• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنگ بندی میں پاکستان کی سفارتی کامیابی پر آسٹریا کی قیادت کا خیر مقدم

فائل فوٹو۔
فائل فوٹو۔

امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے معاہدے کو عالمی سطح پر مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ آسٹریا کی اعلیٰ قیادت نے بھی اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کو سراہا ہے۔

آسٹریا کے چانسلر نے اس معاہدے کو انتہائی کشیدہ صورتحال میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے سفارتکاری کے لیے ایک نئی کھڑکی کھل گئی ہے، جس کے ذریعے مستقل امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ انہوں نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی سفارتی کوششوں کو خصوصی طور پر سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔

وزیر خارجہ اسٹث نے بھی اس پیش رفت کو ایک اہم مہلت قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ اب فوری طور پر بامعنی مذاکرات کا آغاز ہونا چاہیے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے براہ راست اثرات یورپ، بالخصوص آسٹریا کی معیشت، توانائی کی قیمتوں اور سیکیورٹی پر مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ویانا عالمی مذاکرات کے لیے ایک مؤثر اور غیر جانبدار مقام کے طور پر دستیاب ہے اور آسٹریا اس عمل میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں جاری سفارتی سرگرمیوں کے دوران یورپی یونین کے فعال کردار کی بھی خواہش ظاہر کی گئی ہے، جبکہ عالمی برادری اس بات پر متفق دکھائی دیتی ہے کہ موجودہ جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

آسٹریا میں پاکستانی سفیر کامران اختر ملک نے اپنے بیان میں اس پیش رفت کو پاکستان کی کامیاب سفارتکاری قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے عالمی امن کے قیام میں ایک ذمہ دار اور مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ 

ان کے مطابق پاکستان نے نہ صرف خطے کو ایک بڑے تصادم سے بچانے میں مدد کی بلکہ عالمی استحکام کے لیے بھی مثبت راستہ ہموار کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان مستقبل میں بھی امن، مذاکرات اور سفارتکاری کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
برطانیہ و یورپ سے مزید