• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا میں پیٹرول 4.30 ڈالر فی گیلن تک مہنگا، آبنائے ہرمز تنازع قیمتوں میں تیزی کی بڑی وجہ قرار

---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

امریکا میں پیٹرول کی اوسط قیمت بڑھ کر 4.30 ڈالر فی گیلن ہو گئی ہے جو ایک ہفتے میں تقریباً 27 سینٹ اضافے کو ظاہر کرتی ہے، یہ اضافہ ایران کے ساتھ کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث سامنے آیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق امریکن آٹو موبائل ایسوسی ایشن کا بتانا ہے کہ موجودہ قیمت گزشتہ سال کے مقابلے میں 1.12 ڈالر زیادہ ہے جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے، یہ قیمتیں گزشتہ 4 برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

امریکی ریاست کیلیفورنیا میں پیٹرول 6 ڈالر فی گیلن سے بھی اوپر چلا گیا ہے جس سے مہنگائی اور معاشی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنگ ختم ہوتے ہی پیٹرول کی قیمتیں تیزی سے نیچے آ جائیں گی تاہم ماہرین کے مطابق تنازع ختم ہونے کے باوجود قیمتوں میں فوری کمی یقینی نہیں ہوتی۔

عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے جہاں ایران نے آبنائے ہرمز بند کر رکھی ہے جبکہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ کر رکھا ہے۔ 

ایران نے براہ راست مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال مزید برداشت نہیں کی جائے گی اور عالمی برادری اس کشیدگی کو سنجیدگی سے لے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید