خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی نے مسلم لیگ ن کے رکن جلال خان کو بات کرنے سے روک دیا۔
کے پی اسمبلی اجلاس پیر کو اسپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت ہوا۔
ٹوبیکو سے متعلق بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر جلال خان نے احتجاج کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میری ٹوبیکو سے متعلق کچھ تجاویز ہیں، بات کرناچاہتا ہوں، اسپیکر صاحب آپ مجھےبولنے نہیں دے رہے، یہ غلط ہے۔
اس پر اسپیکر بابر سلیم سواتی نے کہا کہ آپ کا رویہ ٹھیک نہیں، اس لیے آپ کے بولنے پر قدغن ہے۔ احمد کریم کنڈی نے کہا اگر رکن اسمبلی مس کنڈکٹ کرے تو نہ بولنے دیں، مگر ٹوبیکو پر تجاویز سننی چاہیے۔
اسپیکر سلیم سواتی نے کہا کہ اس معاملے پر میٹنگ کریں گے، پھر کل یا پرسوں فیصلہ ہوگا، جلال خان یہ آپ کے حلقے اور کمیٹی کا معاملہ ہے، ایوان میں بحث، مکالمہ اور میرٹ ہونا چاہیے، لغویات کی گنجائش نہیں۔
اسپیکر سلیم سواتی نے مزید کہا کہ ایوان میں غیر مناسب گفتگو کی اجازت نہیں، اسی لیے قدغن لگائی گئی۔ انھوں نے کہا کل بیٹھ کر معاملہ دیکھیں گے، پھر پابندیاں ہٹائیں گے۔
مسلم لیگ ن کے رکن جلال خان نے کہا تمباکو سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس کو سراہنا چاہتا تھا، جس پر اسپیکر نے انھیں جواب دیا کہ آپ باہر جا کر سراہیں۔