پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمٰن کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا رک جانا بدقسمتی ہے کیونکہ یہ وقت دراصل ایک اسٹریٹجک وقفے کا ہونا چاہیے تھا۔
برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ کوئی بھی بڑا سفارتی نتیجہ ایک ہی نشست میں حاصل نہیں ہوتا، چاہے وہ کئی گھنٹوں پر محیط کیوں نہ ہو۔
شیری رحمٰن کا کہنا ہے کہ ابتدائی مذاکرات میں مسودوں کا تبادلہ اور ایک دوسرے کے مؤقف کو سمجھنا اہم پیشرفت ہوتی ہے، تحمل اور صبر ہی وہ عوامل ہیں جو جنگ بندی یا وقفہ فراہم کر کے بات چیت کو آگے بڑھانے میں مدد دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماضی کے تجربات کے مطابق مذاکرات ایک طویل عمل ہوتا ہے جس میں کئی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، اختلافی نکات کے حل کے لیے دونوں فریقین کو مناسب وقت اور جگہ دینا ناگزیر ہوتا ہے۔
شیری رحمٰن کا یہ بھی کہنا ہے کہ تحمل اور وقت کی کمی صورتِ حال کو طویل اور تباہ کن تنازع کی طرف دھکیل سکتی ہے جو خطے اور دنیا کے لیے نقصان دہ ہے۔