڑتا ہے، آخرِ کار دُم دبا کر ہی بھاگنا پڑتا ہے، اور ٹانگوں میں دُم دبانے سے فیس سیونگ نہیں ہوا کرتی۔
اگر آج کے دن جنگ بند ہو جائے؟ تو کیا کہا جائے گا، جنگ کا نتیجہ کیا نکلا؟ تاریخِ عالم کا سب سے طاقت ور ملک امریکا ایک ماہ کی مسلسل وحشیانہ گولہ باری کے باوجود آبنائے ہرمز سے ایران کا قبضہ ختم نہیں کروا سکا، امریکا بہ صد کوشش خطے میں اپنے فوجی اڈوں اور حلیفوں کی حفاظت نہیں کر سکا، امریکا ایرانی حکومت کا خاتمہ نہیں کر سکا۔ ٹرمپ صاحب لاکھ باتیںبنائیں فیس سیونگ نہیں ملے گی۔ اس نقطے پر اگر جنگ بند ہو جائے تو غالباً تاریخ ٹرمپ صاحب کو امریکی گوربا چوف کے طور پر یاد رکھے گی۔ کیوں کہ اس موقعے پر جنگ بندی کے تاریخ ساز نتائج برآمد ہوں گے، دنیا باضابطہ طور پر ملٹی پولر ہو جائے گی، مستقبل میں امریکا کی دھمکیاں "جُگتیں" سمجھی جائیں گی، پیٹرو ڈالر عجائب گھر کی زینت بن جائے گا، خلیج کا نیا سکیورٹی سٹرکچر بنے گا، اور امریکا میں آئندہ انتخاب کا نتیجہ نوشتہء دیوار ہو جائیگا۔ آگے چلیے، اگر جنگ یہاں بند نہیں ہوتی تو کیا ممکنات ہیں؟ اگلا منظر یہ ہے کہ مزید امریکی فوجی خطے میں پہنچ چکے ہیں، امریکا اپنی دھمکیوں کے عین مطابق جزیرہ خارگ پر قبضہ کر لے جو ایران کی تیل کی پیداوار کا مرکز ہے۔ ایک دو اور جزیروں پر بھی قبضہ کرے اور آبنائے ہرمز کو کھول دے، یعنی بوٹس آن گراؤنڈ ہو جائیں، امریکی فوجی جنگ میں براہِ راست جھونک دیے جائیں، امریکا فاتح کا ماسک پہن لے، اور نحیف ایران کو مذاکرات کی میز پر بٹھا کر کچھ طے کروا لیا جائے۔ مگر اس منظر نامے میں کچھ خلا ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اب تک کی جنگ میں فریقین نے ایک نقطے پر خاموش اتفاقِ رائے کے تحت تیل کے نظام کو کوئی ایسا نقصان نہیں پہنچایا جس سے عالمی سطح پر طویل عرصے کیلئے تیل کا بحران پیدا ہو جائے، ایران پر امریکی بمباری ہو یا ایران کے خلیجی ممالک پر میزائل حملے، آئل انفراسٹرکچر کی تباہی سے گریز کیا گیا ہے۔ اگر امریکا جزیرہ خارگ پر حملہ کرتا ہے تو یہ خاموش معاہدہ ٹوٹ جائے گا۔ یہ ایران کیلئے فیصلہ کن گھڑی ہو گی، اور ایران کا فیصلہ بہت سیدھا ہو گا، بہ قول شاعر ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے۔ ایران ثابت کر چکا ہے کہ آج بھی وہ خلیج میں جہاں چاہے میزائل حملہ کر کے کچھ بھی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عسکری ماہرین کے بہ قول ایران کے زیرِ زمین میزائل اڈے امریکا اور اسرائیل 30دن کی بم باری میں تباہ نہیں کر سکے۔ اس صورت میں تیل کا عالمی نظام طویل مدت کیلئے درہم برہم ہو جائیگا جسکے ہولناک نتائج سے امریکا سمیت کوئی ملک نہیں بچ سکے گا۔ سادہ لفظوں میں یہ پاگل پن ہو گا۔ اس صورت میں بھی ایران ہتھیار نہیں ڈالے گا، جنگ طویل ہو جائیگی، اور امریکا ایک دفعہ پھر ایک نہ ختم ہونے والی جنگ میں پھنس جائیگا۔
اس منظرنامے میں جارح کا جانی نقصان لازم ہے، باڈی بیگز امریکا جائیں گے، اور یہ امریکی رائے عامہ کا نقطہء پگھلاؤ ہوا کرتا ہے۔ ایرانی رجیم بھی چینج ہوتی نظر نہیں آتی۔ لگتا ہے امریکا جو ایران میں وینزویلا پارٹ 2 کرنے گیا تھا، ویت نام پارٹ 2 کر بیٹھا ہے۔
تو پھر جنگ کیسے بند ہو گی؟ مذاکرات کیلئے امریکا اور ایران نے جو شرائط رکھی ہیں انکے درمیان نقطہء اتصال ڈھونڈنا دشوار دکھائی دیتا ہے، ایران کہہ رہا ہے کہ بھائی جان آپ میرا نقصان پورا کریں، آبنائے ہرمز میرے قبضے میں رہنے دیں اور پورے خطے سے تشریف لے جائیں۔ ایران کی آدھی شرائط بھی مان لی جائیں تو موجودہ ورلڈ آرڈر گر جائیگا۔ لمبی جنگ ایران کے فائدے میں ہے، لمبی جنگ چین اور روس کے فائدے میں ہے، لمبی جنگ امریکا کے ہر مخالف کے فائدے میں ہے۔ امریکا جنگ سے نکلنا بھی چاہتا ہے مگر کیسے؟ کوئی رستہ نظر نہیں آ رہا کہ امریکا جنگ سے نکل بھی جائے اور اکلوتی سپر پاور بھی رہ جائے۔
جونؔ بھائی فرماتے ہیں ’’میں اس دیوار پر چڑھ تو گیا ہوں.....اتارے کون اب دیوار پر سے۔‘‘