مشرقی بحرالکاہل میں امریکی فوج نے ایک اور کارروائی کرتے ہوئے ایک کشتی کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک ہو گئے۔
امریکی سدرن کمانڈ نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد ’نارکو دہشت گرد‘ تھے تاہم اس حوالے سے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
بیان کے مطابق کشتی منشیات اسمگلنگ کے معروف راستے پر سفر کر رہی تھی جسے فضائی حملے میں تباہ کیا گیا، واقعے کی ایک مختصر ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے جس میں کشتی کو آگ کی لپیٹ میں آتے دیکھا جا سکتا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق یہ لگاتار دوسرا دن ہے جب امریکی فوج نے بحرالکاہل میں کشتیوں پر حملے کیے ہیں، اس سے ایک روز قبل بھی 2 کشتیوں کو تباہ کیا گیا تھا جس میں 5 افراد ہلاک اور 1 شخص زخمی ہوا تھا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ستمبر سے اب تک بحرالکاہل اور کیریبین میں امریکی کارروائیوں میں کم از کم 170 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ان کارروائیوں پر بین الاقوامی قانون کے ماہرین، انسانی حقوق کی تنظیموں اور خطے کے بعض ممالک نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ حملے بین الاقوامی پانیوں میں ماورائے عدالت قتل کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور ممکن ہے کہ ان میں عام شہری، خصوصاً ماہی گیر نشانہ بن رہے ہوں۔
دوسری جانب امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں لاطینی امریکا میں منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف مہم کا حصہ ہیں تاہم اب تک کسی بھی حملے کے حوالے سے ٹھوس شواہد سامنے نہیں لائے گئے۔