یورپ کے ہوائی اڈوں کو جیٹ فیول کی شدید قلت کا سامنا ہو سکتا ہے، جس سے خطے بھر میں فضائی سفر متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
یورپی ہوائی اڈوں کی نمائندہ تنظیم ایئرپورٹ کونسل انٹرنیشنل یورپ (اے سی آئی) نے ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث یورپین کمیشن کے اعلیٰ حکام کو خط لکھ دیا۔
اپنے خط میں تنظیم نے لکھا کہ اگر اگلے تین ہفتوں کے اندر آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل معمول پر نہیں آئی تو یورپین یونین میں جیٹ فیول کی سنگین کمی حقیقت بن سکتی ہے۔
خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ فضائی روابط میں کمی ناگزیر ہوگی، جس سے یورپی معیشت کو شدید نقصان پہنچے گا اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے وسیع تر معاشی اثرات مزید سنگین ہو جائیں گے۔
اے سی آئی نے مزید کہا کہ گرمیوں کے سیزن کی آمد جب سیاحت کے باعث فضائی سفر میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے، ان خدشات میں مزید اضافہ کر رہی ہے، کیونکہ سیاحت کئی یورپی معیشتوں کے لیے نہایت اہم ہے۔
تنظیم نے آئندہ چھ ماہ کے دوران جیٹ فیول کی فراہمی کی ’فوری نگرانی‘ سمیت دیگر اقدامات کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب ایشیا پیسیفک کی کچھ ایئرلائنز، نے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پروازیں کم کرنا شروع کر دی ہیں۔ اسی طرح امریکہ کی ڈیلٹا ایئر لائن نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ایندھن کی صورتحال بہتر ہونے تک پروازوں کی تعداد کم کرے گی۔
انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے مطابق، عالمی سطح پر جیٹ فیول کی اوسط قیمت گزشتہ ایک سال کے دوران دگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