• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لگ بھگ سال پہلے پنجاب حکومت کی ایک اعلیٰ شخصیت کو فون کیا تو وہ فون نہ اٹھا سکیں، مصروف ہوں گی، ہم نے سوچا جب وقت ملے گا کال کر لیں گی، جب کال نہ آئی تو انہیں میسج کیا کہ ایک صحافتی سلسلے میں آپ کے دو منٹ درکار ہیں۔ دن گزر گیا جواب نہیں آیا۔ دن گزرتے گئے جواب نہیں آیا۔ خیر، بات آئی گئی ہو گئی۔ ایک دن ایک بڑے اخبار کے ایڈیٹر کو ہم نے گپ شپ کے دوران یہ قصہ سنایا تو انہوں نے ایک بھرپور قہقہہ لگایا اور فرمانے لگے کہ "آپ تو ایک معصوم سے کالمسٹ ہیں، میرے جیسا پھنے خان ایڈیٹر بھی مِن و عن اسی تجربے سے گزر چکا ہے لیکن کبھی کسی سے اس کا ذکر نہیں کیا، اپنی توہین محسوس ہوتی ہے۔" بہرحال ایڈیٹر صاحب کی بات سن کر یہ تسلی تو ہو گئی کہ ہمارے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا گیا۔پچھلے ہفتے ایک سیاسی مجلس میں حاضری کا موقع ملا، سب جماعتوں کے نمائندے موجود تھے مگر مسلم لیگی راہ نما اکثریت میں تھے اور سب کے سب اپنی ہی حکومت سے گلہ مند تھے، شکایات کے دفتر تو ضخیم تھے مگر خلاصہ یہ تھا کہ ان کا بھی "کوئی فون نہیں سنتا"۔ پنجاب حکومت کے ایک وزیر اپنی باریابی کی درخواستوں کے طویل مراحل کا قصہ سناتے رہے، پنجاب اسمبلی کے لیگی ممبرز کی کہانی اور بھی درد ناک تھی۔ سب اس نقطے پر متفق تھے کہ جب فیصلہ سازی کی اگلی صف میں غیر منتخب افراد کھڑے ہوتے ہیں تو یہی طرزِ سیاست ہوا کرتا ہے۔ ایک سابق وزیر فرمانے لگے کہ یہ حکومت "انتظامی" ہے، سیاسی نہیں۔ صوبے کو خالصتاً افسر شاہی سے چلایا جا رہا ہے، جسکا نتیجہ یہ ہے کہ پارٹی سیاسی طور پر ادھ موئی ہو چکی ہے۔ ہم نے بہ صد خلوص کوشش کی کہ لیگی حکومت کے حق میں ان لیگیوں سے ایک آدھ کلمہء خیر کہلوا سکیں، ہم نے وزیرِ اعلیٰ کے تحرک کی تحسین کی، درجنوں ترقیاتی منصوبوں کا تذکرہ کیا، مگر ہم کام یاب نہ ہو سکے۔ آخر ہم نے تُرپ کا پتہ کھیلا، حکومت کی میڈیا مینجمنٹ کی توصیف کی، ہمارا خیال تھا کہ ہم اس راؤنڈ سے فاتح نکلیں گے۔ ہمارے منہ سے فقرہ نکلتے ہی پنجاب ائر کا طیارہ محوِ پرواز ہو گیا اور کمرا دھویں سے بھر گیا۔ ایک سابق لیگی وزیر کہنے لگے مسئلہ یہ نہیں ہے کہ طیارہ خریدنے کا مضحکہ خیز دفاع کیا گیا، مسئلہ یہ ہے کہ اس سے پوری حکومت کی سیاسی سوجھ بوجھ عیاں ہوتی ہے، آخر کسی سیانے نے طیارے کی خریداری کی "حقیقی" وجہ سوچی ہو گی، کسی نے اس کی تائید کی ہو گی، اور پھر کسی نے اس کی حتمی منظوری دی ہو گی۔ ہم نے انہیں یاد دہانی کرائی کہ اس ٹیم میں انتہائی تجربہ کار اور ذہین میڈیا مشیر پرویز رشید بھی شامل ہیں، جس پر ترنت جواب آیا کہ "وہ نہ لینے میں نہ دینے میں، ان سے کون مشورہ کرتا ہے۔" بہرحال، ہم اس محفل سے سر سہلاتے نکلے۔