دہشت گردی کے خلاف بلوچستان کی سیاسی قیادت نے متحد ہو کر گزشتہ روز کوئٹہ میں ہونے والے دھماکوں پر شدید ردِ عمل دیا ہے۔
اپنے بیان میں بلوچستان کی سیاسی قیادت نے فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کو عبرت ناک انجام تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
رکنِ بلوچستان اسمبلی مینا مجید بلوچ کا کہنا ہے کہ مسافروں، خواتین اور بچوں پر حملہ انسانیت پر حملہ ہے، عورتوں اور بچوں کا خون بہا کر بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردوں کے مکروہ عزائم بے نقاب ہو رہے ہیں۔
ممبر قومی اسمبلی نوابزادہ جمال خان رئیسانی نے کہا ہے کہ نہتے مسافروں پر حملہ انسانیت اور بلوچ روایات پر حملہ ہے۔
اقلیتی سینیٹر دنیش کمار کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے عوام دہشت گردوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہیں، نہتے شہریوں کا خون بہانے والوں کے لیے اس سر زمین پر کوئی جگہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پوری قوم سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے۔
صوبائی مشیرِ ترقیٔ نسواں ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے کہا کہ نہتے شہریوں کو نشانہ بنانا بزدلانہ عمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے شہداء کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی ہے اور میں زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہوں۔
رکنِ قومی اسمبلی میاں خان بگٹی نے کہا کہ کوئٹہ دہشت گرد دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
صوبائی وزیر میر ظہور بلیدی نے کہا کہ حملے میں خواتین اور بچوں سمیت معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والے دہشت گردوں کا نہ کوئی مذہب ہے اور نہ کوئی قومیت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ بیرونی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے ایسے گھناؤنے حملے کرتے ہیں۔
میر ظہور احمد بلیدی یہ بھی کہا کہ بلوچستان کے غیور عوام دہشت گردی کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہیں۔