آپ کے شہر میں اگر آسمان سے ایک دھماکا خیز مواد سے بھری بس آکر گرجائے تو کتنا نقصان ہوگا؟ اس کا اندازہ لگانے کی کوشش کریں۔ اسرائیل اور ایران کی جنگ میں آج کل یہی ہورہا ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر بیلسٹک میزائل پھینک رہے ہیں۔ امریکا بھی اس جنگ میں شریک ہے۔ پاکستان میں سوشل میڈیا پر بیٹھے اور جنگی جنون میں مبتلا لوگوں کو اس تباہی کی سنگینی کا درست ادراک نہیں کیونکہ افواہوں، فیک نیوز اور میمز کا طوفان آیا ہوا ہے۔ بیلسٹک میزائل عموما 10 سے 15 میٹر تک طویل ہوتے ہیں اور ان کا وزن کئی ٹن یعنی کئی ہزار کلوگرام تک ہوتا ہے۔ فائر کرنے کے بعد راستے میں اس کے بعض حصے گرجاتے ہیں اور ہدف تک صرف وارہیڈ پہنچتا ہے لیکن وہ بھی دو میٹر تک طویل اور ایک میٹر قطر کا ہوسکتا ہے۔ اس میں کئی سو سے ایک ہزار کلوگرام تک دھماکاخیز مواد ہوتا ہے۔ بعض جدید میزائل ایک سے زیادہ وارہیڈز لے جاسکتے ہیں جو الگ الگ مقامات کو نشانہ بناسکتے ہیں۔
اس لڑائی کو میزائلوں کی جنگ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ میزائل پھینکے بھی جارہے ہیں اور روکے بھی جارہے ہیں۔ اسرائیل کے آئرن ڈوم نظام کا زیادہ شہرہ ہے حالانکہ وہ صرف لبنان اور غزہ سے آنے والے چھوٹے راکٹ، مارٹر اور ڈرون روک سکتا ہے۔ ڈیوڈز سلنگ درمیانے فاصلے کے خطرات، جیسے بڑے راکٹ اور بعض کروز یا بیلسٹک میزائلوں کے خلاف استعمال ہوتا ہے۔ ایران سے چلائے گئے بیلسٹک میزائلوں کو ایرو ٹو اور ایرو تھری نظام فضا میں روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔
عرب ریاستیں امریکی مدد پر زیادہ انحصار کررہی ہیں جسکے پیٹریاٹ اور تھاڈ نظام ایرانی میزائلوں اور ڈرونز سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ عرب ریاستوں کے پاس یورپی سسٹم بھی ہیں۔ ایران کا دفاعی نظام اس قدر عمدہ نہیں اس لیے وہاں زیادہ تباہی ہورہی ہے۔ اس کے پاس مقامی ارمان اور خرداد نظام ہے البتہ وہ اسرائیل کے کثیر سطحی اور مربوط نظام جتنے موثر نہیں۔ بہرحال کوئی دفاعی نظام سو فیصد تحفظ فراہم نہیں کرسکتا۔ خاص طور پر جب درجنوں میزائل یا ڈرونز ایک ساتھ روانہ کیے جائیں تو ان سب کو انٹرسیپٹ کرنا ممکن نہیں رہتا۔ اس کے علاوہ کلسٹر میزائل بھی خطرناک ہوتا ہے جس میں ایک بڑے بم کے بجائے متعدد چھوٹے بم الگ الگ پھٹتے ہیں اور وسیع علاقے کو متاثر کرتے ہیں۔
جنگ ہوتی ہے تو اس میں ایٹمی ہتھیار چلنے کے خدشات ظاہر کیے جاتے ہیں۔ اس جنگ میں بھی یہ خدشہ سامنے آیا ہے۔ اگر ایٹمی وارہیڈ والا میزائل چلایا جائے اور اسے دفاعی میزائل روک لے تو زیادہ امکان ہے کہ ایٹمی دھماکا نہیں ہوگا کیونکہ اس کیلئے پیچیدہ نظام اور مخصوص حالات میں فعال ہونا ضروری ہوتا ہے۔ لیکن تابکاری مواد کے پھیلنے کا خطرہ رہتا ہے۔