دنیا بھر میں اندازِ حکم رانی تبدیل ہو رہے ہیں، جمہوریت کی منڈی میں مندی کا رجحان ہے، عوامی ادارے کم زور ہو رہے ہیں، انتظامیہ غلبہ حاصل کرتی چلی جا رہی ہے۔ ہمارے ہاں جمہوری ادارے تو ہمیشہ سے ڈھلمل رہے ہیں، ایک سانپ اور سیڑھی کا کھیل ہی چلتا رہا ہے، پہلے یہ بساط پسِ پردہ سجائی جاتی تھی، مگر پچھلے قریباً دس برس سے تو یہ کھیل سرِ بام کھیلا جا رہا ہے، قبولیت اور مقبولیت کی بحث سرگوشیوں سے جلی سرخیوں تک آ پہنچی ہے، یہ نظام اپنے راز اگل چکا ہے، اب کچھ بھی اخفا میں نہیں رہا، اس نظام کو کوئی پوشیدہ مرض لاحق نہیں ، جو عارضہ ہے وہ نظر آ رہا ہے، جیسے لقوہ ہوتا ہے، آر ٹی ایس بیٹھ جائے تو فارم 47 کا قضیہ کھڑا ہو جایا کرتا ہے، اگر آپ لاہور سے موٹر وے پر جائیں گے تو بھیرہ کے بعد کلر کہار ہی آئے گا، جنیوا نہیں آئے گا، یہ ایک مخصوص سمت میں سفر ہے، اس میں اگلے پڑاؤ کا اندازہ ہو جایا کرتا ہے۔ ہر حکومت کے قائم ہونے اور برقرار رہنے کی کچھ وجوہ ہوا کرتی ہیں، افقی یا عمودی وجوہ، یعنی عوام یا کوئی دست گیر۔ وہ وجہ برقرار رہنا حکومت کے پائے دار مستقبل کی ضمانت ہوتی ہے باقی سب فروعی مسائل ہیں۔وہ دوست جنہوں نے زندگی بھر عوام کی حکم رانی کے خواب دیکھے اور دکھائے، اس منظر سے دل شکستہ ہو جاتے ہیں، سچی بات تو یہ ہے کہ ہم بھی کبھی کبھی بد دل ہو جاتے ہیں، مگر بہرحال اتنے بد دل نہیں ہوتے جتنے بڑے میاں صاحب ہو گئے ہیں۔ یہ منظر میاں نواز شریف کو عمر بھر کے سفر کی رائیگانی کا احساس دلاتا ہو گا، جیسے میاں صاحب کے ایک پرانے سیاسی ساتھی کہہ رہے تھے کہ میاں صاحب نے اپنا سیاسی سفر جہاں سے شروع کیا تھا وہیں پر ختم کیا ہے، اگر میاں صاحب کو معلوم ہوتا کہ یہ سفر یہاں تمام ہونا ہے تو پھر کیا ضرورت تھی تین دفعہ وزارتِ عظمیٰ سے نکلنے کی، جیلوں کی، جلا وطنیوں کی۔ ان شرائط کو اگر پہلے قبول کر لیا جاتا تو شاید میاں صاحب کی 1990 کی حکومت ہی آج تک چل رہی ہوتی۔ بہرحال، سب اشارے بتا رہے ہیں کہ میاں صاحب اس وقت شدید بد دلی اور تنہائی کا شکار ہیں۔ ویسے تو اپنے حامیوں کا حوصلہ بڑھانا لیڈر کا کام ہوتا ہے، لیکن اس وقت شاید ضرورت ہے کہ میاں صاحب کے حامی ان کا حوصلہ بڑھائیں۔ جمہوری عمل اس وقت سستا رہا ہے، لیکن یہ سدا ایسا نہیں رہے گا۔ جب سیاسی عمل دوبارہ تیز ہو گا اس وقت آپ کی پارٹی کس حال میں ہو گی؟ اس وقت انتظامی حکومتیں تو چل ہی رہی ہیں مگر آپ کی سیاست کا کوئی پُرسانِ حال نہیں ہے۔ لہٰذا...حوصلہ کریں، میاں صاحب۔

تازہ ترین