آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
بلوچستان میں صدیوں سے رائج طاقتور سرداری نظام وقت گزرنے کے ساتھ بتدریج کمزور ہو رہا ہے اور نواب اکبر بگٹی اور نواب خیر بخش مری کے بعد اس میں مزید دراڑیں پڑ گئیں ہیں۔ بلوچ سرزمین سے باہر کی دنیا میں عموماً یہ تاثر پایاجاتاہے کہ بلوچستان کے قبائل اجڈگنوار اور وحشی ہیں ان کے سردار انتہادرجے کے ظالم اور بے رحم ہیں۔ شاید کسی زمانے میں صورت حال اس سے ملتی جلتی ہو مگر اب ایسا نہیں ہے۔ قبائل غریب ضرور ہیں اور تعلیم کے لحاظ سے پسماندہ بھی ہیں مگر اب وہ اکیسویں صدی کے متمدن معاشرے کا حصہ ہیں۔ اپنے شہری حقوق سے پوری طرح آگاہ ہیں اور ان کا سیاسی شعور بھی قابل لحاظ حد تک پختہ ہے، رہے سردار تو جہاں وہ قبائلی روایات اور رسم و رواج کے اعتبار سے سخت گیر ہیں وہاں اپنے قبیلے کے لوگوں کے محافظ اور ان کے حقوق کے پاسدار بھی ہیں۔ ان سے زیادہ ظالم تو پنجاب اور سندھ کے اکثر جاگیر دار ہیں جن کی چیرہ دستیوں کی داستانیں آئے روز منظرعام پر آتی رہتی ہیں۔ بلوچ قبائل میں زمانے کی پخت وپزکے نتیجے میں کئی تبدیلیاں آچکی ہیں۔ اب ہر قبیلے میں بظاہر ہر ایک لیکن عملاً کئی کئی سردار ہیں۔ ہر قبیلے کی کئی کئی شاخیں ہیں جن کے میر معتبرین بھی اتنے طاقتور ہیں کہ انہوں نے اپنی سرداریاں قائم کرلی ہیں یادوسری شاخوں کو ساتھ ملاکرسردار کے خلاف

محاذ بنالئے ہیں۔ نواب اکبر بگٹی اور نواب خیربخش مری اتنے مضبوط اور بااثر تھے کہ ان کی زندگی میں انہیں چیلنج کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوسکی۔ ایوب خان کے دور میں ان دونوں کے علاوہ مینگل قبیلے کے سردار کو بھی حکومت نے تبدیل کرنے کااعلان کیا اور ان کی جگہ نئے سردار نامزد کردیئے لیکن تینوں قبائل نے حکومتی سرداروں کو موقع ملتے ہی قتل کر دیا اور اصل سردار پوری قوت کے ساتھ بحال ہو گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے سرداری نظام کے خاتمے کا باقاعدہ اعلان کیا مگر اس پر عملدرآمد نہ ہو سکا جس جلسہ عام میں یہ اعلان کیا گیا اسی میںنواب دودا خان زرکزئی نے بھٹو سے مخاطب ہوکر کہا سردار کا تقرر حکومت نہیں کرتی کہ انہیں برخاست کردے۔آپ جتنے بھی قوانین بنالیں، سرداروں کو قبائل کے دلوں سے محو نہیں کر سکتے کیونکہ وہ ان کی ضرورت ہیں اور ہوا بھی یہی۔ قانون بن گیا مگر سردار اپنی جگہ قائم رہے۔ فرق صرف اتنا پڑا کہ پہلے سردار اپنے اپنے علاقوں میں امن عامہ کے ذمہ دار تھے۔ اب اس ذمہ داری سے سبکدوش ہو گئے۔ سرداروں کو یہ ذمہ داری انگریزوں کے دور میں پولیٹیکل ایجنٹ کیپٹن رابرٹ سنڈیمن نے جو ترقی کرتے کرتے جنرل اور پھر لارڈ سنڈیمن بن گیا۔ سرداری نظام میں اصلاحات کے ذریعے سونپی تھی۔ ان اصلاحات کا اصل مقصد انگریزی راج کے خلاف قبائل کی آئے دن کی بغاوتوں پر طاقت کی بجائے حکمت سے قابو پاناتھا، اس نے سرداروں کو اپنے ماتحت میر معتبرین کی مدد سے امن و امان قائم رکھنے کا ذمہ دار بنایا اور اس کے عوض ان کے وظیفےمقرر کئے۔وظائف تو اب بھی جاری ہیںمگر سرداری نظام منسوخ ہونے کے باعث سردار امن و امان کے محافظ نہیں رہے۔ صوبے میں اس وقت بدامنی اور لاقانونیت کے جو مظاہر دیکھنے میں آرہے ہیں۔ اور سرداری نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اس کی بڑی وجہ بھی یہی ہے۔
بلوچستان کے تاریخی تشخص حق حاکمیت اور ساحل و وسائل کے حوالے سے جتنی بھی مرکز گریز تحریکیں چلیں عام بلوچ قوم پرستوں کے علاوہ زیادہ تر سرداروں کی خاموش یا اعلانیہ ہمدردیاں ان کے ساتھ تھیں۔ اس وقت قوم پرستوں کے علاوہ مری اور بگٹی قبائل علیحدگی کی تحریک میں پیش پیش ہیں لیکن نواب بگٹی اور نواب مری کے بعد ان کی قوت تقسیم ہوگئی ہے، اس کی وجہ دونوں قبیلوں کے ایک سے زیادہ سرداروں کاایک دوسرے کے سامنے آنا ہے۔ ڈیرہ بگٹی پر اکبر بگٹی کے پوتے میرعالی بگٹی کا تسلط ہے جنہیں اسٹیبلشمنٹ کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ تاہم قبیلہ پوری طرح ان کے کنٹرول میں نہیں اس لئے وہ اکثر سانگھڑ(سندھ)میں اپنی آبائی زمینوں پر رہتے ہیں۔ سیاست میں بھی وہ زیادہ سرگرم نہیں۔ دوسرے نواب براہمدغ بگٹی ہیں جو بلوچ ری پبلکن پارٹی اور بلوچ ری پبلکن آرمی کے سربراہ ہیں اور بیرون ملک سے مزاحمتی تحریک چلارہےہیں۔ کہا جاتا ہے کہ انہیں نواب اکبربگٹی نے خود اپنا جانشین نامزد کیا تھا۔ تیسرے نواب طلال بگٹی ہیں جو کوئٹہ کے بگٹی ہائوس میں مقیم ہیں اور مرحوم نواب بگٹی کی جمہوری وطن پارٹی کی سرپرستی کررہے ہیں۔ نواب خیبربخش مری کے انتقال کے بعد کچھ قبائلی عمائدین نے ان کے بڑے صاحبزادے جنگیز مری کو نواب منتخب کیا۔ جنگیز مری صوبائی وزیراور مسلم لیگ ن کے مرکزی نائب صدر بھی ہیں۔ ان کے مقابلے میں مزاحمتی تحریک کے حامی عمائدین نے ان کے بھائی مہران مری کو نواب بنادیاہے جو یورپی یونین میں بلوچ مزاحمت کاروں کی غیرسرکاری نمائندگی کر رہے ہیں۔ تاہم مری قبائل کی مزاحمت کے اصل قائد حیربیار مری ہیں جو بلوچ لبریشن آرمی(بی ایل اے)جیسی فعال عسکری تنظیم کے سربراہ ہیں۔ ایک اور بھائی گزین مری بھی اسی تحریک سے وابستہ ہیں یہ دونوں صوبائی وزیربھی رہے ہیں۔ وفاقی کے حامی جنگیز مری کو اپنے دوسرے بھائیوں کی طرف سے قبیلے میں شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ سرکش اور منہ زور مریوں کو مزاحمتی تحریک سے الگ کرنے میں کہاں تک کامیاب ہوتے ہیں۔ قبائلی نظام میں زیادہ اہمیت اس کو دی جاتی ہے جو لوگوں کے دکھ درد میں ان کے زیادہ کام آسکےاور ان کے پھنسے ہوئے کام نکلواسکے۔ اس لحاظ سے نواب عالی بگٹی اور نواب جنگیز مری کا پلڑا بھارئی دکھائی دیتا ہے کیونکہ وہ اپنے لوگوں میں موجود ہیں جبکہ منحرفین بیرونی ملکوں میں قیام پذیر ہیں کسی مفاہمت کے بغیر مستقبل قریب میں ان کی واپسی کا بھی کوئی امکان نہیں اور مفاہمت کے لئے وہ تیار نہیں۔
ویسے تو مرکز کے خلاف زہری قبائل کے نواب نوروزخان سمیت بعض دوسرے سرداروں اور کرشماتی شخصیات نے بھی بغاوتیں کیں مگر وفاقی مقتدرہ تقریباً 70میں سے تین سرداروں سے ہمیشہ خوفزدہ رہی اور وقتاً فوقتاً ’غدار‘ قرار دے کر انہیں اپنے نشانے پر رکھا۔ ان میں سردار عطااللہ مینگل، نواب خیربخش مری اور نواب اکبر بگٹی شامل ہیں۔ نامور سیاستدان اور مؤرخ میرنصیرخان مینگل کے مطابق مینگل براہوی بلوچ ہیں۔ عددی اعتبار سے یہ بلوچوں کا سب سے بڑا قبیلہ ہے۔ اس کے سردار ویسے تو عطااللہ مینگل ہیں مگر انہوں نے یہ ذمہ داری اپنے صاحبزادے اخترمینگل کو سونپ دی ہے جو بلوچستان نیشنل پارٹی کے صدر ہیں۔ سردار عطااللہ مینگل نے ہمیشہ پاکستان کے اندر بلوچوں کے حق حاکمیت اور وسائل پر مکمل اختیار کی بات کی ہے۔ علیحدگی کا مطالبہ انہوں نے کبھی نہیں کیا مگر بگڑتے ہوئے حالات میں اس امکان کو مسترد بھی نہیں کرتے۔ اس طرح انہیں اور ان کے جانشین کو ایک طرف وفاقی مقتدرہ کی ناپسندیدگی کا سامنا ہے تو دوسری طرف علیحدگی پسند بھی ان کے خلاف ہیں۔ وہ اختر مینگل پر قاتلانہ حملہ کرچکے ہیں اور ان کے بعض ساتھیوں کو جان سے بھی مار چکے ہیں۔ مری آبادی کے لحاظ سے بلوچوں کا تیسرا بڑا قبیلہ ہے۔ نواب یا سردار خیربخش مری ابتدا میں پاکستان کے خلاف نہیں تھے مگر بلوچستان کو مسلسل نظرانداز کرنے پر خلاف ہوگئے۔ بی ایل اے انہی کے مشن پر عمل پیرا ہے۔ مری اور بگٹی ہمسایہ قبائل ہیں۔
مریوں کا ہیڈکوارٹر کاہان اور بگٹیوں کا ڈیرہ بگٹی ہے۔ نواب اکبر بگٹی پاکستان کے حامی تھے اور کئی اہم عہدوں پر فائز رہے مگر صوبے کے حقوق کے مسئلے پر ان کی مرکز سے ہمیشہ ٹھنی رہی۔ اسی بنا پر ’غدار‘ ٹھہرے۔ آخرکار مزاحمت کا راستہ اختیار کیا اور بلوچوں کے نزدیک شہیداعظم کا درجہ پایا۔ بگٹی قبائل میں تین نوابوں کے علاوہ صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کی صورت میں ایک تیسری قوت ابھر رہی ہے جس کا مؤقف ہے کہ سرداری نظام ختم ہوچکا اب بگٹیوں کا کوئی نواب یا سردار نہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں