• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حرف آغاز…

(گزشتہ سے پیوستہ)

حکومت نے حکم جاری کر دیا ہے کہ تمام مارکیٹیں اور ریسٹورنٹس رات 10بجے بند کر دیے جائیں گے۔ ہمارے ملک کے حالات 78برسوں میں ٹھیک نہیں ہو سکے۔ کوئی نہ کوئی بحران چلتا رہتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہمارے ملک پر کسی آسیب کا سایہ ہے ۔کبھی سیلاب کبھی بارشیں کبھی خشک سالی اورکبھی آٹے اور چینی کا بحران ۔کبھی پیٹرول کامسئلہ کبھی بجلی اور سوئی گیس کی لوڈ شیڈنگ ،سرکاری ہسپتالوں میں بیڈز نہیں ملتے ،ادویات نہیں ملتیں، سرکاری اسکول حکومت سے چل نہیں رہے ان کو آؤٹ سورس کیا جا رہا ہے، نئے ا سکولز بن نہیں رہے، پرانے اسکولز چل نہیں رہے، اساتذہ کے مسائل، خوراک معیاری نہیں مل رہی، دودھ خالص نہیں ملتا ،آئے دن فوڈ اتھارٹی والے چھاپے مارتے رہتے ہیں۔ سبزیاں گندے پانی میںاگائی جا رہی ہیں۔ کوئی مٹھائی کی دکان شاید ہی اصل فوڈ کلر استعمال کرتی ہو ۔اندرون لاہوربھی کھانے پینے کی غیر معیاری اشیاء مل رہی ہیں، پیرا فورس لوگوں کو کام نہیں کرنے دیتی، انکم ٹیکس اور ایکسائز والے لوگوں کو ویسے ہی پریشان کیے رکھتے ہیں۔ حکومت کہتی ہے کہ 10 بجے رات کو تمام ریسٹورنٹس، ہوٹل اور بیکریاں بند کر دو ۔ہمارے ملک میں کسی بھی حکومت نے کبھی بھی کسی ایمرجنسی کے لیے کوئی پلاننگ نہیں کی ۔موجودہ حکومت کے وعدے تو بہت ہیں مگر عملاََ عوام اس وقت کئی مشکلات کا شکار ہیں۔ ریسٹورنٹس اور ہوٹلوں کا اصل کھانے پینے کا کام ہی آٹھ بجے رات کے بعد شروع ہوتا ہے۔ بہت سارے ریسٹورنٹس میں دوپہر اور شام کوئی گاہک نہیں ہوتا، اب بھلا حکومت سے کوئی پوچھے صرف دو گھنٹے میں کوئی ریسٹورنٹ، ہوٹل اپنے اخراجات پورے کر سکتا ہے؟ ۔ ان حالات میں وہ کس طرح ریسٹورنٹ کے اخراجات، کرایہ، بجلی گیس کا بل ،پانی کا بل دے سکتا ہے ۔دوسری طرف آپ تمام ریسٹورنٹ سے بجلی گیس اور پانی کے کمرشل چارجز وصول کرتے ہیں ۔طرح طرح کے ٹیکس علیحدہ ہیں، اب اگر ایک ریسٹورنٹ میں کوئی فیملی نو بجے یا ساڑھے نو بجے آتی ہے تو وہ بھلا کس طرح 10بجے تک اپنا کھانا کھا کر جا سکتی ہے ۔دوسری طرف اگر آپ ڈی ایچ اےمیں میز کرسیاں باہر لگاتے ہیں تو اس کا ماہانہ 40 ہزار روپے علیحدہ کرایہ دینا پڑتا ہے ۔دوسری طرف اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نو بجے کے بعد کسی گاہک کو ریسٹورنٹ میں نہ آنے دیں اور 10 بجے ریسٹورنٹ بند کر دیں۔ ا ب یہ لوگ ریسٹورنٹ بند کر رہے ہوتے ہیں تو اوپر سے پولیس آ جاتی ہے۔ اس وقت عملی طور پر حالات یہ ہیں کہ حکومت نے جب سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہوش ربااضافہ کیا ہے اس کا اثر سب سے زیادہ محنت کشت طبقہ اور کاروباری لوگوں پر پڑا ہے ۔