دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ مرمت کے بعد کروشیا سے روانہ ہو گیا ہے۔
امریکی اخبار کے مطابق ممکنہ طور پر امریکی بحری بیڑہ جیرالڈ فورڈ مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی فوج کا دوبارہ حصہ بن جائے گا۔
امریکی بحریہ کے مطابق کروشیا میں 5 روز کے دوران جہاز کے اسپلٹ میں ضروری مرمت کی گئی۔
اس سے قبل جاری ایران جنگ کے دوران جہاز کے لانڈری اور رہائشی حصے میں 12 مارچ کو آگ لگنے سے نقصان پہنچا تھا، جس کے باعث اسے عارضی طور پر خطے سے نکال لیا گیا تھا، اس پر 5 ہزار اہلکار اور 75 جنگی طیارے موجود تھے۔
امریکی بحریہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مرمت مکمل کر لی گئی ہے اور جہاز اب کسی بھی آپریشنل مشن کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، جبکہ آگ لگنے کے واقعے کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔
واضح رہے کہ یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ اور اس کے ہمراہ بحری جہازوں کو فروری کے وسط میں مشرقِ وسطیٰ بھیجا گیا تھا تاکہ ایران کے ساحل کے قریب پہلے سے موجود امریکی بحری بیڑے کو مزید تقویت دی جا سکے۔
ان جہازوں میں یو ایس ایس ابراہم لنکن بھی شامل ہے، جو درجنوں طیاروں اور ہزاروں فوجیوں کو لے کر ایران کے خلاف فضائی کارروائیوں میں معاونت فراہم کر رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایک تیسرا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش بھی 3 تباہ کن جہازوں اور 1 مکمل کیریئر اسٹرائیک گروپ کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ کی جانب رواں دواں ہے، جس میں 6 ہزار سے زائد اہلکار شامل ہیں۔