اس جنگ میں ایک افواہ یہ پھیلی ہوئی ہے کہ ہر شخص کے جسم کا درجہ حرارت یعنی باڈی ہیٹ مختلف ہوتی ہے۔ اگر اسے ریکارڈ کرلیا جائے تو میزائل یا قاتل ڈرون نشانہ لگاکر قتل کرسکتے ہیں۔ ایرانی رہنمائوں کو اسی ٹیکنالوجی سے ہدف بنایا گیا ہے۔ یہ درست نہیں اور ٹیکنالوجی بہت ایڈوانس ہونے کے باوجود اس مرحلے تک نہیں پہنچی۔ صرف اس حد تک سچ ہے کہ انسانوں، جانوروں بلکہ نباتات سے بھی کسی حد تک حرارت خارج ہوتی ہے۔ تمام انسانوں کا درجہ حرارت کم و بیش یکساں ہوتا ہے جسے تھرمل کیمروں سے دیکھا جاسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص، فرض کریں کہ اندھیرے جنگل میں کھوجائے تو اس ٹیکنالوجی کی مدد سے اسے تلاش کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ باڈی ہیٹ فنگرپرنٹس جیسی نہیں ہوتی۔ دو افراد کو الگ الگ شناخت نہیں کیا جاسکتا۔اسرائیل طویل عرصے سے فلسطینی رہنمائوں، مخالف ملکوں کے سیاست دانوں اور ایجنٹس کو ہلاک کررہا ہے۔ وہ یہ کام نگرانی کے پیچیدہ نظام کی مدد سے کرتا ہے۔ اس میں انسانی انٹیلی جنس، جاسوس سیٹلائٹس، چہرہ شناخت کرنے والے کیمرے، موبائل فون سگنلز اور اب اے آئی بھی شامل ہے۔
یہ کوئی راز نہیں کہ اسرائیلی انٹیلی جنس ایران میں بہت اندر تک سرایت کرچکی ہے۔ اسے ایرانی رہنمائوں کی درست اطلاعات ملتی رہی ہیں کہ کون کہاں موجود ہے، کہاں جارہا ہے اور اسکی سیکورٹی روٹین کیا ہے۔ کسی رہنما یا اس کے قریبی افراد کے موبائل فون اور انٹرنیٹ کنکشن ٹریس ہوجائیں تو کام بہت آسان ہوجاتا ہے۔ سیٹلائٹس اور جاسوس ڈرونز ہدف کی نقل و حرکت سے آگاہ کرتے ہیں۔ اس سے رئیل ٹائم معلومات مل جاتی ہیں۔ یہ کڑیاں ملاکر شکار کا کمزور لمحہ تلاش کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد درست نشانہ بنانا ممکن ہوجاتا ہے۔
تہران میں جوہری سائنس دان محسن فخری زادے کو 2020 میں ریموٹ کنٹرول مشین گن سے قتل کیا گیا تھا۔ یہ کام اندازے یا باڈی ہیٹ جیسی ٹیکنالوجی سے نہیں کیا جاسکتا تھا۔ قاتلوں کو ان کی روٹین کا علم تھا۔ جیسے ہی وہ زد پر آئے، انھیں نشانہ بنادیا گیا۔ قاسم سلیمانی، اسماعیل ہانیہ، علی خامنہ ای، یہ سب انسانی انٹیلی جنس اور ماڈرن ٹیکنالوجی کے مشترکہ استعمال سے قتل کیے گئے۔
ایران جنگ سے پہلے امریکا پاکستان کے قبائلی علاقوں اور افغانستان میں دو دہائیوں تک قاتل ڈرونز سے دہشت گردوں کو نشانہ بناتا رہا۔ اس میں بھی انسانی انٹیلی جنس یعنی مخبروں نے سب سے اہم معلومات فراہم کیں۔ موبائل یا سیٹلائٹ فون کی نشاندہی پر کام آسان ہوجاتا تھا۔ لیکن بعض اوقات یہ بھی ہوا کہ مخبر نے ہدف کے ٹھکانے پر سم پھینک دی جس سے ڈرون کو سگنل مل گئے۔ اس میں غلطی کا امکان رہتا تھا اور کئی بار غلطیاں ہوئیں بھی۔ ان حملوں میں ایم کیو نائن ریپر ڈرون استعمال کیے جاتے تھے جو گھنٹوں فضا میں رہ کر ویڈیو ریکارڈنگ کرسکتے تھے اور موقع ملتے ہی ریموٹ کنٹرول سے میزائل فائر کردیتے تھے۔
جدید دور کی جنگ میں سب سے بڑا ہتھیار میزائل یا ڈرون نہیں ہیں، درست معلومات ہیں۔ جس فریق کو بہتر معلومات مل جائیں، درست تجزیہ اور وقت پر فیصلہ کرلے، وہ سبقت لے جاتا ہے۔