ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نیوی نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کا اسٹریٹجک منظر نامہ مستقل طور پر تبدیل ہو چکا ہے اور یہ اہم آبی گزرگاہ خصوصاً امریکا اور اسرائیل کے لیے اب کبھی اپنی سابقہ حالت میں واپس نہیں آئے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں آئی آر جی سی نیوی کمانڈ نے کہا ہے کہ اس اہم بحری راہداری پر غیر ملکی بالادستی کا دور ختم ہو چکا ہے۔
بیان میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حالیہ علاقائی پیش رفت نے طاقت کے توازن کو بدل دیا ہے اور بیرونی قوتوں، خاص طور پر امریکا کی ایران کے قریبی سمندری علاقوں میں اثر اندازی محدود ہو گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز اب اپنی سابقہ صورتِ حال میں واپس نہیں آئے گی، بالخصوص امریکا اور صہیونی ریاست کے لیے۔
بیان میں اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ ایران اپنی خود مختاری اور علاقائی سلامتی کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔
آئی آر جی سی کے مطابق ایران ایک وسیع آپریشنل حکمتِ عملی کے آخری مراحل میں ہے جس کا مقصد خلیجِ فارس میں مقامی سطح پر سیکیورٹی نظام قائم کرنا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ علاقائی استحکام کی ذمے داری بیرونی طاقتوں کے بجائے خطے کے ممالک کو خود سنبھالنی چاہیے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے اپنی بحری موجودگی میں اضافہ کیا ہے، نگرانی کے نظام کو اپ گریڈ کیا ہے اور فوری ردعمل کی صلاحیت کو بہتر بنایا ہے تاکہ اپنی سمندری حدود کا دفاع اور آبنائے ہرمز سے توانائی کی ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔
ایرانی عسکری قیادت نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا یا اس کے اتحادیوں نے اس نئی صورتِ حال کو چیلنج کرنے کی کوشش کی تو انہیں فوری اور فیصلہ کن ردِعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے بعد سامنے آیا ہے جن میں انہوں نے آبنائے ہرمز میں پابندیاں برقرار رہنے کی صورت میں ایران کے خلاف سخت کارروائی، بشمول اہم تنصیبات پر ممکنہ حملوں کی دھمکی دی تھی۔