ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے جمعے کے روز (آج) ایک اور امریکی لڑاکا طیارہ ایف 35 جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے مار گرایا، جس کے بعد اس طیارے کی مختلف تصاویر جاری کی گئی ہیں۔
ادھر امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگون) نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ فراہم کردہ ملبے کی حتمی شناخت ممکن نہیں۔
آئی آر جی سی کے مرکزی کمانڈ ہیڈکوارٹرز کے مطابق طیارہ آئی آر جی سی کی ایرو اسپیس فورس کے نئے فضائی دفاعی نظام کا نشانہ بنا اور وسطی ایران میں گر کر تباہ ہو گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ شدید دھماکے کے باعث پائلٹ کے بچنے کا امکان کم ہے۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے متعدد تصاویر جاری کی ہیں، جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ تباہ شدہ طیارے کے ملبے کی ہیں، ملبے پر نظر آنے والے نشانات برطانوی اڈے کی نشاندہی کرتے ہیں، مگر طیارے کی نوعیت متنازع ہے۔
آئی آر جی سی کے مطابق ملبے پر موجود ’ایل این‘ ٹیل کوڈ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ طیارہ برطانیہ میں واقع آر اے ایف لیکنهیتھ کے 48 ویں فائٹر ونگ سے تعلق رکھتا تھا، جہاں 493 واں فائٹر اسکواڈرن تعینات ہے۔
تسنیم نے اس کارروائی کو امریکی صدر کی جانب سے ایرانی تنصیبات پر حملوں میں شدت لانے کی دھمکیوں کے خلاف ایرانی مسلح افواج کا پہلا جواب قرار دیا ہے۔
اگرچہ ملبے پر موجود نشانات لیکنهیتھ کے 493 ویں فائٹر اسکواڈرن سے مطابقت رکھتے ہیں، تاہم اوپن سورس تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی ہے کہ ملبے پر موجود رنگ و روپ ایف-35 اے طیارے کے متوقع ڈیزائن سے مطابقت نہیں رکھتے۔
ماہرین کے مطابق تصاویر میں دکھائے گئے حصے زیادہ تر ایف-15 طیارے کی دم (ٹیل سیکشن) سے مشابہت رکھتے ہیں، جس کے باعث ایرانی دعوے پر شکوک و شبہات برقرار ہیں۔