پاکستان کے معروف اداکار شان شاہد نے کہا ہے کہ فلم ’بُلھا‘ کی کامیابی پر بےحد خوش ہوں، میری نئی فلم ’سائیکو‘ میں اداکارہ میرا سب کو حیران کردینگی، فلم انڈسٹری میں اب دشمنی بہت ہوگئی ہے، لوگ ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے۔ بڑے لوگ جب میرے بارے میں چھوٹی چھوٹی باتیں کرتے ہیں، تو افسوس ہوتا ہے، جیو کی فلم ’خدا کے لیے‘ کے بعد بالی ووڈ سے فلموں میں کام کرنے کی آفرز ہوئیں۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار جنگ ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ 500 سے زیادہ فلموں میں بطور ہیرو کام کرنے والے اداکار شان شاہد نے بتایا کہ عیدالفطر پر ریلیز ہونے والی میری فلم بُلھا تیزی سے کامیابی کی جانب گامزن ہے، ہم نے فلم بینوں کو بتایا کہ فلم کیا ہوتی ہے۔
انکا کہنا تھا کہ نعیمہ بٹ اور مونا لیزا نے عمدہ کام کیا، کراچی سے ہمیشہ مجھے بہت پیار ملا ہے، جلد کراچی کے دوستوں سے ملنے کراچی آرہا ہوں، کراچی کے سنیما مالکان سے بھی ملوں گا۔
ایک سوال کے جواب میں منجھے ہوئے اداکار کا کہنا تھا کہ ٹیلی ویژن اچھا میڈیم ہے، اس میں کام کرنے والے میرے لیے قابل احترام ہیں۔
شان شاہد نے کہا کہ میں ہر میڈیم کی قدر کرتا ہوں، ٹیلی ویژن پر کام کرنا ٹیسٹ کرکٹ میچ کی طرح ہوتا ہے، جب کہ فلم میں ہمیں ٹی ٹوئنٹی میچ کی طرح کام کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بڑے بڑے کھلاڑی جب ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلتے ہیں، تو اس کے مطابق اپنا انداز اپناتے ہیں، اسی طرح ہمارے ٹیلی ویژن کے فنکار بہت اچھے ہیں، لیکن جب وہ فلم میں کام کرنے آتے ہیں، تو ان کا انداز ٹیلی ویژن والا ہی ہوتا ہے۔
اس سوال پر کہ جیو کی فلم’خدا کے لیے‘ کی شہرت سرحد پار بھی گئی، آپ کی پرفارمنس کو بالی ووڈ والوں نے سراہا، اس کے بارے میں کچھ بتائیں؟ اس پر انہوں نے بتایا کہ اس میں کچھ شک نہیں کہ شعیب منصور صفِ اوّل کے ڈائریکٹر ہیں، وہ کمال کا لکھتے ہیں، اسی وجہ سے فلم ’خدا کے لیے‘ کو دُنیا بھر میں پذیرائی ملی۔ ایسی فلمیں آج بھی ضرور بننی چاہئیں۔
شان شاہد کا کہنا تھا کہ بالی ووڈ میں بھی اس فلم کے چرچے بہت تھے۔ مجھے کئی بالی ووڈ ڈائریکٹرز نے فلموں میں کام کرنے کی پیش کش کی، مگر میں نے صاف انکار کر دیا۔ مجھے محسوس ہوا کہ ابھی اپنے پاکستانیوں کے لیے کام کرنا ہے۔ ان کو انٹرٹین کرنا ہے۔ میں امریکا سے واپس پاکستان آیا، تو سڑکیں بدل چکی تھیں، لیکن لوگ نہیں بدلے تھے۔ بات کرنے کی آزادی مجھے امریکی جمہوریت میں محسوس ہوئی۔
شان نے کہا کہ میں نے اپنی حکومتوں کو سمجھایا کہ زندگی میں انٹرٹینمنٹ کی کتنی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے ماضی میں کسی بھی حکومتوں نے انٹرٹینمنٹ پر توجہ ہی نہیں دی۔ اداکار شان نے مزید بتایا کہ اداکاری کا فن میری گُھٹی میں شامل ہے۔ اسی طرح میرے بچوں کو بھی گھر میں شوبز کا ماحول ملا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ میری چار بیٹیاں ہیں، تین بیٹیاں ایک ساتھ پیدا ہوئی تھیں۔ چاروں کو شوبز ہی میں کام کرنے کا شوق ہے، ابھی وہ تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ میری طرح ان کو گھرمیں پڑھا لکھا ماحول، کتابوں پر گفتگو، شاعری پر باتیں اور ادب کے سلسلے، یہ سب کچھ ملا ہے۔
شان کا کہنا تھا کہ کون کیا بنتا ہے، اس کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ کراچی اور لاہور کے فلم میکرز کو مل کر انڈسٹری کی بحالی کے لیے کام کرنا ہوگا۔ فہد مصطفیٰ اور ہمایوں سعید بھی ہمارے اپنے ہیں، ہم سب مل کر کام کر یں گے۔