ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے نئے راستے متعین کرتے ہوئے رہنمائی جاری کر دی ہے جبکہ اس اہم گزرگاہ کے مکمل طور پر کھلنے اور جنگ بندی کی شرائط کے حوالے سے ابہام برقرار ہے۔
تہران کی جانب سے مستقبل میں ٹرانزٹ فیس عائد کرنے کے امکان کا بھی عندیہ دیا گیا ہے۔
ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے نئی نیویگیشنل ہدایات جاری کی ہیں جن کا مقصد سمندری بارودی سرنگوں سے بچاؤ میں مدد فراہم کرنا ہے۔
جاری کردہ نقشوں میں عالمی سطح پر نہایت اہم اس بحری راستے میں مخصوص گزرگاہیں متعین کی گئی ہیں، جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔
تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر جہازوں کے لیے کھول دی گئی ہے یا نہیں۔
گزشتہ شب آنے والی رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ ایران نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کے ردِعمل میں اس اہم آبی گزرگاہ کو بند کر دیا تھا، جسے تہران نے امریکا کے ساتھ طے شدہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا۔
گزشتہ روز اعلان کیے گئے معاہدے کے تحت امریکا اور اسرائیل کو ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں روکنا تھیں، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کی اجازت دینے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔
دو ہفتوں پر مشتمل اس جنگ بندی کا مقصد خطے میں طویل المدتی امن کے لیے مذاکرات کا موقع فراہم کرنا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ جہازوں کو سمندری سلامتی یقینی بنانے اور بارودی سرنگوں سے ممکنہ تصادم سے بچنے کے لیے نئے ٹریفک پیٹرنز کی پابندی کرنا ہو گی۔
ہدایات میں تجارتی جہازوں کے لیے مخصوص داخلی اور خارجی راستے بھی واضح کیے گئے ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا کہ پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے جہازوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ آبنائے سے گزرتے وقت اس کی افواج کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں۔
مجوزہ منصوبے کے تحت بحیرۂ عمان سے داخل ہونے والے جہازوں کو جزیرہ لارک کے شمال سے گزرتے ہوئے خلیج میں داخل ہونا ہو گا، جبکہ خلیج سے نکلنے والے جہازوں کو جزیرے کے جنوب سے گزر کر بحیرۂ عمان کی جانب بڑھنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ خطرناک علاقوں سے بچا جا سکے۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق ہوا ہے، جس میں پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق یہ معاہدہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور گیس کی ترسیل پر عائد رکاوٹ ختم کرنے سے مشروط تھا۔
ایک ایرانی عہدیدار نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کو جزوی طور پر جمعے تک کھولا جا سکتا ہے اور یہ عمل ایرانی نگرانی میں ہو گا۔
ایران نے اشارہ دیا ہے کہ کسی بھی طویل المدتی امن معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کی جا سکتی ہے۔