• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

9 ماہ کے دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ 32 ارب 19 کروڑ ڈالر ہوچکا: قائمہ کمیٹی بریفنگ

نوید قمر قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو: فائل
نوید قمر قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو: فائل

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ 9 ماہ کے دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ 32 ارب 19 کروڑ ڈالر ہوچکا ہے۔ 

چیئرمین نوید قمر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا جس میں بتایا گیا کہ پہلے نارمل ٹیکس رجیم تھا، پھر ایک فیصد سسٹم آیا اور اب دونوں لاگو ہیں۔

کمیٹی چیئرمین نے کہا کہ ایک وقت تھا جب کہتے تھے نیب اور پاکستان ساتھ نہیں چل سکتے، اب ایف بی آر اور پاکستان ساتھ نہیں چل سکتے۔

بریفنگ کے دوران کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ فروری 2026 تک گیس اور پاور سیکٹر کا گردشی قرض 5.1 ٹریلین روپے ہوچکا ہے۔

اس موقع پر ماہر معیشت علی سلمان کا کہنا تھا کہ گیس شعبے کا گردشی قرض تقریباً دو گنا ہوچکا ہے۔

اجلاس کے دوران کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ اب شرح سود 10.5 فیصد سے بڑھ کر 11.5 فیصد ہو چکی ہے، نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 12.5 فیصد تک پہنچ گئی۔ ملک میں نوجوان خواتین میں بے روزگاری کی شرح 13 فیصد سے زائد ہوگئی ہے۔ 

بریفنگ کے دوران یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ غربت کی شرح 2018 کے 22 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد ہوگئی ہے۔ ایس پی ڈی سی کے مطابق غربت کی شرح 43.5 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں عدم مساوات کی شرح 33 اعشاریہ 5 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

اجلاس کے دوران کمیٹی کو بتایا گیا کہ غیرقانونی تجارت اور جعلی مصنوعات معیشت کے لیے بڑا خطرہ ہیں، اسمگلنگ اور جعلی مارکیٹس ٹیکس نظام اور مقامی صنعتوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔

اس دوران یہ بھی بتایا گیا کہ سیلاب، علاقائی کشیدگی اور زرعی اخراجات میں اضافے سے غذائی تحفظ کو خطرات لاحق ہیں۔ خوراک کی بڑھتی قیمتیں اور موسمی چیلنجز غذائی بحران کا سبب بن رہے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید