پاکستان کے بیرونی قرضے 138 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جو دسمبر 2024ءمیں 130ارب ڈالر تھے۔ ان بیرونی قرضوں میں آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، اے ڈی پی اور کمرشل قرضوں کے علاوہ سعودی عرب کے 5ارب ڈالر، یو اے ای کے 3.5 ارب ڈالر اور چین کے 4 ارب ڈالر کے مجموعی 12 ارب ڈالر کے سیف ڈپازٹس بھی شامل ہیں۔ یہ ڈپازٹس آئی ایم ایف کے جولائی 2023 کے 7 ارب ڈالر کے SBA پروگرام کیلئے اسٹیٹ بینک کے 12.5 ارب ڈالر ڈپازٹس برقرار رکھنے کی شرط کو پورا کرنے کیلئے چین، سعودی عرب اور یو اے ای سے لئے گئے تھے اور ہر سال ان کو رول اوور کیا جارہا تھا لیکن 16 اور 22جنوری کو یو اے ای نے اپنے 3.5ارب ڈالر کے ڈپازٹس جو 6.5 فیصد شرح سود پر رکھے تھے، کو صرف ایک مہینے کیلئے رول اوور کیا حالانکہ حکومت پاکستان نے انہیں ایک سال کیلئے 3 فیصد شرح سود پر رول اوور کرنے کی درخواست کی تھی لیکن حالیہ مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث یو اے ای نے ان ڈپازٹس کو فوری واپس لینے کا فیصلہ کیا۔ واپس کئے جانیوالے 3.5ارب ڈالر کے ڈپازٹس میں 450ملین ڈالر کا ایک قرضہ جو 1996-97 ءمیں لیا گیا تھا، بھی 30سال بعد اپریل 2026ءمیں واپس کیا جارہا ہے جو باعث تشویش ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کا ایک ارب ڈالر کا5 سالہ یورو بانڈ بھی اپریل 2026ءمیں ادائیگی کیلئے میچور ہورہا ہے جسکی سود کیساتھ 1.3 ارب ڈالر کی ادائیگی کرنی ہے جسکے بعد جولائی 2026 میں 300 ملین ڈالر کا یورو بانڈ بھی ادائیگی کیلئے میچور ہورہا ہے۔اس طرح پاکستان اپریل 2026 میں مجموعی 4.8 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں کریگا جبکہ سعودی عرب اور چین اپنے ڈپازٹس کو رول اوور کرنے کیلئے تیار ہوگئے ہیں۔ خوش قسمتی سے اس وقت پاکستان کے بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر 21.7ارب ڈالر کی سطح پر مستحکم ہیں جن میں 16.4ارب ڈالر اسٹیٹ بینک اور 5.3 ارب ڈالر کمرشل بینکوں کے ہیں لہٰذا پاکستان اپریل کے وسط میں یو اے ای اور یورو بانڈ کی 3.6 ارب ڈالر کی ادائیگی کرسکتا ہے لیکن ان ادائیگیوں سے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر پر دبائو بڑھ جائے گا کیونکہ آنے والے وقت میں مشرق وسطیٰ جنگ کے باعث بیرون ملک سے آنے والی ترسیلات زر میںکمی متوقع ہے۔ پاکستان کی مجموعی ترسیلات زر 38.3 ارب ڈالر کا 50 فیصد سے زائد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک سے آتا ہے۔ گزشتہ مالی سال خلیجی ممالک سے 20.72 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئی تھیں جبکہ امریکہ، برطانیہ، یورپی یونین اور دیگر ممالک سے 17.58 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں۔ بیورو آف امیگریشن اینڈ اووورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق پاکستان سے 90فیصد لوگ ملازمتوں کیلئے خلیجی ممالک گئے جس میں سعودی عرب 54.5 فیصد، متحدہ عرب امارات 31.3 فیصد اور دیگر خلیجی ممالک 14 فیصد افراد شامل ہیں لیکن اگرموجودہ صورتحال کی وجہ سے خلیجی ممالک سے پاکستانی ورکرز واپس آتے ہیں تو ترسیلات زر میں کمی کے ساتھ ملک میں بیروزگاری، مہنگائی (افراط زر) میں اضافہ اور روپے کی قدر میں کمی آئے گی۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھ جانے سے پاکستان کے امپورٹ بل میں اضافہ ہوگا جو ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کا باعث بنے گا۔ اس موقع پر بیرونی ممالک کے ڈپازٹس کی ادائیگی زرمبادلہ کے ذخائر کو غیر مستحکم کرسکتی ہے اور روپے پر دبائو بڑھ سکتا ہے لہٰذا آئی ایم ایف سے کئے گئے معاہدے کی رو سے 12.5 ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر کی حد کو برقرار رکھنے کیلئے ہمیں آئی ایم ایف کو قائل کرنا ہوگا کہ وہ زرمبادلہ کے ذخائر کی حد میں نرمی کرے۔
موجودہ صورتحال میں پاکستان نے سعودی عرب سے 5 ارب ڈالر سیف ڈپازٹس اور 5 ارب ڈالر ادھار تیل کی درخواست کی ہے۔ اس وقت سعودی عرب پاکستان کو 1.5 سے 3 ارب ڈالر سالانہ ادھار تیل فراہم کررہا ہے۔ معیشت کے طالبعلم کی حیثیت سے بیرونی ادائیگیاں، ترسیلات زر میں کمی، تیل کی قیمتوں اور تجارتی خسارے میں اضافہ اور زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی وہ متوقع مسائل ہیں جو پاکستان کی معیشت کو براہ راست غیر مستحکم کرسکتے ہیں۔ ہمیں یو اے ای سے بھی اپنے تعلقات مزید بہتر بنانے ہوں گے۔ یو اے ای میں اس وقت 15 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں جو ہر سال 7 ارب ڈالر ترسیلات زر پاکستان بھیجتے ہیں۔ مشرف دور حکومت میں متحدہ عرب امارات، پاکستان میں سب سے بڑا سرمایہ کار ملک تھا اور 26 اماراتی کمپنیوں نے پاکستان میں 7 سے 8 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی جس میں بینک الفلاح، اتصالات (PTCL)، ابوظہبی پورٹ، Emaar، دبئی اسلامک بینک، ڈانا گیس، Warid اور وطین قابل ذکر ہیں۔ یو اے ای اسلام آباد ایئرپورٹ، فرسٹ وومین بینک، کراچی پورٹس اور مائننگ میں دلچسپی رکھتا ہے۔ میری وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو تجویز ہے کہ پاکستان، متحدہ عرب امارات کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لے۔