اسلام آباد کے ایک بلڈر عثمان قریشی ہمیں بتا رہے تھے کہ ان کا روزانہ کا ڈیزل مختلف پروجیکٹس پر پہلے 30 لاکھ کا لگتا تھا اب وہ 60 لاکھ کا ہو گیا ہے اورمزدوروں نے پرانے ریٹ پر کام کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔ہم جس طرح عرض کر رہے تھے کہ سوئی گیس کی لوڈ شیڈنگ کے باعث تمام ریسٹورنٹس کو گیس کے سلنڈرز خریدنے پڑتے ہیں پھر بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہو جائے تو جنریٹرز چلانے پڑتے ہیں، مارکیٹ سے سبزی،مرغی اور دیگر اشیاء جب لینے جاتے ہیں تو روزانہ ہی ان کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے کو ملتاہے ہمارے ملک میں آج تک جو بھی چیز ایک مرتبہ مہنگی ہوئی ہے پھر اس کی قیمت کبھی دوبارہ پرانی قیمت پر نہیں آئی ۔ایک اور بات ، پلازوں کے مالکان حکومت کو ٹیکس تو پورا نہیں دیتے مگر ہر سال کرائے میں دس سے پندرہ فیصد اضافہ کر دیتے ہیں۔ اسی طرح بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے ریسٹورنٹ میں اگر کھانے پینے کی اشیاء کو مہنگاکیا جاتا ہے تو گاہک اس اضافے کو قبول کرنے کو تیار نہیں اور پھر حکومت کہتی ہے کہ 10 بجے ریسٹورنٹس بند کر دو۔ حکومت حقائق کو سامنے رکھے اور ریسٹورنٹس کو کم از کم رات کے11 یا12بجے تک کاروبار کرنے کی اجازت دے اور پھر جو گاہک بیٹھے ہوئے ہیں ان کے بیٹھے ہوئےگاہکوںپر پولیس اور دیگر اداروں کو کوئی کارروائی نہیں کرنی چاہیے۔ ہوٹل انڈسٹری کے ساتھ اس وقت لاکھوں گھرانے جڑے ہوئے ہیں حکومت ان کو ریلیف دینے کی بجائے پریشان کر رہی ہے ایک طرف حکومت کفایت شعاری کی بات کرتی ہے تو دوسری طرف تیس تیس گاڑیوں کاپروٹوکول چل رہا ہوتا ہے کیا یہ توانائی کا ضیاع نہیں ؟ایلیٹ کلاس کے بچوں کو اسکولوں سے لانے لے جانے کے لیے اسی طرح سرکاری گاڑیوں کا استعمال ہو رہا ہے۔ ابھی حال ہی میں ہمیں ایچیسن کالج جانے کا اتفاق ہوا تو دوسرکاری گاڑیوں کے ڈرائیورز گاڑیوں کے انجن اسٹارٹ اور اے سی آن کر کے بیٹھے ہوئے تھے کیا اس طرح کفایت شعاری کی جاتی ہے، روزانہ کتنی کتنی دیر عوام پروٹوکول کے چکروں میں سڑکوں پر ذلیل ہوتے ہیں مگر کوئی کچھ نہیں کرتا ۔یقین کریں عوام نے اپنے کھانے پینے اور سفر پر کٹ لگا لیا ہے اب وہ بچوں کو ایک ویک اینڈ پر کہیں لے کر نہیں جاتے حکومت کاروباری لوگوں کو سہولت دے۔ ہوٹل انڈسٹری سے حکومت کروڑوں روپے ٹیکس وصول کرتی ہے اگر ایسے حالات رہے تو وہ کاروبار کیسے کریں گے۔ اس سلسلے میں حکومت لاہور چیمبر آف کامرس کے ساتھ مل کر کوئی طریقہ کار وضع کرے۔ ریسٹورنٹس ایسوسی ا یشنز کے نمائندوں کو بلا کر ان سے مذاکرات کر کے بہتر راستہ اپنائیں۔اب جبکہ ایران اور امریکہ میں پاکستان کی کوششوں بالخصوص فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی حکمت عملی سےجنگ بندی ہو گئی ہے تو حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میںکمی کی ہے حکومت کاروباری اوقات کو بھی معمول کے مطابق کر ے ۔فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے پاکستان کی ترقی اور عالمی سطح پر اس کا مقام بڑھانے میں قابل فخر کردار ادا کیا ہے۔ ایک طرف آپ کی پیرا فورس ہے جس کے اہلکار غریب ریڑھی والوں کا سامان تک الٹا دیتے ہیں۔ حکومت نے ان کو چالان کی اجازت دی ہے مارپیٹ اور ان کا سامان الٹانے کی بالکل اجازت نہیں دی (جاری ہے)۔

تازہ ترین